علیحدہ ڈویژن کا درجہ دینے پر این سی اپنا موقف واضح کرے:محبوبہ مفتی
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز نیشنل کانفرنس سے مطالبہ کیا کہ وہ پیر پنجال اور چناب ویلی کو ڈویژن کا درجہ دینے کے دیرینہ مطالبے پر اپنا واضح اور غیر مبہم موقف سامنے لائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی نعرہ بازی نہیں بلکہ انتظامی ضرورت سے جڑا ہوا ہے۔یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ دونوں خطوں کا مطالبہ بالکل جائز ہے، کیونکہ یہاں کا دشوار گزار جغرافیہ، نازک ماحولیاتی صورتحال، دور دراز بستیاں اور بنیادی سہولیات تک محدود رسائی سنگین مسائل ہیں۔انہوں نے کہا، ’’پیر پنجال اور چناب ویلی کو شدید انتظامی نظراندازی کا سامنا ہے۔ ان علاقوں کی جغرافیائی ساخت، ماحولیاتی خطرات اور فیصلہ سازی کے مراکز سے دوری کے پیش نظر ڈویژن کا درجہ وقت کی اہم ضرورت ہے‘‘۔محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ اس معاملے پر پی ڈی پی کو نشانہ بنانے میں نیشنل کانفرنس اور بی جے پی ایک ہی صفحے پر ہیں۔ انہوں نے کہا ’’یہ ستم ظریفی ہے کہ جو جماعتیں سیاسی مفاد کے تحت علاقوں کی تقسیم کرتی رہی ہیں، وہ آج محروم طبقات کی آواز اٹھانے پر ہمیں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں‘‘۔تاریخی حوالہ دیتے ہوئے اور ڈکسن پلان کی حمایت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے، محبوبہ مفتی نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ کی خفیہ حمایت کے نتیجے میں ہی انہیں 1953میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج پیر پنجال اور چناب ویلی کے جائز مطالبات کو بھی تقسیم پسند قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے حد بندی کے نام پر پیر پنجال اور بالواسطہ طور پر چناب ویلی کے سیاسی اور انتظامی مفادات کو کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلے عوامی فلاح کے بجائے تنگ انتخابی مفادات کے تحت کیے گئے۔جموں و کشمیر کے سرحدی خطے ہونے کا ذکر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیر پنجال اور چناب ویلی جیسے علاقوں کو ماحولیاتی خطرات، اسٹریٹجک کمزوریوں اور بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے دوہرے چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے لیے خصوصی انتظامی توجہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد حکومتوں کو عوام کے حقوق اور وقار کو ترجیح دینی چاہیے۔ ’’اصل مسائل حل کرنے کے بجائے، پی ڈی پی کو صرف اس لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ دہائیوں سے نظرانداز کیے گئے لوگوں کی آواز بن رہی ہے۔‘‘محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ پیر پنجال اور چناب ویلی کو ڈویژن کا درجہ دینے کا مطالبہ انصاف اور بہتر حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ سیاست کا نہیں بلکہ انتظامی انصاف اور مساوی مواقع کا معاملہ ہے، اور پی ڈی پی ان دونوں خطوں کے عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی‘‘۔انہوںنے کہاکہ کشمیری پنڈتوں کو اپنا فیصلہ خود لینا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ ہم ان کی واپسی کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ وادی ان کے بغیر نامکمل ہے ۔پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ پنڈت برادری کے2ممبران کو اسمبلی میں نامزد کرنے کے بجائے وہ سیٹیں ان کے لیے مختص کی جانی چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ انہیں آنے دیں، الیکشن لڑیں۔ وہ ووٹ مانگیں گے اور مسلمان انہیں ووٹ دیں گے۔ اس طرح برادریاں اکٹھی ہوں گی۔محبوبہ مفتی نے سوال کیا کہ ممبئی یا کسی اور جگہ پر بیٹھے کسی کو اسمبلی میں نامزد کرنے کے فائدے پر کہا کہ اس طرح کے اقدام سے کمیونٹی( پنڈت برادری) کی صحیح معنوں میں نمائندگی یا فائدہ نہیں ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ عزت کے ساتھ واپس آئیں اور ہمارے ساتھ مل کر رہیں تاکہ کشمیر مکمل ہو جائے۔