عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//وزارت ماحولیات کے تحت ایک پینل نے جموں و کشمیر کے کشتواڑ ضلع میں دریائے چناب پر 260میگاواٹ کے ڈول ہستی مرحلہ دوم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کو منظوری دے دی ہے ۔یہ منظوری اس سال اپریل میں پہلگام حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ہائیڈل پراجیکٹس پر ماہر تشخیص کمیٹی نے اس ماہ کے شروع میں اپنی 45ویں میٹنگ کے دوران منظوری دی، جس سے رن آف دی ریور پروجیکٹ کے لیےفلوٹنگ تعمیراتی ٹینڈرز کی راہ ہموار ہوئی، جس کی لاگت کا تخمینہ 3,200کروڑ روپے ہے۔میٹنگ کے منٹس کے مطابق، پینل نے نوٹ کیا کہ چناب طاس کا پانی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ1960کی شقوں کے مطابق شیئر کیا جاتا ہے اور اس معاہدے کے مطابق منصوبے کے پیرامیٹرز کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پینل نے نوٹ کیا’’تاہم، سندھ آبی معاہدہ 23اپریل 2025 سے معطل ہے‘‘۔جب سندھ طاس معاہدہ ہوا تو دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا اور راوی، بیاس اور ستلج پر بھارت کا حق تھا۔ معاہدہ اب التواء میں ہے ۔مرکز سندھ طاس میں کئی پن بجلی کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہا ہے، جیسے ساول کوٹ، ریتلے، برسر، پکل ڈول، کواڑ، کیرو، اورکرتھائی اول اور دوم۔ڈول ہستی سٹیج-دوم موجودہ 390میگاواٹ کے ڈول ہستی سٹیج-اول ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹ (ڈول ہستی پاور سٹیشن) کی توسیع ہے، جو نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے 2007میں شروع ہونے کے بعد سے کامیابی سے کام کر رہا ہے۔منصوبے کے تحت، سٹیج-اول پاوراسٹیشن سے پانی کو ایک الگ سرنگ کے ذریعے موڑ دیا جائے گا جس کی لمبائی 3,685میٹر اور قطر 8.5میٹر ہوگا تاکہ سٹیج دوم کے لیے گھوڑے کی نال کی شکل کا تالاب بنایا جاسکے۔اس منصوبے میں سرج شافٹ، پریشر شافٹ، اور ایک زیر زمین پاور ہاؤس بھی شامل ہے جس میں دو 130میگاواٹ یونٹ ہیں، جس کے نتیجے میں 260میگاواٹ کی کل نصب صلاحیت اور سالانہ توانائی پیدا ہوتی ہے۔منصوبے کے لیے کل زمین کی ضرورت کا تخمینہ 60.3ہیکٹر لگایا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے لیے کشتواڑ ضلع کے دو گاؤں بینزوار اور پلماڑ کی 8.27 ہیکٹر نجی زمین درکار ہوگی۔