عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/مائیکروبلاگنگ سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے کہا ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر موجود غیر قانونی مواد کے خلاف سخت کارروائی کرے گی، جس کے تحت ایسا مواد ہٹایا جائے گا، اسے اپ لوڈ کرنے والے اکاؤنٹس کو مستقل طور پر معطل کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مقامی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ یہ بیان ایلون مسک کی ملکیت والی سوشل میڈیا کمپنی کی جانب سے اتوار کو جاری کیا گیا۔
ایکس کے گلوبل گورنمنٹ افیئرز اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جو صارفین ایکس کے اے آئی سروس “گروک” کے ذریعے غیر قانونی مواد تیار کریں گے، ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو براہِ راست غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
ایلون مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ کے جواب میں کہا، “جو کوئی بھی گروک کا استعمال کر کے غیر قانونی مواد بنائے گا، اسے وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے والوں کو بھگتنا ہونگے۔”
گلوبل گورنمنٹ افیئرز نے مسک کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا، “ہم ایکس پر غیر قانونی مواد، بشمول بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد (CSAM)، کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ اس میں مواد کو ہٹانا، اکاؤنٹس کو مستقل طور پر معطل کرنا اور ضرورت پڑنے پر مقامی حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔”
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ایکس کے قواعد کے تحت باہمی رضامندی سے تیار اور تقسیم کی گئی بالغوں کی عریانی یا جنسی رویے سے متعلق مواد کی اجازت ہے، بشرطیکہ اسے مناسب طور پر لیبل کیا گیا ہو اور نمایاں طور پر پیش نہ کیا گیا ہو۔
ادھر، بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ ایکس پر مقامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فحش، غیر مہذب اور دیگر غیر قانونی مواد اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وزارت الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی(MEITY) نے 2 جنوری کو ایکس کو ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر تمام فحش، غیر مہذب اور غیر قانونی مواد، خصوصاً اے آئی ایپ گروک سے تیار کردہ مواد، کو ہٹائے، بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔
MEITY نے ایکس کو ہدایت دی ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والے مواد، صارفین اور اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کرے اور 72 گھنٹوں کے اندر تفصیلی “ایکشن ٹیکن رپورٹ” (ATR) جمع کرائے۔
حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مختلف اوقات میں عوامی بحث، پارلیمانی نمائندوں اور دیگر ذرائع سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ ایکس پر گردش کرنے والا بعض مواد شائستگی اور فحاشی سے متعلق قوانین کے مطابق نہیں ہے۔
اس سے قبل، راجیہ سبھا کی رکن پرینکا چترویدی نے مرکزی وزیر اشونی ویشنو کو خط لکھ کر اے آئی ایپ گروک کے غلط استعمال پر فوری مداخلت کا مطالبہ کیا تھا، جس کے ذریعے خواتین کی فحش تصاویر تیار کر کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جا رہی ہیں۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ “گروک اے آئی” سروس کا غلط استعمال کرتے ہوئے جعلی اکاؤنٹس بنائے جا رہے ہیں جو خواتین کی جعلی، فحش اور توہین آمیز تصاویر یا ویڈیوز تیار، شائع یا شیئر کر رہے ہیں۔
29 دسمبر کو بھی MEITY نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے ضابطۂ تعمیل کا فوری جائزہ لیں اور فحش و غیر قانونی مواد کے خلاف کارروائی کریں، ورنہ انہیں قانون کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔