سمت بھارگو
راجوری//بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ پارلیمان جگل کشور شرما نے واضح کیا ہے کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج (ایس ایم وی ڈی یو ایم سی) میں ایم بی بی ایس کورس کی اجازت واپس لینے کے نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے فیصلے سے بی جے پی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر کمیشن کے قواعد و ضوابط اور معائنہ رپورٹ کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے جگل کشور شرما نے کہا کہ میڈیکل کالج کی انتظامیہ این ایم سی کی جانب سے مقرر کردہ لازمی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہی اور کئی جگہوں پر قواعد کی خلاف ورزی بھی سامنے آئی۔ ان کے مطابق کمیشن کے معائنے کے دوران یہ تمام خامیاں اجاگر ہوئیں، جس کے بعد ایم بی بی ایس کورس چلانے کی اجازت واپس لے لی گئی۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہاکہ ’اس فیصلے سے ہماری پارٹی کا کوئی لینا دینا نہیں ہے‘تاہم ایم پی شرما نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ کئی لوگوں کے مذہبی جذبات سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لئے اس فیصلے کو مثبت انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو مقررہ معیار پر پورا اترنا ہی ہوگا تاکہ طلباء کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔ایک اور سوال کے جواب میں جگل کشور شرما نے جموں کے مختلف علاقوں میں سردیوں کے دوران بجلی کے بحران پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی بنیادی وجہ بجلی پر بڑھتا ہوا اوورلوڈ ہے۔ ان کے مطابق سردیوں کے موسم میں بجلی کی مانگ تقریباً دوگنی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے اور نتیجتاً بجلی کی کٹوتی اور بحران پیدا ہوتا ہے۔ایم پی شرما نے کہاکہ ’ہمیں موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سردیوں میں ہیٹرز اور دیگر برقی آلات کے زیادہ استعمال سے بجلی کی کھپت میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے، جو نظام کی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے‘۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے اور بجلی کی سپلائی کو معمول پر لانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور سرد موسم میں بجلی کا بحران لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔جگل کشور شرما نے یقین دلایا کہ وہ ذاتی طور پر بھی متعلقہ حکام سے بات کریں گے تاکہ بجلی کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے اور عوام کو درپیش پریشانیوں کا جلد از جلد ازالہ ہو سکے۔