پہچان چھپانے کیلئے رجسٹریشن نمبر لکھے، نام نہیں، 100نے دستخط بھی نہیں کئے
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر کے سرکاری ہسپتالوں میں تعینات ڈاکٹر کسی بھی سرکاری حکم کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں جو طبی اداروں کے معیار میں بہتری لانے میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ سال 2016میں پہلی مرتبہ جموں و کشمیر سرکار نے انڈین میڈیکل کونسل کے قوائد و ضوابط پر عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں پر نظر رکھنے کیلئے ’’پریسکرپشن آڈٹ کمیٹیاں‘‘ تشکیل دینے کی ہدایت دی۔ پریسکرپشن آڈٹ کمیٹیوں کو ڈاکٹروں کی جانب سے لکھے گئے نسخوں کی جانچ کے علاوہ ضلع اور سب ضلع ہسپتالوں سے غیر ضروری طور پر مریضوں کو ٹریشری کیئر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے علاوہ غیر ضروری ٹیسٹ اور ادویات لکھنے کے معاملات پر نظر رکھنے کا کام سونپاگیا ۔
لیکن تمام سرکاری ہسپتالوں میں نسخوں کی جانچ پڑتال تو دور،صحیح تعداد میں نسخے بھی جمع نہیں کئے جاسکے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کو چار ماہ کے دوران جہاں جانچ پڑتال کیلئے 3600نسخے جمع کرنے تھے وہاں منتظمین نے کام نپٹانے کیلئے صرف 150نسخوں کی ہی جانچ پڑتال کی ۔ حق اطلاعات قانون کے تحت دائر کی گئی درخواست کا جواب گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر نے ایک سال بعد دیا اور جانکاری میں بتایاہے کہ ہسپتال کے او پی ڈی میں 4ماہ یعنی اکتوبر 2024سے جنوری 2025کے آخرتک 150نسخوں کو چانچ پڑتال کیلئے جمع کیا گیا جبکہ سرکاری قوائد و ضوابط کے تحت روزانہ او پی ڈی سے 1فیصد نمونوں کو جمع کرنا ہوتا ہے جو روزانہ او پی ڈی میں آنے والے 3000مریضوں کا 0.05فیصد ہے۔ صدر ہسپتال کے اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ ان 150نسخوں میں ڈاکٹروں نے 15کے نسخے ہی نہیں لکھے تھے جبکہ 150 نسخوں میں صرف 50پرڈاکٹروں نے دستخط کئے تھے اور 100پر دستخط کرنے سے پرہیز کیا تھا۔ 25نسخوں میں ڈاکٹروں نے خود ہی تاریخ لکھی تھی ۔ سرکاری حکم ناموں کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی ڈاکٹر نے نسخے پر مہر ثبت نہیںکی تھی اور شناخت چھپانے کیلئے اپنا رجسٹریشن نمبر لکھا تھا۔ اس کے علاوہ انڈین میڈیکل کونسل کی جانب سے سال 2020میں تمام ڈاکٹروں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ہسپتال میں ادویات کے جنریک نام ہی لکھے، تاہم کونسل کی اس ہدایت پر کوئی بھی ڈاکٹر عمل نہیں کررہا ہے اور صدر ہسپتال میں بھی کسی بھی ڈاکٹر نے جنریک ادویات کا نام نہیں لکھا بلکہ سبھی ڈاکٹر خصوصی برانڈوںکے نام لکھتے ہیں۔ صدر ہسپتال میں 150نسخوں میں سے کسی بھی ڈاکٹر نے جنریک دوائی نہیں لکھی ۔ فراہم کی گئی جانکاری میں یہ نہیں لکھا گیا کہ کتنے ڈاکٹروں نے غیر ضروری طور پر مریضوں کو منتقل کیا اور نہ ہی یہ لکھا گیا ہے کہ کتنے ڈاکٹروں نے غیر ضروری ٹیسٹ اور غیر ضروری طور پردوائیاں لکھیں۔