سمت بھارگو
جموں//کٹھوعہ میں فورسز اور ملی ٹینٹوںکے مابین تصادم آرائی شروع ہوئی جو شام ہوتے ہوتے خاموشی میںبدل گئی جبکہ علاقہ کو محاصرہ میںلیکر تلاشی آپریشن تیز کردیاگیا۔ ادھرسیکورٹی فورسز نے راجوری کے گھنے جنگلاتی علاقے میں ایک محاصرہ اور تلاشی آپریشن کے دوران ایک مشتبہ دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔
کٹھوعہ
جموں و کشمیر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) کی ایک ٹیم اور ملی ٹینٹوں کے درمیان جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے کماد نالہ میں مشتبہ نقل و حرکت کی انٹیلی جنس اطلاعات پر شروع کیے گئے ایک محاصرہ اور تلاشی آپریشن کے دوران گولیوں کا تبادلہ ہوا۔فورسز کی کمک جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کے فرار ہونے کو روکا جا سکے جن کی تعداد دو سے چار ہے۔آئی جی پولیس جموں زون بھیم سین توتی نے کہا کہ کٹھوعہ کے اسپیشل آپریشن گروپ کی ٹیم نے کٹھوعہ ضلع کے کماد نالہ کے جنگل میں ملی ٹینٹوں کو گھیر لیا۔یہ علاقہ بلاور تھانے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔آئی جی پی نے مزید کہا کہ اندھیرے، گھنی جھاڑیوں اور دشوار گزار جغرافیائی حالات کے باوجود سپیشل آپریشن گروپ کی ٹیمیں ملی ٹینٹوں کے خلاف انتھک کارروائی کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی آر پی ایف کی ٹیمیں بھی اس مشترکہ آپریشن کا حصہ ہیں۔یہ علاقہ کوگ سے متصل ہے جہاں ستمبر 2024 میں ایک انکاؤنٹر ہوا تھا جس میں پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان شدید فائرنگ کا سلسلہ ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا جس کے بعدبندوقیں خاموش ہو گئیں۔حکام نے بتایا کہ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا گولیوں کے تبادلہ میںملی ٹینٹوںمیں سے کوئی بھی مارا گیا۔ایک عہدیدار نے بتایا’’شام 4 بجے کے قریب، ایک ملی ٹینٹ کو مقامی لوگوں نے بلاور پولیس سٹیشن کے علاقے کے تحت کماد نالہ میں دیکھا، جس نے تلاشی مہم شروع کی۔ وہ وہی ملی ٹینٹ ہو سکتا ہے جسے آج صبح دھنو پیرول پر بھی دیکھا گیا تھا‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان کے مزید دو ساتھیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگل کے علاقے میں چھپے ہوئے ہیں اور فوج کی کمک بشمول چھاتہ بردار دستے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ملی ٹینٹوں کو بے اثر کرنے کے لیے پورے علاقے کے گرد گھیرا مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرچ پارٹیاں کسی جانی نقصان سے بچنے کے لیے محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہیں۔خیال رہےکہ کٹھوعہ ضلع میں پچھلے دو سالوں میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان کئی تصادم دیکھنے میں آئے، جس کے نتیجے میں 16 لوگ مارے گئے جن میں 11سیکورٹی اہلکار اور پانچ ملی ٹینٹ شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ جب کہ 2024 میں سات سیکورٹی اہلکار اور دو عسکریت پسند مارے گئے جب ملی ٹینٹوںنے ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد ضلع میں اپنی سرگرمیاں بحال کیں، سات افراد بشمول چار سیکورٹی اہلکار اور تین ملی ٹینٹ پچھلے سال مارے گئے۔اس کے علاوہ، چار شہری پراسرار حالات میں ہلاک ہو گئے اور مقامی لوگوں کو ان کے قتل میں ملی ٹینٹوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
راجوری
ادھرسیکورٹی فورسز نے راجوری کے گھنے جنگلاتی علاقے میں ایک محاصرہ اور تلاشی آپریشن کے دوران ایک مشتبہ دھماکہ خیز مواد برآمد کیا۔راجوری ضلع کے تھانہ منڈی پولیس سٹیشن کے دائرہ اختیار کے ڈوری مال میں کلر کے گھنے جنگلاتی علاقے سے بازیابی کی گئی۔حکام کے مطابق جنگل کے علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات پر فوج اور پولیس نے مشترکہ محاصرہ اور تلاشی آپریشن شروع کیا اور گھنے جنگلوں کی وسیع تلاشی لی۔سرچ آپریشن کے دوران، انہوں نے کہا، کچھ مشتبہ مواد برآمد ہوا جس کا فورسز نے باریک بینی سے جائزہ لیا اور یہ ایک دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلہ (آئی ای ڈی) پایا گیا جس کا وزن تقریباً 3سے4کلو گرام تھا۔حکام نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد کو بعد میں ایک کنٹرول میکانزم کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔حکام نے بتایا کہ اس جگہ سے کچھ اور خالی خول بھی برآمد ہوئے ہیں جنہیں فورسز نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔جس علاقے سے بازیابی ہوئی ہے وہاں ابھی تلاشی اور آپریشن جاری ہے۔