عظمیٰ نیوز سروس
جموں// نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اجے کمار سدھوترا نے اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں تیز رفتار ترقی کے بی جے پی کے دعووں کو “حکومتی پروپیگنڈہ” قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 اور دفعہ 35A کو منسوخ کرنے کے بعد بی جے پی کی “آمرانہ حکمرانی” کا خمیازہ مقامی لوگوں اور نوجوانوں کو بھگتنا پڑا ہے، ان فیصلوں سے نہ صرف باشندوں کو ملازمتوں اوراراضی کے آئینی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے بلکہ مہاراجہ کی سب سے بڑی ریاست کو یونین ٹیریٹری بنا دیا گیا ہے۔
سدھوترا نے کہا،”یہ وہ تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود نہیں ہے جس کا جموں میں بی جے پی کے کچھ سخت گیر کارکنوں نے اگست 2019 کی سیاسی پیشرفتوں پر خواب دیکھا تھا۔ وہ بھی اب ناراض ہیں اور پارٹی قیادت پر کھلے عام تنقید کر رہے ہیں کہ وہ جموں وکشمیر کو ایک ایسی شرمناک حالت میں لے جا رہے ہیں جہاں کے باشندوں خصوصاً نوجوانوں کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے“۔
انہوں نے الزام لگایا کہ عوام کو عملی طور پر حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ “ترقی صرف حکومتی پروپیگنڈے تک ہی محدود ہے کیونکہ زمینی سطح پر کچھ نظر نہیں آ رہا ہے”۔
این سی لیڈر نے جموں میں بجلی اور پینے کے پانی کی عدم فراہمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کی “ڈبل انجن” حکومت مختلف یوٹیلیٹی سروسز اور ہموار ترقیاتی کاموں کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر ذمہ دار حکومت کی بدترین مثال ہے۔
سدھوترا نے پارلیمنٹ میں وعدہ کرنے ، اسمبلی انتخابات نہ کرانے اور جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے میں ناکام رہنے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا ہے۔