یواین آئی
جکارتہ// مزید شدید بارشیں انڈونیشیا کے سیلاب سے متاثرہ جزیرے سْماترا کو دوبارہ خطرے میں ڈال رہی ہیں، متاثرہ صوبے کے گورنر نے خبردار کیا کہ فاقہ کشی کی وجہ سے ہلاکتیں 883 سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔گرم علاقوں کے طوفانوں اور مون سون بارشوں کا ایک سلسلہ جنوب مشرقی اور جنوبی ایشیا کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، جس نے سْماترا کے بارانی جنگلوں سے لے کر سری لنکا کے پہاڑی باغات تک لرزش اراضی اور اچانک سیلابوں سے بری طرح متاثر کیا ہے۔گزشتہ ہفتے سے انڈونیشیا، سری لنکا، ملائیشیا، تھائی لینڈ اور ویتنام میں قدرتی آفات میں تقریباً 1,770 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔انڈونیشیا کی قومی موسمیاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز آچھ اور شمالی سْماترا صوبوں میں بارشوں کا موجب بن سکتا ہے، جہاں سیلابوں نے سڑکیں بہا دی ہیں، گھروں کو مٹی سے ڈھک دیا ہے اور رسد بند کر دی ہے۔اَچھ کے گورنر موزاکر مَنف نے کہا کہ امدادی ٹیمیں تاحال کیچڑ میں لاشیں ڈھونڈ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاہم، دور دراز اور رسائی نہ ہونے والے گاؤں پر اب فاقہ کشی موت کے بادل منڈلا رہی ہے،بہت سے لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔لوگ سیلاب کی وجہ سے نہیں، بلکہ فاقہ کشی کی وجہ سے مر رہے ہیں۔موزاکر نے کہا کہ بارانی جنگلات سے ڈھکے اَچھ تامیانگ علاقے میں کئی گاوں پانی میں بہہ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے گاؤں اور اضلاع کا اب نام و نشان تک باقی نہیں بچا۔اَچھ کے رہائشی مناور لیزا زینل نے کہا کہ وہ انڈونیشین حکومت جس نے ابھی تک قومی آفت کا اعلان کرنے کے دباؤ کو مسترد کر دیا ہے، کی کاروائیوں سے نا خوش ہیں۔انہوں نے اے ایف پی کو کہایہ ایک غیر معمولی آفت ہے جس کا مقابلہ غیر معمولی اقدامات سے کیا جانا چاہیے۔’اگر قومی آفت کا درجہ بعد میں دیا گیا، تو پھر اس کا فائدہ کیا؟‘قومی آفت کا اعلان وسائل کو آزاد کرے گا اور حکومتی اداروں کو ان کے ردِعمل کا ہم آہنگی سے انتظام کرنے میں مدد دے گا۔تجزیہ کاروں نے اشارہ کیا ہے کہ انڈونیشیا آفت کا اعلان اور اضافی بیرونی امداد
طلب کرنے سے گریز کر سکتا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوگا کہ وہ اس کام کا اہل نہیں۔جیسے ہی بھرے ہوئے دریا سکڑ رہے ہیں اور سیلابی پانی پیچھے ہٹ رہا ہے، سْماترا کے دیگر حصوں میں تباہی کی سطح ابھی واضح ہو رہی ہے۔انسانی ہمدردی کی تنظیمیں خوف زدہ ہیں کہ آفت کا دائرہ ملک کے لیے بھی انتہائی تباہ کن ہو سکتا ہے یہاں تک کہ ایک ایسے ملک کے لیے جو قدرتی آفات کا عادی ہے۔آفات انتظامیہ کے مطابق انڈونیشیا میں ہلاکتیں ہفتے کی صبح تک 883 تک پہنچ گئیں، جبکہ 520 افراد لاپتہ ہیں۔