بلال فرقانی
سرینگر // جمعرات کی شب طوفانی ہوائوں نے جموں و کشمیر میں تباہی مچا دی۔ جمعرات کی شام سے تیز ہوائیں چلیں، جس سے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور بجلی کی سپلائی میں خلل پڑا ۔اس دوران ایک لڑکی سمیت 4افراد زخمی ہوئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جمعہ کی شام دیر گئے شوپیاں میں 155کلو میٹر فی گھنٹہ، پونچھ میں 80کلو میٹر فی گھنٹہ، ریاسی میں 76کلو میٹرفی گھنٹہ ، جموں میں 63کلو میٹر فی گھنٹہ اور سری نگر میں 84کلو فی گھنٹہ شمالی کشمیر میں 40کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز آندھی چلی جس کا دورانیہ تقریباً اڈھائی گھنٹہ تک رہا جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔زیادہ تباہی شہر سرینگر میں ہوئی جہاں قریب 200سے زائد دکانوں اور مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔دیواروں کو لگی ٹین کی چادریں نیچے گریں، دکانوں کے سائن بورڈ ہوا میں اڑتے رہے۔ مکانوں پر لگے ٹین کی چادریں بھی زمین پر آگئیں۔
سینکڑوں کی تعداد میں درخت باور بجلی کے کھمبے اکھڑ گئے جس سے ہر طرف مخدوش صورتحال پیدا ہوئی۔بیشتر اندورنی سڑکیں بند ہوئیں، ٹریفک کا نظام ساکت ہوگیا اور کوئی بھی باہر نہیں نکل پایا۔ مہجور نگر کے علاقے میں ایک چھت اڑا گئی، جس سے چادریں ایک مصروف سڑک کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔سرینگر اور دیگر قصبوں میں دکانوں کے سائن بورڈز، فلیکس بورڈز اور دھاتی ہورڈنگز اکھڑ گئے جبکہ ٹین شیڈ کی باڑ اور عارضی رہائشی ڈھانچے کو یا تو جزوی طور پر نقصان پہنچا یا مکمل طور پر اکھڑ گیا۔ گرنے والی شاخیں، ڈھیلے دھاتی چادریں اور بکھرے ہوئے ملبے کی اطلاع متعدد علاقوں سے ملی، جس سے پیدل چلنے والوں اور گاڑی چلانے والوں کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ کئی بازاروں میں دکاندار رات گئے پہنچ گئے تاکہ مزید نقصانات سے بچ سکیں۔آندھی کے باعث وادی کشمیر میں بجلی کی سپلائی میں بھی بڑے پیمانے پر خلل پڑا۔ حکام نے بتایا کہ بجلی کی لائنوں پر درختوں اور دھاتی ڈھانچے گرنے کے بعد متعدد فیڈرز میں خرابیاں پیدا ہوئیں۔مختلف اضلاع سے موصول ہونے والی رپورٹوں میں مکانات، شیڈز اور عوامی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ حکام نے بتایا کہ بڈگام ضلع میں، آندھی کے دوران گرے ہوئے بجلی کے تار سے رابطے میں آنے کے بعد ایک شخص زخمی ہوا۔ کرن نگر میں ایک رہائشی مکان کی چھت گر گئی۔ کولگام کے کنڈ میں جمعرات کی دیر شام تیز ہوا کے دوران اخروٹ کے درخت کی ایک شاخ گرنے سے ایک 16 سالہ لڑکی شدید زخمی ہوگئی۔مورن پلوامہ میں چھٹ اڑنے سے غلام رسول ٹھوکر شدید طور پر زخمی ہوا۔