عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سرندر چودھری نے جمعرات کے روز ایک مرتبہ پھر نئی دہلی کو یاد دلایا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاستی حیثیت بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرے اور اس میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو بار بار یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مناسب وقت پر ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی، لیکن اب تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی کوئی احسان نہیں بلکہ عوام کا جمہوری حق ہے۔
نائب وزیر اعلیٰ نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں 11 برس تک حکومت کی، لیکن متعدد محاذوں پر بری طرح ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود پارٹی عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی اور اپنے پیچھے گورننس کے سنگین چیلنجز چھوڑ گئی۔چودھری نے موجودہ منتخب حکومت سے جوابدہی کے بی جے پی کے مطالبے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے صرف ایک سال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا جوابدہی کا مطالبہ کرنا غیر منصفانہ ہے، کیونکہ اسے خود ایک دہائی سے زائد عرصے کی اپنی حکمرانی کا حساب دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منتخب حکومت جمہوری طرز حکمرانی، ترقی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور ریاستی حیثیت کے مسئلے کو ہر مناسب فورم پر اٹھاتی رہے گی۔نائب وزیر اعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی سے جمہوری ادارے مضبوط ہوں گے، حکمرانی بہتر ہوگی اور جموں و کشمیر کے تمام خطوں میں عوامی امنگوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔
ریاستی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ پورا کیا جائے، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کا مرکزسے مطالبہ