عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ کرائم برانچ کشمیر کے اکنامک آفنسز ونگ نے جمعہ کے روز زمین فراڈ کیس میں چارج شیٹ داخل کردی، جس کے بعد دو ملزمان کو عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
ملزمان کی شناخت مشتاق احمد بٹ ساکن بابا پورہ قاضی گنڈ، کولگام اور محمد یوسف ڈار ساکن کھنڈی پہاڑی ہرناغ، اننت ناگ کے طور پر ہوئی ہے۔ چارج شیٹ خصوصی جج انسدادِ بدعنوانی عدالت، اننت ناگ کے روبرو پیش کی گئی۔
کرائم برانچ کے مطابق، یہ کیس ایک تحریری شکایت سے شروع ہوا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مشتاق احمد بٹ، جو اس وقت بطور پٹواری حلقہ کھنڈی پہاڑی تعینات تھا، نے شکایت گزار کے بھائیوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے کھنڈی پہاڑی ہرناغ میں کھیوٹ نمبر 05 اور 07 کی اراضی کا ناجائز اندراج کیا۔
بیان کے مطابق، ’’اگرچہ یہ زمین عدالتی تنازعے میں تھی اور اس پر اسٹیٹس کا آرڈر بھی ریکارڈ میں درج تھا، پٹواری نے اہم حقائق چھپا کر اور جعلی اندراجات تیار کر کے متنازعہ زمین کے ایک حصے کی غیر قانونی فروخت کو ممکن بنایا۔‘‘
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ شریک ملزم محمد یوسف ڈار نے اپنی والدہ کے نام سے ایک جعلی تحفہ نامہ تیار کروایا، جبکہ اس میں درج گواہوں نے بھی اپنے دستخطوں کی تردید کی۔
شکایت گزار نے مزید الزام لگایا تھا کہ پٹواری نے ریونیو ایکسٹریکٹس جاری کرنے کے لیے رشوت طلب کی اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے رجوع کرنے کے باوجود کوئی محکمہ جاتی کارروائی نہیں کی گئی۔
کرائم برانچ کے مطابق، تحقیقات کے دوران الزامات ثابت ہونے پر ایف آئی آر نمبر 45/2015 زیر دفعات 420، 468، 471، 120-بی آر پی سی اور 5(2) پی سی ایکٹ درج کی گئی۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد، چارج شیٹ عدالتی فیصلہ کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔
ایجنسی نے مزید بتایا کہ دونوں ملزمان کو معزز عدالت نے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ محکمہ نے فراڈ اور معاشی جرائم کے خلاف کارروائی کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ـ
کرائم برانچ کشمیر نے زمین فراڈ کیس میں ملوث دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی