بلال فرقانی
سرینگر// وادی جاری سیزن کے دوران جموں و کشمیر کا سب سے زیادہ متاثرہ خطہ بن کر سامنے آیا ہے، جہاںیکم اکتوبر سے 31 دسمبر تک مجموعی طور پر 86.51 فیصد بارش کی شدید کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس غیر معمولی کمی نے نہ صرف وادی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ پورے جموں و کشمیر کی موسمی بارش کی اوسط کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔سرکاری موسمیاتی اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کو مجموعی طور پر 77.5 ملی میٹر بارش ملی، جبکہ معمول 127.7 ملی میٹر تھی۔ پورے خطے میں 39 فیصد کی کمی درج کی گئی۔
تاہم، سب سے سنگین صورتحال کشمیر میں رہی، جہاں طویل خشک دورانیے اور مسلسل بارش کی کمی نے تقریباً تمام اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔کشمیر کے بیشتر اضلاع میں بارش ’کم سے انتہائی کم ‘کے زمرے میں رہی۔ اننت ناگ میں 111.6 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں صرف 72.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 35 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ بڈگام میں محض 32 ملی میٹر بارش ہوئی، جو 78.9 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 59 فیصد کمی ہے۔ بانڈی پورہ میں 105.7 ملی میٹر کے مقابلے میں 75.1 ملی میٹر اور بارہمولہ میں 132.2 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 56.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 58 فیصد کمی ہے۔دیگر اضلاع کی صورتحال نے بھی مجموعی کمی کی سنگینی کو مزید واضح کیا۔گاندربل میں 48 فیصد کمی کے ساتھ 116.3 ملی میٹر کے مقابلے میں 60.2 ملی میٹر جبکہ کولگام میں 170.9 ملی میٹر کے مقابلے میں 60.6 ملی میٹر اورکپواڑہ میں 148.3 ملی میٹر کے مقابلے میں 112.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جو 24 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پلوامہ میں 35.3 ملی میٹر کے مقابلے میں 73.2 ملی میٹر، شوپیاں میں 78 فیصد کمی کے ساتھ100.4 ملی میٹر کے مقابلے میں صرف 21.8 ملی میٹر اور سری نگر میں 109.1 ملی میٹر کے مقابلے میں 53.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 51 فیصد کمی ہے۔حالیہ ہفتوں کے دوران صورتحال مزید تشویشناک رہی، جب کشمیر کے کئی اضلاع میں صفر یا نہ ہونے کے برابر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں اوسط بارش محض 0.24 ملی میٹر رہی، جبکہ معمول 1.78 ملی میٹر تھا، جس کے نتیجے میں 86.51 فیصد کی مجموعی کمی درج کی گئی اور وادی کو انتہائی کم بارشکے زمرے میں رکھا گیا۔اس عرصے کے دوران بڈگام، کولگام، بانڈی پورہ، پلوامہ، شوپیاں اور سری نگر میں بالکل بارش نہیں ہوئی، جبکہ اننت ناگ، بارہمولہ اور کپواڑہ میں نہایت معمولی بارش ریکارڈ کی گئی۔ گاندربل واحد ضلع رہا جہاں ایک مشاہداتی مدت کے دوران معمول سے قدرے بہتر بارش درج کی گئی۔دوسری جانب جموں وبے میں بارش کا رجحان ملا جلا رہا، تاہم زیادہ تر اضلاع میں بارش معمول سے کم رہی۔ جموں اور کٹھوعہ میں 22 فیصد، سانبہ میں 13 فیصد، اودھم پور میں 36 فیصد اور رام بن میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ریاسی میں بارش 14 فیصد کم رہی۔ کشتواڑ میں صورتحال خاصی سنگین رہی، جہاں 76 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی۔ ڈوڈہ میں بارش تقریباً معمول کے مطابق رہی، راجوری میں قریب قریب معمول جبکہ پونچھ واحد ضلع رہا جہاں 26 فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔ گئی۔لداخ خطہ بھی شدید خشکی کا شکار رہا، جہاں لیہ میں 72 فیصد اورکرگل میں 71 فیصد بارش کی کمی درج کی گئی۔ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کشمیر میں شدید مجموعی بارش کی کمی کے نتیجے میں آبی ذخائر، زراعت، باغبانی، پن بجلی کے منصوبوں اور بالائی علاقوں میں برف باری کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ خشک صورتحال برقرار رہی تو زمینی پانی کی سطح، دریائی بہاؤ اور ماحولیاتی توازن کو طویل مدتی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔