شیخ بلال
وہ آفس سے تھک کر واپس آیا تھا جہاں دن بھر کی محنت اور مصروفیات نے اس کی ہر ہڈی میں تھکن ڈال دی تھی۔ موبائل میں تنخواہ کی وصولی کی مسیج تو تھی مگر دل کی خالی جگہ کو بھرنے والا کوئی سامان نہ تھا۔ چارپائی پر گرا تو جسم کے بجائے روح کی تھکن نے غلبہ کیا اور آنکھیں بھاری ہو کر بند ہو گئیں جیسے تنہائی کا بوجھ اب برداشت سے باہر ہو چکا ہو – کمرے میں موجود ہر چیز جیسے کھانے کو دوڑتی ہو، جہاں شام کی نرم اور چھن چھن کرنیں کھڑکیوں کے پردوں سے گزرتے ہوئے کمرے کے ہر کونے میں پھیل رہی تھیں جیسے کوئی آسمانی روشنی تنہائی کے گہرے اندھیروں کو چھلنی کرنے کی کوشش کر رہی ہو، اور وہ چارپائی پر لیٹا ہوا نڈھال آنکھوں سے خالی دیواروں کو گھور رہا تھا جہاں دل کی پوری دنیا برسوں پہلے ویران ہو چکی تھی کیونکہ وہ، جس کی ایک مسکراہٹ پر اس کی زندگی گزر جاتی تھی، اسے چھوڑ کر کہیں دور جا بسی تھی اور اب پچھتائوں کی بھاری زنجیریں اس کی روح کو جکڑے ہوئے ہر لمحے اسے یاد دلاتی تھیں کہ کس طرح وعدوں اور ملاقاتوں کی وہ میٹھی یادیں وقت کی دھول میں دفن ہو گئیں تھیں ۔ محلے کی تنگ گلیوں میں اس کی تنہائی کی باتیں تو سب جانتے تھے مگر کوئی پوچھنے والا نہ تھا، اور دن کاٹنے اور راتوں کو جاگنے کا یہ سلسلہ ہی اس کی زندگی بن چکا تھا – کمرے کی دیواروں کو گھورتے گھورتے پتہ نہیں کب اس کی آنکھ لگی اور پھر خواب کی نرم لہروں نے اسے گھیر لیا اسے خبر ہی نہیں…. اچانک سارے گھر والے اس کے کمرے میں جمع ہوئے اور ماں کی آنکھوں میں چمکتا ہوا اعلان دکھائی دیا کہ “بیٹا تمہاری شادی طے پائی ہے ایک نیک خاندان کی لڑکی سے جو تمہاری تنہائی کو ختم کر دے گی”۔ اس خبر نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کو دل میں جگا دیا اور برسوں کی ویرانی میں ایک نئی امید کی کرن جھلک اٹھی ۔ نکاح کی رات کا انتظار ایسا تھا جیسے وقت رک سا گیا ہو۔ دل بے یقینی سے بھرا ہوا تھا، ہاتھ اور ٹانگیں جیسے کانپ رہے تھے۔ جب کمرے میں عروسی لباس سے سجی دلہن داخل ہوئی جس کا سرخ لہنگا روشنیوں میں چمک رہا تھا، مہندی کی خوشبو فضا بھر رہی تھی اور نقاب تلے شرمیلی مسکراہٹ دل کو چھو رہی تھی، رات کی سنسانی ارد گرد پھیلی ہوئی تھی اور جب وہ اس کی آنکھوں میں جھانکا تو وہی پرانی چمک نظر آئی جو خوابوں میں بار بار آتی تھی، دھیرے سے نقاب اٹھا تو حیرت کی لہر نے پورا جسم گھیر لیا کیونکہ یہ وہی تھی جس کی مسکراہٹ اور نرمی برسوں سے دل کی گہرائیوں میں بسی ہوئی تھی ۔”تم! تم واپس کیسے آگئی ہو ،تم نے تو مجھے چھوڑ دیا تھا‘‘ اس نے سرگوشی کی اور اس نے مسکرا کر جواب دیا کہ “میں کبھی نہیں گئی تھی، تمہارے دل کی گلیوں سے تو ہمیشہ گزرتی رہی ہوں “، وصال کی اس خوشی میں اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے نرم ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا اور برسوں کی حسرتوں کا سمندر ایک پل میں سکون میں بدلنے لگا۔ جب گلے لگانے کو ہوا اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی کہ اچانک چارپائی ہلنے لگی، توازن بگڑ گیا اور وہ زور سے فرش پر گر پڑا جس سے درد کی تیز لہر جسم بھر میں دوڑ گئی ۔ آنکھ کھلی تو حقیقت کا کڑوا غوطہ لگا، چارپائی کی ٹھنڈک ہاتھ لگ رہی تھی، کمرہ سنسان اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا جبکہ دیوار پر لٹکی پرانی تصویر تنہا مسکرا رہی تھی – ارد گرد دیکھا وہی سنسان کمرہ، وہی دیواریں، ٹھنڈی چارپائی اور وہ ایک تنہا شام کا مسافر! دل کی حسرت ویسی ہی باقی تھی … باہر شام ڈھل رہی تھی اور محلے کی گلیوں میں روزمرہ کی آوازیں گونج رہی تھیں مگر اس کی تنہائی اب بھی ویسی ہی تھی جیسے کبھی نہ ختم ہونے والی کہانی ۔ خواب ٹوٹنے کا درد اس قدر گہرا تھا کہ دل چھلنی ہو گیا، حسرت کی آہ نکل گئی اور تنہائی کا سمندر پھر سے لہراتا ہوا اسے نگلنے لگا جہاں وصال کی کوئی امید نہ تھی بلکہ صرف خالی ہاتھ اور ٹوٹے خوابوں کی باقیات تھیں جو شاید موت تک اسے ستاتے رہیں گے۔
وصال کا خواب ٹوٹا تو حقیقت نے پھر سے تنہائی کا دامن تھما دیا ۔
���
تلیل گریز بانڈی پورہ ، کشمیر
موبائل نمبر؛6006796300