یواین آئی
کوپین ہیگن// ڈونالڈ ٹرمپ کی ماگا (میک امریکہ گریٹ اگین) نعرے والی مشہور ٹوپیوں کی نقل کر دہ سرخ بیس بال کیپس ڈینش اور گرین لینڈ کی مخالفت کی علامت بن گئی ہیں جو امریکی صدر کی جانب سے منجمد علاقے پر قبضہ کرنے کی دھمکی کے جواب میں ہے۔”میک امریکہ گو اوے” کے الفاظ والی ٹوپیاں جو ٹرمپ کے “میک امریکہ گریٹ اگین” کے نعرے کی مزاحیہ نقل ہیں، کی کئی اقسام نے سوشل میڈیا اور عوامی مظاہروں میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ ان میں ڈنمارک کے دارالحکومت میں ہفتے کے آخر میں شدید سرد موسم میں منعقدہ ایک مظاہرہ بھی شامل ہے۔برفانی خطوں کے دفاع کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے یورپی حکومتیں ڈنمارک کی پشت پناہی اور اس بات سے خبردار کر رہی ہیں کہ گرین لینڈ کے خلاف خطرات مغربی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔ تاہم مظاہرین نے سفارتی کم اور مزاحیہ انداز زیادہ اپنایا۔”میں گرین لینڈ کے لیے اپنی حمایت ظاہر کرنا چاہتا ہوں اور یہ بھی کہ میں امریکہ کے صدر کو پسند نہیں کرتا،” کوپن ہیگن کے 76 سالہ رہائشی لارس ہرمانسین نے کہا جو ہفتے کے روز ایک احتجاج میں سرخ ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔طنزیہ ٹوپیاں کوپن ہیگن میں قدیم ملبوسات کی دکان کے مالک جیسپر رابی ٹونیسن نے بنائیں۔ حال ہی میں گرین لینڈ پر ٹرمپ انتظامیہ کی شدید بیان بازی سے قبل ابتدائی بیچز گذشتہ سال ناکام ہو گئے تھے۔ اب یہ ہر طرف سامنے آ رہی ہیں۔”جب امریکہ سے ایک وفد گرین لینڈ گیا تو ہمیں یہ احساس ہونے لگا کہ یہ غالباً مذاق نہیں تھا – یہ ریئلٹی ٹی وی نہیں، واقعی حقیقت ہے۔ تو میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں؟” کیا میں ایک اچھے پیغام کے ساتھ مزاحیہ انداز میں بات اور ملک کے باشندوں کو متحد کر کے یہ ظاہر کر سکتا ہوں کہ ڈینش لوگ گرین لینڈ کے لوگوں کی حمایت کرتے ہیں؟” 58 سالہ ٹونیسن نے کہا۔ٹوپیوں کی طلب میں اچانک اضافہ ہوا اور یہ ایک ہفتے کے آخر میں تیزی سے فروخت ہو گئیں۔ ٹونیسن نے کہا، انہوں نے اب “کئی ہزار” کا آرڈر دیا ہے۔ہفتہ کی ریلی میں مظاہرین نے ڈینش اور گرین لینڈ کے سرخ اور سفید پرچم لہرائے اور تحریری نشانات اٹھا رکھے تھے جو اس علاقے پر امریکی دعووں کا مذاق اڑاتے تھے۔”نہیں کا مطلب نہیں،” ایک نشان پر لکھا تھا۔ ایک اور پر “میک امریکہ سمارٹ اگین” کے الفاظ لکھے تھے۔ایسی ہی ایک ٹوپی پہنے ہوئے 49 سالہ احتجاجی کرسٹیان بوئے نے کہا کہ کوپن ہیگن سٹی ہال کے سامنے ہونے والے اجتماع نے ہلکے پھلکے لہجے میں ایک سنجیدہ پیغام دیا۔انہوں نے کہا، “میں یہاں گرین لینڈرز کی حمایت کے لیے آیا ہوں جو اس وقت بہت مشکل دور سے گذر رہے ہیں۔ ان کے ملک پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے۔