جموں// پنجاب پولیس نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے الزام میں جموں و کشمیر کے ضلع سانبہ کے ایک 15سالہ لڑکے کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق کم عمر لڑکا گزشتہ تقریباً ایک سال سے پاکستان میں موجود آئی ایس آئی ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا اور موبائل فون کے ذریعے بھارت کی قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات شیئر کر رہا تھا۔پٹھانکوٹ کے سینئرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس دلدیندر سنگھ ڈھلوں نے کہا کہ پولیس کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ مذکورہ لڑکا پاکستانی فوجی اہلکاروں، آئی ایس آئی آپریٹیوز اور ملی ٹینٹ نیٹ ورکس سے منسلک فرنٹ تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے اور سیکیورٹی سے متعلق تفصیلات فراہم کر رہا ہے۔ایس ایس پی کے مطابق ان اطلاعات کی بنیاد پر لڑکے کو پیر کے روز تحویل میں لے کر پٹھانکوٹ میں پوچھ گچھ کی گئی۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ لڑکا مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم تھا، جہاں وہ مبینہ طور پر پاکستانی ایجنسیوں کے جال میں پھنس گیا۔پولیس نے بتایا کہ لڑکے کے والد کا ایک سال قبل انتقال ہو چکا ہے اور لڑکا یہ سمجھتا تھا کہ انہیں قتل کیا گیا ہے، تاہم پولیس تحقیقات میں اس دعوے کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی۔ حکام کے مطابق اس واقعے نے اس کی ذہنی کیفیت پر منفی اثر ڈالا ہو سکتا ہے۔ایس ایس پی نے مزید کہا کہ پاکستانی ہینڈلرز نے مبینہ طور پر لڑکے کے موبائل فون کا کلون تیار کیا تھا، جس کے ذریعے اس کے فون میں موجود معلومات تک رسائی حاصل کی جاتی تھی۔ پولیس کے مطابق لڑکا تکنیکی طور پر کافی مہارت رکھتا تھا اور اس نے کچھ حساس مقامات کی ویڈیوز بھی بنائی تھیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ اگر موبائل فون مکمل طور پر ہیک ہو جاتا تو حساس معلومات براہِ راست منتقل کی جا سکتی تھیں۔ مزید یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ لڑکاملی ٹینٹ ماڈیولز سے جڑے بعض گینگسٹرز کے ساتھ بھی رابطے میں تھا۔معاملے کی تفتیش جاری ہے اور سیکیورٹی ایجنسیاں تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔