مولانا قاری اسحاق گورا
انسانی معاشرے کی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ قوموں کی پائیداری دولت و ثروت سے نہیں ہوتی، نہ ہی اونچی عمارتیں اور پھیلی ہوئی سڑکیں کسی تہذیب کی ضمانت ہوتی ہیں۔ اصل امانت تو وہ نسلیں ہوتی ہیں جو گھروں میں پروان چڑھتی ہیں۔ وہ بچے، وہ بیٹے، اور خصوصاً وہ بیٹیاں، جن کی شخصیت میں والدین کی فکر، گھر کی فضا، ماں کی مامتا اور باپ کی نگہداشت سب ایک ساتھ سانس لیتی ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں تالیفِ روح اور تربیتِ کردار کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ لیکن آج ہمیں ایک تلخ حقیقت سے انکار نہیں کرنا چاہئے۔ وہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار اہلِ خانہ ایسی شدید خواہش رکھتے ہیں کہ ان کے گھروں کی خواتین علاج کے لیے صرف لیڈی ڈاکٹر ہی کے پاس جائیں۔ یہ خواہش بجا ہے، معقول ہے، اور عزت و حیاء کے تقاضوں سے مطابقت بھی رکھتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ لیڈی ڈاکٹر آئے گی کہاں سے؟جب ہم اپنی ہی بیٹیوں کے لیے علم کے دروازے بند رکھ دیں،جب ہم اُن کے لیے کالج تک کا راستہ تنگ کر دیں،جب ہم اپنے گھروں میں روشن مستقبل کے بجائے بے جا خوف کے سایے بسا دیں— تو پھر طبیبہ، معلمہ، عالمہ اور رہنما کہاں پیدا ہوں گی؟ یہ سوال محض سوال نہیں، ہماری اجتماعی سوچ کا آئینہ ہے۔
جب کبھی شہر و دیہات میں یہ خبر گردش کرتی ہے کہ فلاں گھر کی لڑکی محبت کے بہکاوے میں آ کر کسی دوسرے مذہب والے کے ساتھ گھر چھوڑ گئی، یا اس نے مذہب بدل لیا، یا خاندان سے بغاوت کر کے کسی اجنبی کے ساتھ نئی زندگی شروع کر دی—تو ہم فوراً حیرت کے خول میں بند ہو جاتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حادثہ ایک دن کی لغزش نہیں ہوتا۔ یہ برسوں کے جمع شدہ خلا کا نتیجہ ہوتا ہے۔گھر میں محبت کی زبان نہ ہو، دل کھول کر بات کرنے کا ماحول نہ ہو، ماں باپ کے درمیان اعتماد کی ڈور کمزور ہو جائے، اور باہر کی دنیا رنگارنگ خوشنماؤں کے ساتھ دل لبھانے کھڑی ہو— تو پھر گھر کی بیٹی تنہائیاں کیسے جھیلے؟ ہماری بیٹیاں بھٹکتی نہیں، بلکہ ہم انہیں بھٹکنے دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اُن سے دوستی نہیں کی، ہم نے اُن کی ذہنی و جذباتی ضرورتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، ہم نے اُن کی عمر کے تقاضوں کو زمانے کی تیزی کے مطابق نہیں پرکھا۔ ایک بیٹی کو صرف نان و نفقہ نہیں چاہیے، اسے گفتگو چاہیے، اسے قربت چاہیے، اسے یہ احساس چاہیے کہ اس کا گھر اس کی فہم و فکر کو سمجھتا ہے۔ اور جب گھر یہ مہربانی نہ دے، تو باہر کی دنیا جھوٹے وعدوں کے ساتھ اس کے قدم کھینچ لیتی ہے۔
اولاد کی تربیت نہ سزا سے ہوتی ہے نہ بےمہار آزادی سے۔ تربیت وہ باریک ریشمی دھاگہ ہے جسے محبت اور حکمت دونوں سے بُنا جاتا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ گھروں میں سختی کو تربیت سمجھ لیا گیا ہے، اور کچھ گھروں میں بےپرواہی کو محبت کا نام دے دیا گیا ہے۔ دونوں صورتیں شخصیت کو توڑ دیتی ہیں۔ بیٹی کے سامنے اگر صرف خوف کی دیواریں ہوں، اگر اُس کے سوالات کو گستاخی سمجھا جائے، اگر اس کے جذبات کو جرم بنا دیا جائے— تو پھر وہ اپنے لیے راستے گھر کے اندر نہیں تلاش کرتی، بلکہ باہر ڈھونڈتی ہے۔ اور باہر ہر وہ رنگ موجود ہے جو اُس کی عمر کے دل کو لبھاتا ہے۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ بیٹیاں صرف بیٹیاں نہیں ہوتیں؛ وہ خاندان کی تہذیب کی امین ہوتی ہیں، ماں بن کر نئی نسلیں سنوارتی ہیں، استاد بن کر ذہن روشن کرتی ہیں، اور اگر موقع ملے تو ڈاکٹر بن کر زندگیوں کو بچاتی ہیں۔ لیکن یہ سارے مراحل ایک بنیاد چاہتے ہیں: گھر کی محبت، گھر کا اعتماد، اور گھر میں مکالمے کا ماحول۔ ماں اگر بیٹی کی پہلی استاد ہے، تو باپ بیٹی کا پہلا محافظ۔ اور دونوں مل کر اُس کی شخصیت کی بنیاد بناتے ہیں۔ بیٹی کو پڑھنے دیجئے، سوال کرنے دیجئے، سوچنے دیجئے، اپنی پہچان بنانے دیجئے۔ اسے صرف رشتوں کی نہیں، بلکہ زندگی کے فیصلوں کی سمجھ بھی دیجئے۔ یہی تربیت ہے، یہی سرمایہ ہے، یہی اصل ہنر ہے۔
تعلیم کا دروازہ جب بند ہوتا ہے تو ذہن اندھیرے میں چلے جاتے ہیں۔ اور تربیت کا چراغ جب بجھ جائے تو قدم گمراہی کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دونوں کو—تعلیم اور تربیت—کو ایک دوسرے کا مددگار بنائیں، نہ کہ مخالف۔ ہماری بیٹیاں اگر ڈاکٹر بنیں گی تو ماں باپ کے اعتماد سے، اگر عالمہ بنیں گی تو توازن اور فہم سے، اگر معلمہ بنیں گی تو مضبوط اخلاق اور وسیع نظر سے۔اور یہ سب تب ہوگا جب گھر میں علم کا احترام ہو اور تربیت کا وقار قائم ہو۔
ہر گھر میں یہ خواہش موجود ہے کہ علاج کے لیے خواتین کے پاس خواتین ہی ہوں۔ یہ خواہش اسلامی، اخلاقی اور سماجی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ مگر سوال پھر وہی کھڑا ہے: جب ہم اپنی ہی بیٹیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں گے، جب ہم انہیں صرف چار دیواری تک محدود کر دیں گے، جب ہم ان کے مستقبل کو صرف شادی تک محدود سمجھیں گے— تو پھر وہ لیڈی ڈاکٹر کہاں سے پیدا ہوگی جس کے پاس ہم اپنی خواتین کو بھیجنے کے آرزومند ہیں؟ قومیں خواہشوں سے نہیں بنتیں، عزم، فیصلوں اور روشن حکمتِ عملی سے بنتی ہیں۔ اگر بیٹی کو ہم نے پروان چڑھنے کا موقع ہی نہ دیا، تو وہ کیسے ایک کارآمد فرد بنے گی؟
کسی بیٹی کو جو سب سے قیمتی تحفہ دیا جا سکتا ہے، وہ اعتماد ہے۔ گھر کا اعتماد، ماں کا اعتماد، باپ کا اعتماد۔ اگر بیٹی کو محسوس ہو کہ اس کی بات کو وزن دیا جاتا ہے، اگر وہ جان لے کہ اس کے جذبات کو سمجھا جاتا ہے، اگر وہ دیکھے کہ گھر میں اُس کے فیصلوں پر حکمت اور محبت دونوں کا سایہ ہے— تو وہ کبھی کسی بیرونی دھوکے میں نہیں آئے گی۔ باہر کی دنیا صرف اسی کو بہکاتی ہے جو گھر کے اعتماد سے محروم ہو۔
آخرِ کار پوری گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ ہماری بیٹیاں کسی حادثاتی ضعف یا وقتی بھٹکاؤ کا شکار نہیں ہوتیں بلکہ اُن کے اندر پیدا ہونے والا ہر خلا، ہر کمزوری، اور ہر بے سمتی دراصل ہمارے اپنے رویّوں، ہماری گھریلو فضا اور ہماری اجتماعی سوچ کی کمزوریاں عیاں کرتی ہے۔ بیٹی اگر گھر سے دور بھاگتی ہے تو وہ گھر کی تنگی سے تنگ آکر بھاگتی ہے؛ اگر وہ جھوٹے وعدوں کے سہارے باہر کی دنیا میں قدم رکھتی ہے تو اس لیے کہ اسے گھر کے اندر سچائی، ہمدردی اور سمجھ بوجھ کا سہارا نہیں ملتا۔ اولاد خواہ بیٹی ہو یا بیٹا—محبت، اعتماد اور مکالمے سے پروان چڑھتی ہے۔ محبت محدود ہو جائے، اعتماد ٹوٹ جائے اور مکالمہ ختم ہو جائے تو پھر کوئی خاندان اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ لیڈی ڈاکٹر، معلمہ، عالمہ اور ہر وہ باشعور کردار جو ہم اپنی بیٹیوں میں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ خواہشوں سے نہیں پیدا ہوتے، بلکہ انہیں علم اور تربیت کے امتزاج سے پروان چڑھایا جاتا ہے۔ جہاں تعلیم روک دی جائے، وہاں صلاحیت دم توڑ دیتی ہے؛ جہاں تربیت کمزور ہو جائے، وہاں کردار بکھر جاتا ہے۔ ہم ایک جانب چاہتے ہیں کہ ہماری خواتین علاج کے لیے صرف خواتین کے پاس جائیں، لیکن دوسری طرف اپنی ہی بیٹیوں کے لیے تعلیم کے راستے بند کر دیتے ہیں۔ یہ تضاد اصل زوال کی علامت ہے۔
ہمیں یہ باور کرنا ہوگا کہ بیٹیوں کی عزت اور حفاظت صرف دیواروں سے نہیں ہوتی بلکہ اُن کے ذہن و دل کو مضبوط بنانے سے ہوتی ہے۔ ایک باشعور، باکردار، تعلیم یافتہ بیٹی نہ صرف اپنے گھر کی عزت ہوتی ہے بلکہ اپنی آئندہ نسلوں کی معمار بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم دینا بھی ضروری ہے اور تربیت کرنا بھی۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ لہٰذا ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کے لیے گھر کو محبت، اعتماد اور حکمت کا گہوارہ بنائیں۔ اُنہیں وہ سہارا دیں جس کی کمی انہیں باہر دھکیلتی ہے۔ اُنہیں وہ بصیرت دیں جو اُنہیں ہر غلط قدم سے بچا سکے۔ اُنہیں وہ تعلیم دیں جو ان کی شخصیت کو وسعت دے، اور وہ تربیت دیں جو ان کے کردار کو روشنی دے۔ یہی روشنی خاندان کو بھی جگمگاتی ہے اور معاشرے کو بھی۔
خلاصہ یہ ہے کہ بیٹیوں کی حفاظت صرف پردے یا سخت پابندیوں سے یقینی نہیں ہوتی، بلکہ ان کی ہدایت و رہنمائی، علمی تربیت اور دلوں میں ایمان کی جڑیں مضبوط کرنے سے ہوتی ہے۔ تعلیم انہیں عقل و شعور عطا کرتی ہے اور تربیت انہیں کردار و وقار؛ دونوں کے بغیر کوئی نسل اپنے ایمان و عمل میں ثابت قدم نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ بیٹیوں کو علم کا زیور پہنائیں، انہیں دین کی روشنی سے منور کریں، اور ان کے دلوں میں عزّت و حسّاسیت، وقار و ایمان پروان چڑھائیں تاکہ وہ اپنے گھر، خاندان اور امت کے لیے موجبِ فخر بن سکیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اولاد کی صحیح تربیت اور انہیں صالح و بافکر بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
[email protected]