پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں11فیصد لوگ بواسیر (Piles) سے جوج رہے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 11.42فیصد جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 9فیصد ہے۔جموں و کشمیر کے محکمہ شماریات کے مطابق بواسیر سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور ان میں سے 50فیصد طرز زندگی میں تبدیلی کی وجہ سے متاثر ہور ہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی دبائو ،چربی سے بھر پور غذائیں جیسے وازوان، بوڑھاپا اور دیگر وجوہات کی وجہ سے لوگ بواسیر کے شکار ہورہے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ جنرل سرجری کی تازہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کشمیر صوبے میںبواسیر مریضوں میں 73فیصد مرد جبکہ 28فیصد خواتین شامل ہوتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق 92فیصد مریضوں میں دوسرے درجہ جبکہ 9فیصد میں چوتھے درجہ کی بواسیر پائی جاتی ہے۔ مرد مریضوں میں اوسط عمر 45سال جبکہ خواتین کی اوسط عمر 46سال کی درج کی گئی ہے۔ یہ بیماری زیادہ تر وزن اٹھانے والے کاریگروں او مزدوروں میں زیادہ پائی جاتی ہے جبکہ حاملہ اور گھریلو خواتین میں زیادہ پائی جاتی ہے ۔بوسیر اور قبض کی ماہر ڈاکٹر نائرہ نورنے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ بھارت میں سب سے زیادہ بواسیر سے متاثرین کیرا لا میں پائے جاتے ہیں جہاںانکی شرح 6فیصد ہے جبکہ کشمیر صوبے میں یہ 11فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طرز زندگی میں تبدیلی کے علاوہ ذہنی پریشانی، چربی سے بھر پور غذائیں ، گوشت وغیر اس کی بڑی وجوہات ہے۔ ڈاکٹر نائرہ کا کہنا تھا کہ گوشت خو ر لوگوں میں فائبر کی کمی ہوجاتی ہے جو فاضلہ باہر کرنے کی نلی کی نسوں میں ورم کا سبب بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر نائرہ نے بتایا کہ بواسیر سے دور رہنے کیلئے فائر والے پھل ، سبزیاں،دالیں وغیرہ کو غذا کا معمول بنانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جسم کو سرگرمیوں میں ہمیشہ مشغول رکھنا چاہئے کیونکہ سرگرم جسم سے ذہنی تنائو کم ہوتا ہے جس سے بواسیر کی علامتوں میں کمی آتی ہیں۔ ڈاکٹر نائرہ نے بتایا ’’ ورم زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ مریضوں میں خون آنا شروع ہوجاتا ہے اور ایسے مریضوں کو متواتر طور پر پانی پیتے رہنا چاہئے ۔ ڈاکٹر نائرہ کا کہنا تھا کہ پہلے یہ بیماری صرف عمر رسیدہ افراد میں ہوتی تھی لیکن اب طرز زندگی میں تبدیلی آنے کی وجہ سے یہ 40سے 45سال کی عمر کے لوگوں میں بھی پائی جاتی ہے۔