توجہ طلب
عزیز الرحمن
ہم روزانہ جس طرح خوراک کی تازگی پر نظر رکھتے ہیں، اسی طرح ادویہ کی پیکنگ پر چھپی ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ بھی ہماری توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ تاریخ گزرنے کے بعد ہر دوا نقصان دہ یا بے فائدہ ہو جاتی ہے، اس لیے اسے فوراً پھینک دینا چاہئے۔ مگر کیا یہ خیال واقعی درست ہے؟ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا ہم سمجھتے آئے ہیں۔ حالیہ سائنسی تجربات نے ادویہ کی ایکسپائری کے بارے میں کئی حیران کن حقائق بے نقاب کیے ہیں، جنہوں نے ڈاکٹرز، فارماسسٹس اور عام مریضوں کے ذہنوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مضمون میں انہی حقائق، غلط فہمیوں اور احتیاطی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ عام قاری کو درست اور قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جا سکیں۔
یہ سوال ہمیشہ لوگوں کو حیران کرتا ہے کہ کیا دوا اپنی ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ گزرنے کے بعد بھی کام کر سکتی ہے؟ امریکا میں کی گئی تحقیق نے اس کا جواب غیرمتوقع انداز میں سامنے رکھا ہے۔ چند سال پہلے سان فرانسسکو کے ایک میڈیکل اسٹور کے گودام سے اچانک چالیس سال پرانی ادویات کا بڑا ذخیرہ ملا۔ یہ خبر مشہور کیمسٹ اور یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پروفیسر ڈاکٹر لی کنٹرل تک پہنچی تو وہ فوراً متجسس ہو گئے۔ اس کی تحقیق کا بنیادی موضوع ہی یہ تھا کہ کیا کمپنیاں جن تاریخوں کو ’’ایکسپائری‘‘ قرار دیتی ہیں، وہ حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں یا محض ایک تجارتی ضرورت؟
عام طور پر دوا کی بوتلوں اور پیکٹس پر ایک تا تین سال بعد کی تاریخِ تنسیخ لکھی ہوتی ہے اور کمپنی کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ مدت ختم ہونے کے بعد دوا قابلِ استعمال نہیں رہتی۔ لیکن کنٹرل یہ جاننا چاہتے تھے کہ حقیقت کیا ہے۔ وہ فوراً اس میڈیکل اسٹور پہنچے اور چالیس سال پرانی تمام ادویہ خرید کر اپنی جدید لیبارٹری میں لے گئے۔ انہوںنے اپنے کیمسٹ دوست رائے جینا کو بھی بلایا تاکہ زیادہ گہرائی سے تجزیہ کیا جا سکے۔ ان پرانی ادویات کے بارے میں عام خیال یہی تھا کہ وہ اب صرف کچرے کے قابل ہیں، لیکن دونوں محققین اس سے مطمئن نہیں تھے۔
دراصل لی کنٹرل کئی سال پہلے ایک ذاتی واقعے کے بعد اس موضوع میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ اس کی ایک رشتہ دار نے نزلہ اور بخار میں غلطی سے ایک ایسی دوا کھا لی جو دو سال پہلے ایکسپائر ہو چکی تھی مگر حیرت انگیز طور پر وہ دوا فوراً اثر کر گئی۔ یہ واقعہ کنٹرل کے علم میں آیا تو انہیں محسوس ہوا کہ شاید اصل کہانی کچھ اور ہے۔ وہ اسی دن سے یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ ایکسپائری ڈیٹ کی حقیقت پتہ کرنی ہے۔لیبارٹری میں ان ادویات کے 41 کیمیائی اجزا کا باریک بینی سے ٹیسٹ کیا گیا۔ یہ اجزا دردکُش، اینٹی ہسٹامین، اور دیگر عام استعمال میں آنے والی دواؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رپورٹ سامنے آئی تو دونوں حیران رہ گئے۔ چودہ بنیادی مادّوں میں سے بارہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ موجود تھے۔ صرف دو مادّے کچھ کمزور ہوئے تھے، لیکن وہ بھی قابلِ استعمال تھے۔ یعنی چالیس سال تک پڑی رہنے والی ادویات بھی اب تک مؤثر تھیںیہ ایک حیران کن سائنسی انکشاف تھا۔
اس تحقیق نے ثابت کر دیا کہ زیادہ تر ادویات تاریخِ تنسیخ گزر جانے کے بعد بھی طویل عرصہ مؤثر رہتی ہیں، اور ان کا فائدہ مریض کو پہنچ سکتا ہے۔ کنٹرل چاہتے تھے کہ اس سچائی کو سامنے لایا جائے کیونکہ امریکا میں ہر سال اربوں ڈالر کی دوائیں صرف ’’ایکسپائر‘‘ ہونے کے نام پر پھینک دی جاتی ہیں، حالانکہ ان میں سے بہت سی دوائیں مؤثر رہ سکتی ہیں۔ یہ تحقیق نہ صرف عوام کے لیے مفید تھی بلکہ اسپتالوں اور بڑے اداروں کے کروڑوں ڈالر بھی بچا سکتی تھی۔ لیکن اصل سوال یہ تھا کہ کیا ادویہ ساز کمپنیاں اس سچ کو سامنے آنے دینا چاہیں گی؟ یہ ایک الگ بحث ہے، مگر کنٹرل اور ان کی ٹیم کی تحقیق نے ایک اہم حقیقت ضرور کھول دی ایکسپائری ڈیٹ سب کچھ نہیں ہوتی۔ بہت سی دوائیں اس تاریخ کے بعد بھی کام کرتی ہیں۔
امریکی میڈیا نے لی کنٹرل اور رائے جینا کی تحقیق کو جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا۔ صرف چند رسائل اور ویب سائٹس نے اُن کے نتائج شائع کیے۔ اصل وجہ یہ تھی کہ یہ تحقیق براہِ راست اُن بڑی ادویہ ساز کمپنیوں کے خلاف جاتی تھی جو ہر سال امریکی میڈیا کو کروڑوں ڈالر کے اشتہارات دیتی ہیں۔ اس لیے نمایاں میڈیا ہاؤسز نے سچائی کی بجائے پیسے کو ترجیح دی۔ افسوس کہ آج دنیا بھر میں دولت کی چاہت اخلاقیات اور دیانت پر حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا کی زیادہ تر بڑی فارماسیوٹیکل کمپنیاں امریکا اور یورپ میں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ تحقیق پر بے شمار سرمایہ خرچ کرتی ہیں اور اسی وجہ سے انہیں کچھ عرصہ تک نئی دوا پر مکمل حقوق بھی دیے جاتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی یہ مدت ختم ہوتی ہے، دوسری کمپنیاں بھی اس دوا کی جینرک شکل تیار کرنے لگتی ہیں۔ بھارت اور چین اسی میدان میں سب سے آگے ہیں۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب مغربی معاشرے میں مادہ پرستی بڑھی اور پیسے کو ہی سب کچھ سمجھا جانے لگا، تو ادویہ ساز کمپنیاں بھی اسی چکر میں پڑ گئیں۔ آج بہت سی کمپنیاں دواؤں کی قیمتیں بے حد بڑھا دیتی ہیں، اور مختلف طریقوں سے کوشش کرتی ہیں کہ مارکیٹ میں انہی کی دوا چلتی رہے۔ بعض کمپنیاں چھوٹی کمپنیوں کو باقاعدہ رقم دیتی ہیں تاکہ وہ جینرک دوا نہ بنائیں، کیونکہ جینرک کی قیمت کم ہوتی ہے اور وہ جلد مارکیٹ پر چھا جاتی ہے۔ یہی نہیں، ان کمپنیوں پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کو مہنگی سہولتیں اور تحائف دیتی ہیں تاکہ وہ نسخوں میں انہی کی دوا لکھیں۔ لی کنٹرل اور رائے جینا کے مطابق دوا کی ’’ایکسپائری ڈیٹ‘‘ بھی ایک بڑا دھوکہ ہے۔ کئی کمپنیاں جان بوجھ کر اپنی ادویہ کی ایکسپائری کم رکھتی ہیں تاکہ وہ جلد ’’ضائع‘‘ ہو جائیں اور لوگ نئی دوا خریدنے پر مجبور ہوں۔ بظاہر یہ سب کچھ قانون کے اندر رہ کر کیا جاتا ہے، اس لیے ان سے کچھ پوچھا بھی نہیں جا سکتا۔ مگر تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ زیادہ تر ادویہ ایکسپائری گزرنے کے بعد بھی برسوں تک مؤثر رہتی ہیں اور مریض کو فائدہ پہنچاتی ہیں۔
لی کنٹرل کے مسلسل دباؤ کے بعد یہ ضرور ہوا کہ آج امریکی اور یورپی میڈیکل ویب سائٹس پر ایکسپائری ڈیٹ سے متعلق کافی معلومات موجود ہیں۔ ان کا خلاصہ یہی ہے کہ کئی ادویہ اپنی مقررہ تاریخ کے بعد بھی قابلِ استعمال رہتی ہیں۔1986ء میں امریکی حکومت نے ایک بڑا تحقیقی منصوبہ شروع کیا جس کا نام ’’شیلف لائف ایکسٹینشن پروگرام‘‘ رکھا گیا۔ اس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ کون سی ادویہ ایکسپائری گزرنے کے بعد بھی کتنے عرصے تک محفوظ اور مؤثر رہتی ہیں۔ یہ ادویہ کسی ہنگامی صورت میں کام آ سکتی تھیں، اس لیے انہیں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت جاننا ضروری تھا۔
اس پروگرام کے تحت 122 دواؤں پر تحقیق ہوئی اور ان کے 3000 بیچز کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔ طاقت، پی ایچ، نمی، ساخت اور ملاوٹ سب کچھ دیکھا گیا۔ بیس سال بعد 2006ء میں تحقیق مکمل ہوئی اور حیران کن طور پر پتا چلا کہ 88 فیصد ادویہ ایکسپائری ڈیٹ گزرنے کے بعد بھی کم از کم 66 ماہ تک مؤثر رہتی ہیں۔ کئی ادویہ تو اپنی تاریخ تنسیخ کے چار سال بعد بھی پوری طرح کارآمد تھیں۔ اس تحقیق میں اموکسیسلین، سائپروفلوکسین، ڈفن ہائیڈرامائن اور مارفین سلفیٹ جیسی مشہور ادویہ شامل تھیں۔ ان میں سے کچھ ادویہ ایکسپائری کے بعد 12 ماہ سے لے کر 184 ماہ (یعنی تقریباً 15 سال) تک قابلِ استعمال رہیں۔
جون 2020ء میں امریکی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ کووڈ-19 میں استعمال ہونے والی ادویہ، جیسے تامی فلو اور ریلینزہ، بھی ایکسپائری گزرنے کے بعد طویل عرصہ تک مؤثر رہتی ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ریلینزہ دس سال اور تامی فلو پندرہ سال بعد بھی استعمال کے قابل رہتی ہے۔ شیلف لائف ایکسٹینشن پروگرام سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ زیادہ تر ادویہ ایکسپائری ڈیٹ گزرنے کے بعد استعمال کی جائیں تو وہ انسان پر کوئی مضر اثرات نہیں ڈالتی ہیں۔ لوگ عموماً اس خوف سے دوائیں پھینک دیتے ہیں کہ ایکسپائری کے بعد وہ نقصان پہنچائیں گی، لیکن تحقیق نے ثابت کیا کہ یہ خیال ہر جگہ درست نہیں۔ ماہرینِ طب کے مطابق ایک دوا کی ایکسپائری کے بعد مؤثر رہنے کا دارومدار کئی باتوں پر ہوتا ہے:
اس کے اجزا کیا ہیں؟
اس میں پریزرویٹیوز کتنے مضبوط ہیں؟
دوا کو کس درجہ حرارت، کتنی روشنی اور کتنی نمی میں رکھا گیا؟
اور مجموعی طور پر اسے محفوظ کیسے کیا گیا؟
تحقیق سے معلوم ہوا کہ گولیاں اور کیپسول اپنی ایکسپائری کے بعد بھی لمبے عرصے تک طاقت برقرار رکھتے ہیں۔ لیکن مائع ادویہ، خصوصاً وہ جو فریج میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہیں، ایکسپائری کے بعد جلد کمزور ہو جاتی ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دوا مؤثر نہیں رہتی، اور اثر کم ہونا ہی خطرہ ہے۔ نئی تحقیق کے بعد امریکی طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ اگر دوا مناسب حالات میں، خاص طور پر صحیح طریقے سے فریج میں رکھی گئی ہو، تو اسے ایکسپائری کے چند ماہ بعد تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو دوا کی حالت یا اس کی اسٹوریج کے بارے میں کچھ پتہ نہیں، تو پھر بہتر ہے کہ ایکسپائری کے بعد اسے نہ لیا جائے۔
وہ ادویہ جو ایکسپائری کے بعد ہرگز استعمال نہ کریں
۱۔ انسولین
ذیابیطس کے مریضوں میں استعمال ہونے والی انسولین ایکسپائری کے بعد اپنی طاقت کھو دیتی ہے، اس لیے کبھی استعمال نہ کریں۔
۲۔ نائٹرو گلیسرین
سینے کے درد (انجائنا) میں دی جانے والی یہ دوا بوتل کھلنے کے فوراً بعد اپنی طاقت کم کرنا شروع کر دیتی ہے، خواہ ایکسپائری باقی ہو۔
۳۔ ویکسینیں
تمام ویکسینیں ایکسپائری گزرنے کے بعد مؤثر نہیں رہتیں، اس لیے ان کا استعمال بالکل نہ کریں۔
۴۔ خراب یا بُو دار ادویہ
جو دوا پرانی لگے، ڈلی ہو، بدبو آئے، یا شکل بدل گئی ہو ایسی دوا استعمال نہ کریں، چاہے ایکسپائری ڈیٹ باقی ہو۔
ادویہ محفوظ کرنے کا صحیح طریقہ
ادویہ ہمیشہ ایسی جگہ رکھیں جہاں نہ زیادہ گرمی ہو، نہ زیادہ سردی، اور نہ نمی۔ کار میں، دھوپ میں، یا بند ڈبے میں دوا رکھنا غلط ہے۔ اگر دوا مناسب طریقے سے محفوظ کی جائے تو وہ ایکسپائری گزرنے کے بعد بھی کچھ عرصہ کارآمد رہتی ہے۔
الغرض !جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زیادہ تر ادویہ اپنی ایکسپائری تاریخ گزرنے کے بعد بھی طویل عرصے تک مؤثر اور محفوظ رہتی ہیں۔ امریکہ میں کیے گئے تجربات، خصوصاً ’’شیلف لائف ایکسٹینشن پروگرام‘‘، نے ثابت کیا کہ تقریباً 88 فیصد ادویہ ایکسپائری ڈیٹ کے بعد بھی کئی برس تک اپنی طاقت برقرار رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض گولیاں اور کیپسول پندرہ سال بعد بھی کارآمد پائے گئے۔ تاہم مائع ادویہ، انسولین، نائٹروگلیسرین، ویکسینیں اور خراب حالت والی دوائیں استعمال نہیں کرنی چاہئیں، کیونکہ ان کی طاقت جلد متاثر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دوا کے مؤثر رہنے کا دارومدار اس کی نوعیت، درجہ حرارت، نمی، روشنی اور ذخیرہ کرنے کے طریقے پر ہے۔ اگر دوا صحیح ماحول میں رکھی گئی ہو تو اسے ایکسپائری کے بعد بھی چند ماہ محفوظ سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر ذخیرہ کے حالات معلوم نہ ہوں تو ایسی دوا استعمال کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سائنسی تحقیق نے واضح کیا ہے کہ دوا کی ایکسپائری کا مسئلہ اتنا سادہ نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے کچھ دوائیں خطرناک ہو جاتی ہیں، جبکہ کئی اپنی افادیت برقرار رکھتی ہیں۔
(مضمون نگار پی جی اسکالر، دارالہدی اسلامک یونیورسٹی ،کیرلاہیں)