عظمیٰ نیوزسروس
جموں//چیف سیکریٹری اتل ڈلو نے سپریم کورٹ کی جانب سے تجویز کردہ روڈ سیفٹی اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیتے ہوئے اضلاع بھر میں حساس اور حادثات کے شکار سڑکوں کی نشاندہی کے لیے جی آئی ایس پر مبنی ڈیٹا کے وسیع استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی اس شناخت کے ذریعے ٹیکنالوجی اور زمینی سطح پر ہدفی مداخلتیں ممکن ہوں گی، جس سے یوٹی میں سڑک حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی۔ چیف سیکریٹری نے سپریم کورٹ کی روڈ سیفٹی سے متعلق ہدایات اور متعلقہ محکموں کی جانب سے ان پر عملدرآمد کی صورتحال کی تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ہدایت کے نفاذ کے لیے واضح، وقت بند روڈ میپ بلا تاخیر تیار کیا جائے۔انہوں نے دستیاب ٹرانسپورٹ اور ٹریفک ڈیٹا کو بروئے کار لاتے ہوئے ہدفی حفاظتی اقدامات، ٹریفک پولیس کی سٹریٹجک تعیناتی اور ان سڑک حصوں پر انجینئرنگ اصلاحات کی ہدایت دی جہاں حادثات کی شرح زیادہ ہے۔
روڈ سیفٹی میں بازداریت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے چیف سیکریٹری نے عادی اور سنگین ٹریفک خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی پر زور دیا۔ ان اقدامات میں ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی، رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی تنسیخ اور تیز رفتاری و ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کے خلاف دیگر قانونی کارروائیاں شامل ہیں۔چیف سیکریٹری نے i-RAD پورٹل پر دستیاب ڈیٹا کی بنیاد پر جموں و کشمیر میں سڑک حادثات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے دن کے اوقات، ماہانہ رجحانات، ضلع وار تقسیم، سڑکوں کی اقسام اور حادثات کی وجوہات پر مبنی تجزیہ کیا۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ، اوَنی لاواسا نے یوٹی میں i-RAD اور e-DAR پورٹلز کے کام کاج پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ جون 2022میں i-RAD پورٹل کے آغاز کے بعد سے جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر 20,135سڑک حادثات رپورٹ ہوئے جن میں 32,819افراد متاثر ہوئے۔ ان حادثات کے نتیجے میں 3,688اموات اور 29,131سنگین یا معمولی زخمی ہوئے۔مزید بتایا گیا کہ زیادہ تر حادثات بڑی شاہراہوں پر پیش آئے، خاص طور پر جموں، کٹھوعہ، ادھم پور اور راجوری اضلاع میں۔ ڈیٹا کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر حادثات سہ پہر 3بجے سے رات 9بجے کے درمیان ہوئے، جبکہ 2025میں رپورٹ ہونے والے تقریباً 50فیصد حادثات کی وجہ تیز رفتاری اور لاپرواہ ڈرائیونگ تھی۔ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے نفاذ سے متعلق اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن کے مطابق 2024میں 40,197چالان اور 2025میں 52,543چالان جاری کیے گئے، جن سے بالترتیب 10.15کروڑ روپے اور 15.88کروڑ روپے جرمانہ وصول ہوا۔ بڑی خلاف ورزیوں میں ہیلمٹ نہ پہننا، سیٹ بیلٹ کے بغیر ڈرائیونگ، موبائل فون کا استعمال، تیز رفتاری اور ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی شامل تھیں۔صرف 2025میں 1,528گاڑیاں ضبط، 1,641ڈرائیونگ لائسنس معطل، 10,439گاڑیاں بلیک لسٹ، 1,192رجسٹریشن سرٹیفکیٹس منسوخ اور 300روٹ پرمٹس رد کیے گئے۔اجلاس میں آئی جی پی ٹریفک ایم سلیمان نے انٹیگریٹڈ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے تحت نصب نگرانی کیمروں اور جموں و سری نگر کے بڑے چوراہوں پر انٹیلیجنٹ لائٹ ٹریفک سسٹم کے تحت ٹریفک سگنل کیمروں کے کام کاج سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ٹریفک پولیس نے 2023میں 12,36,380، 2024میں 15,03,901اور 2025 میں 14,92,591ای-چالان نافذ کیے، جن کے تحت بالترتیب 85.16کروڑ، 120.09کروڑ اور 145.12کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2025میں موٹر وہیکلز ایکٹ کی مختلف خلاف ورزیوں پر 15,947گاڑیاں ضبط کی گئیں۔اجلاس میں روڈ ایکسیڈنٹ وکٹم فنڈ کے نفاذ، شاہراہوں کے ساتھ ٹراما کیئر سہولیات کے قیام، کوٹ بھلوال میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈرائیونگ ٹریننگ اینڈ ریسرچ اور سانبہ میں انسپیکشن اینڈ سرٹیفیکیشن سینٹرکے کام کاج کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اضلاع میں روڈ سیفٹی آڈٹس کے انعقاد کے لیے ڈسٹرکٹ انفراسٹرکچر کوالٹی کنٹرول میکانزم کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔چیف سیکریٹری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مربوط نفاذ، انجینئرنگ حل، عوامی بیداری اور عدالتی و قانونی روڈ سیفٹی ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کے ذریعے جموں و کشمیر میں سڑک حادثات میں کمی اور قیمتی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔