عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ایران سے واپس آنے والے درجنوں طلبہ نے کہا ہے کہ ایران ملک میں زمینی صورتحال بالکل معمول کے مطابق ہے اور سوشل میڈیا پر جس طرح حالات کو سنگین بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ حقیقت کے برعکس ہے۔ طلبہ کے مطابق انہوں نے ایران میں قیام کے دوران نہ کسی قسم کی بدامنی دیکھی اور نہ ہی کسی خطرے کا سامنا کیا۔
ایران میں میڈیکل اور دیگر پیشہ ورانہ کورسز میں زیرِ تعلیم بیشتر طلبہ نے بتایا کہ اگرچہ انہوں نے خبروں اور آن لائن ذرائع سے احتجاج کے بارے میں سنا، تاہم جن شہروں میں وہ رہ رہے تھے وہاں روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رہی اور کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔ طلبہ نے کہا کہ اگرچہ انٹرنیٹ سروسز کام نہیں کر رہی تھیں، لیکن کیمپس اور اطراف کے علاقوں میں خوف و ہراس کا کوئی ماحول نہیں تھا۔
کئی طلبہ نے بتایا کہ ان کے بڑی تعداد میں ہم جماعت اور دیگر ہندوستانی طلبہ نے ایران میں ہی قیام کو ترجیح دی کیونکہ تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری تھیں۔ طلباء نے کہا کہ ہم نے احتجاج کے بارے میں صرف سنا، اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھاـ
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی باتیں مبالغہ آمیز اور گمراہ کن لگیں۔
واپس آنے والے طلبہ کے والدین نے اپنے بچوں کی بحفاظت واپسی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا میڈیکل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AIMSA) کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خاص طور پر AIMSA کے نائب صدر ڈاکٹر محمد مومن خان کی کوششوں کو سراہا، جن کے مطابق انہوں نے طلبہ کی محفوظ واپسی کے لیے انتھک محنت کی۔
والدین نے کہا، “ہم AIMSA کے بے حد شکر گزار ہیں، خاص طور پر ڈاکٹر محمد مومن خان کے، جنہوں نے ہمارے بچوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔”
طلبہ نے واضح کیا کہ ایران میں زمینی سطح پر کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں تھی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا مواد پر بھروسہ کرنے کے بجائے مستند معلومات پر انحصار کریں، کیونکہ سوشل میڈیا اکثر حقیقت کی عکاسی کیے بغیر خوف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی صورتحال مبالغہ آمیز، ایران میں حالات معمول کے مطابق تھے: واپس لوٹنے والے طلبہ