حالات اتنے خراب نہیں، بیشترشہروں میں صورتحال پُر امن، واپس لوٹے شہریوں کا دعویٰ
سرینگر// ایران میں بدامنی اور مواصلاتی بندش کے خدشات کے درمیان، طلبا، زائرین اور دیگر لوگوں کا پہلا گروپ ہفتے کی صبح دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترا۔واپس آنے والے شہری، جن کی تعداد تقریباً 150 بتائی گئی، شیراز اور تہران سے آنے والی دو پروازوں میں پہنچے۔ ان میںکم از کم 60 کشمیری طلبا اورزائرین تھے۔پریشان کن خاندانوں کے لیے ایک بڑی راحت میںیہ 60 طلبا اورزائرین ، ہفتے کی صبح دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے والی دو تجارتی پروازوں پر ایران سے ہندوستان واپس آئے۔واپس آنے والے زیادہ تر ہندوستانی شہری کشمیر کے طلبا ہیں، جو ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پھنسے ہوئے تھے۔ ایک گروپ شیراز سے شارجہ کے راستے آیا۔ وہ صبح 2.40 بجے کے قریب دہلی میں اترا، جبکہ تہران سے دوسری پرواز آدھی رات کے کچھ دیر بعد آئی۔ ان پروازوں میں زائرین کی بھی خاصی تعداد سوار تھی۔ تمام مسافر اپنے خرچ پر واپس آئے۔یہ واپسی ایران میں ہندوستانی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک ایڈوائزری کے پس منظر میں ہوئی ، جس میں ہندوستانی شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملک چھوڑ دیں۔ طلبا، زائرین، تاجروں اور سیاحوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ایران سے نکلنے کے لیے دستیاب تجارتی ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔
2000طلاب
ایک اندازے کے مطابق جموں و کشمیر کے 1,800 سے 2,000 طلبا فی الحال ایران کے مختلف صوبوں میں میڈیکل اور دیگر تعلیمی اداروں میں داخل ہیں۔جمعرات کو ایران میں زیر تعلیم طلبا کے والدین سرینگر میں ڈویژنل کمشنر کے دفتر میں جمع ہوئے، جہاں انہوں نے حکومت کی فوری مداخلت کے لیے ایک میمورنڈم پیش کیا۔ بہت سے والدین نے کہا کہ ان کے بچوں کے ساتھ بات چیت چھٹپٹ اور ناقابل اعتبار ہو گئی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم، وزیر خارجہ، وزارت خارجہ اور جموں و کشمیر حکومت پر زور دیا کہ وہ انخلا کی ایک مربوط کوشش شروع کریں۔جب کہ پہلی کھیپ کی آمد سے کچھ راحت ملی ہے، خاندانوں نے تمام پھنسے ہوئے طلبا کو بحفاظت ان کے گھروں تک واپس لانے کے لیے انخلا کے ایک جامع منصوبے کے لیے مطالبہ کیا ہے۔
صورتحال پر امن
واپس آنے والے طلابا اور دیگر لوگوں نے زمینی حقیقت کو بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے کم تشویشناک قرار دیا۔ بہت سے لوگوں نے بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ کی بندش کو تشدد میں اضافے کی وجہ قرار دیا۔انہوں نے کہا”انٹرنیٹ بند ہونے سے معلومات کے بہائو میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، اور ہم اپنے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے قاصر تھے،” ۔ واپس آنے والے گروپ میں بنیادی طور پر یونیورسٹی کے طلبا اور زائرین شامل تھے جو قم اور مشہد میں مذہبی مقامات کی زیارت کر رہے تھے۔انہوں نے کہا”شہروں میں زندگی چل رہی ہے، لوگ اپنے روزمرہ کے معمولات پر جا رہے ہیں، اصل مسئلہ انٹرنیٹ کی بندش کا ہے،” ۔ وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ہندوستانی شہری، زیادہ تر طلبا، ایران میں ہی مقیم ہیں اور ان کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔ ترجمان نے ایک بریفنگ میں کہا، “ہماری ترجیح بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔