عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کے خلاف مبینہ تشدد، لوٹ مار، آتش زنی اور ہلاکتوں کے واقعات کے خلاف پیر کے روز جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں مختلف ہندو تنظیموں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے زبردست احتجاج کیا۔ اس موقع پر سناتن دھرم سبھا کی جانب سے بند کی کال دی گئی، جس کے باعث کشتواڑ میں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔احتجاج کی قیادت سناتن دھرم سبھا کے صدر مہنت رام شرن داس اچاریہ نے کی، جبکہ مختلف ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے چوک میں دھرنا دے کر بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بنگلہ دیش میں مندروں پر حملوں، خواتین کے خلاف تشدد اور اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما سمیت بی جے پی کے کئی سینئر رہنماؤں نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔ اس موقع پر سنیل شرما نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشتواڑ میں آج بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بند اور احتجاج کیا گیا۔ ہندو سماج اپنے مظلوم بھائیوں کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، مندروں پر حملے ہو رہے ہیں اور ایک فیکٹری مزدور دیپو داس کو بے رحمی سے قتل کیا گیا، جس نے پوری برادری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔احتجاج میں شامل ایک اور رہنما راکی گوسوامی نے کہا کہ دیپو داس کے قتل سمیت دیگر واقعات کے خلاف عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بند کے دوران بنگلہ دیش کے خلاف علامتی پُتلے نذرِ آتش کیے گئے اور بڑی تعداد میں سناتن دھرم سے وابستہ افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ سناتن دھرم سبھا کے بینر تلے صدرِ جمہوریہ ہند، وزیر اعظم اور مرکزی وزرائے داخلہ و خارجہ امور کو ایک یادداشت پیش کی جائے گی، جس میں بنگلہ دیش میں ہندو اقلیت کے تحفظ، ان کی جان و مال اور مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا جائے گا۔
بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر تشدد کے خلاف جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں احتجاج