جموں خطے میں سرحد پار ملی ٹینٹوںکی دراندازی کو صفرسطح پر رکھنے کیلئے فورس پوری طرح چوکس :آئی جی بی ایس ایف
یو این آئی
جموں // بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے آپریشن سندور کے بعد 72 سے زیادہ سرگرم ملی ٹینٹ لانچ پیڈز کو بین الاقوامی سرحد کے بالکل قریب علاقوں سے ہٹا کر اندرونی مقامات میں منتقل کر دیا ہے ۔ فورس کے سینئ افسران کا کہنا ہے کہ اگر حکومت فیصلہ کرے تو بی ایس ایف ایک بار پھر پاکستان کے ملی ٹینٹ انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ جموں میں سالانہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بی ایس ایف آئی جی ششانک آنند، ڈی آئی جی وکرَم کنور اور ڈی آئی جی کُلوَنت رائے شرما نے 2025میں فورس کی کامیابیوں، خصوصاً آپریشن سندور کے اثرات اور اس کے بعد کے سکیورٹی حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ آپریشن سندور، اپریل 22 کو پہلگام میں پیش آئے ہولناک قتل عام کے بعد بھارت کی جانب سے کی گئی وہ کارروائی تھی جس نے پاکستان کی سرزمین پر موجودملی ٹینٹ ھانچوں کو شدید دھچکا پہنچایا تھا۔ ڈی آئی جی کنور کے مطابق آپریشن سندور کے دوران بی ایس ایف کی نشانہ باز کارروائیوں کے بعد پاکستان نے اپنی ملی ٹینٹ سرگرمیوں کے تمام فعال مراکز سرحدی علاقوں سے ہٹا کر اندرونی علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیے ۔ انہوں نے بتایا کہ ‘سیالکوٹ اور زفروال کے اندرونی علاقوں میں تقریباً 12 لانچ پیڈز سرگرم ہیں، جبکہ 60 سے زائد لانچ پیڈز دیگر آندرونی علاقوں میں منتقل کیے گئے ہیں۔ یہ مقامات سرحد کے بالکل اوپر نہیں بلکہ گہرائی میں ہیں‘‘۔افسر کے مطابق ملی ٹینٹوں کی تعداد اور ان کی نقل و حرکت مستقل تبدیل ہوتی رہتی ہے اور یہ لانچ پیڈز صرف اس وقت فعال ہوتے ہیں جب کسی گروہ کو بھارت میں دھکیلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت بین الاقوامی سرحد کے نزدیک کوئی باقاعدہ تربیتی کیمپ فعال نہیں، البتہ رپورٹس یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ڈپتھ ایریاز میں تربیتی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ آپریشن سندور سے قبل جیشِ محمد اور لشکرِ طیبہ کے لانچ پیڈز الگ الگ علاقوں میں سرگرم رہتے تھے ، لیکن کارروائی کے بعد پاکستان نے دونوں تنظیموں کے ملٹری ماڈیولز کو ‘مکسڈ گروپس’ کی شکل میں ترتیب دینا شروع کر دیا ہے ۔ ڈی آئی جی کنور کے مطابق ‘جوملی ٹینٹ جس گروہ سے تعلق رکھتا ہو، وہ اب مشترکہ تربیتی گروپ میں شامل ہوسکتا ہے ۔’ انہوں نے واضح کیا کہ فورس کسی بھی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘1965، 1971، کرگل جنگ یا آپریشن سندور-بی ایس ایف کے پاس ہر طرح کی جنگی صورتحال کا عملی تجربہ موجود ہے ۔ اگر حکومت کو آپریشن سندور 2.0 کی ضرورت محسوس ہو تو بی ایس ایف پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے ۔’ پاکستانی رینجرز کے ردعمل پر بات کرتے ہوئے بی ایس ایف حکام نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا، جس کے بعد وہ کئی مقامات پر اپنی پوزیشنوں پر واپس آنے میں تاخیر کرتے رہے ۔ ‘انہوں نے بعض مقامات پر اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے ، لیکن ان کی تمام سرگرمیاں ہماری مستقل نگرانی میں ہیں۔’ انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر کی بدلتی صورتحال کے مطابق بی ایس ایف اپنی حکمت عملی کو روزانہ کی بنیاد پر اپڈیٹ کر رہی ہے ، اور اگر کسی جانب سے کوئی غیر معمولی سرگرمی سامنے آئی تو فورس ‘بروقت اور بھرپور ردعمل’ دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔ تاہم فی الحال سرحدی علاقوں میں ملی ٹینٹوں کی کوئی نمایاں نقل و حرکت نہیں دیکھی گئی۔ افسران نے یقین دہانی کرائی کہ بی ایس ایف نہ صرف دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے چوکس ہے بلکہ پاکستان میں ملی ٹینٹ نیٹ ورک کی نئی حکمت عملیوں پر بھی مکمل نظر رکھے ہوئے ہے ۔ بی ایس ایف حکام کے مطابق اگر پاکستان کی جانب سے ملی ٹینٹوں کو سرحد کی طرف دھکیلنے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو جواب پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، کیونکہ آپریشن سندور کے بعد بھارت نے اپنی سرحدی دفاعی صلاحیتوں کو نئی سطح پر مستحکم کیا ہے ۔اس دوران جموں فرنٹیئر کے انسپکٹر جنرل ششانک آنند نے کہا کہ جموں خطے میں سرحد پار ملی ٹینٹوںکی دراندازی کو ’زیرو‘ سطح پر رکھنے کے لیے فورس پوری طرح چوکس ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اگست-ستمبر کی شدید طغیانی سے متاثرہ سرحدی بنیادی ڈھانچے کو بی ایس ایف نے محض ایک ماہ کے اندر نہ صرف بحال کیا بلکہ اسے مزید مضبوط بھی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حساس سرحدی علاقہ سال کے 365 دن ہر موسم میں ہائی الرٹ رہنے کا تقاضا کرتا ہے ۔ بارش ہو یا دھند، سردی ہو یا گرمی-بی ایس ایف کے جوان اپنی پوسٹیں نہیں چھوڑتے ۔’ آئی جی آنند نے بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران بی ایس ایف نے نہایت فرض شناسی اور بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دو بہادر جوان مئی میں دشمن سے لڑتے ہوئے مارے گئے جبکہ ایک اور اہلکار ستمبر میں پرگوال میں آنے والے سیلاب کے دوران ڈیوٹی پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔ انہوں نے کہا کہ جوانوں کی یہی قربانیاں ثابت کرتی ہیں کہ ملک ہمارے سپاہیوں کے لیے سب سے مقدم ہے ۔ آئی جی کے مطابق بی ایس ایف ہمسایہ ملک کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اپنی خفیہ اطلاعات کے ذریعے ملی ٹینسی کی ہر ممکن کوشش کو پہلے ہی ناکام بنانے کی حکمتِ عملی پر کام کرتی ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میں تمام ادارے -بی ایس ایف، فوج، آئی بی، ایس بی، این آئی اے اور دوسری ایجنسیاں-مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ جب آئی جی سے پوچھا گیا کہ سیلاب نے بارڈر گرڈ کو کس قدر نقصان پہنچایا، تو انہوں نے تسلیم کیا کہ اگست-ستمبر کے دوران ڈھانچہ متاثر ہوا تھا، تاہم فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے ریکارڈ مدت میں بحال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے ایک وزیر نے 31اگست اور یکم ستمبر کو صورتحال کا جائزہ لیا اور ہمیں ایک ماہ میں ڈھانچے کی بحالی کی ہدایت دی۔ بی ایس ایف نے نہ صرف یہ ہدف پورا کیا بلکہ پورے نظام کو دو سے تین گنا مضبوط بنا دیا۔’ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران تمام ممکنہ دراندازی راستوں کو اضافی اہلکاروں اور بڑھائی گئی نگرانی کے ذریعے فوراً بند کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں آنند نے منشیات اور ملی ٹینسی کے گٹھ جوڑ پر بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت 360ڈگری حکمتِ عملی کے تحت اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر ہر سطح پر سخت کارروائی کر رہی ہے ۔ ان کے مطابق یہ درست ہے کہ کچھ لوگ چند پیسوں کے لیے اپنا ملک بیچ دیتے ہیں، اور یہی صورتحال جموں و کشمیر، پنجاب اور راجستھان میں بھی دیکھی جاتی ہے ۔ دشمن ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر منشیات کی اسمگلنگ کراتا ہے ۔ آئی جی نے کہا کہ آنے والے مہینوں میں دھند اور شدید سردی دراندازی کے خطرات بڑھا دیتی ہے ، مگر بی ایس ایف کے پاس جدید ٹیکنالوجی موجود ہے جو دھند میں بھی حرکات و سکنات کو واضح طور پر شناخت کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا،ہم ہر طرح کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارے جوان جدید آلات، ہتھیاروں اور نگرانی کے ٹولز سے لیس ہیں۔