بانہال//جوڈیشل مجسٹریٹ، بانہال نے ایک فوجی اہلکار کے 17 سال پرانے قتل کیس میں پولیس کی ’کلوزر‘ رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایس پی رام بن کو جانچ کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
ایک اہم حکم نامہ میں، جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم آئی سی)، بانہال، منموہن کمار نے ایک فوجی جوان کے 17 سال پرانے قتل کیس میں پولیس کی طرف سے درج ’کلوزر‘ رپورٹ پر عدم اطمینان ظاہر کیا ہے۔جے ایم آئی سی کی عدالت نے جمعہ کو ایس پی رام بن کو کیس کی تحقیقات کی نگرانی کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
یاد رہے کہ متعلقہ فوجی اہلکار یوراج اُتم راﺅ سال 2006 میں بانہال کے ٹھٹھار سنٹری کیمپ میں مردہ پایا گیا تھا۔
معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے جے ایم آئی سی بانہال نے اپنے حکم میں کہا کہ تفتیش میں تضادات ہیں کیونکہ ایک موقع پر تفتیشی افسر نے مشاہدہ کیا ہے کہ کچھ نامعلوم اہلکاروں نے متوفی کو قتل کیا ہے اور ساتھ ہی تفتیشی افسر (آئی او) نے خود یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دہشت گردوں کی کارروائی کے دوران اہلکار کی موت ہو سکتی ہے۔ تاہم، آئی او نے اس بات کا کوئی ثبوت جمع نہیں کیا ہے کہ رات کو آرمی کیمپ میں کوئی حادثہ یا حملہ ہوا تھا۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ آئی او کی طرف سے کی گئی تحقیقات میں سچائی کو سامنے لانے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کئے گئے ہیں، وہیں کئی مقامات پر آئی او کی ہچکچاہت ظاہر ہو رہی ہے۔ حکم میں کہا گیا کہ پولیس کی لاپرواہی اور بے حسی اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کیمپ کی چار دیواری کے اندر ملزم کی شناخت نہیں کر پائے ہیں۔
عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ “پوری تحقیقات اور کلوزر رپورٹ میں حقیقت کا فقدان ہے۔ عدالت اس طریقے سے مطمئن نہیں ہے جس میں پولیس مناسب تفتیش کرنے میں ناکام ہو کر اپنے پاو¿ں گھسیٹ رہی ہے، جس سے سنگین شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ کسی کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں”۔
حسن بھائی ولی بھائی قریشی بمقابلہ ریاست گجرات کے عنوان سے ایپکس عدالت کے مشہور فیصلے کا حوالے دیتے ہوئے، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ یہ مقدمہ بھی انصاف کے لیے مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔ کافی وقت گزر چکا ہے اور بلاشبہ اس معاملے میں فوری جانچ کی ضرورت ہے اس لیے یہ عدالت حکم دیتی ہے کہ مزید تفتیش آج سے تین ماہ کے اندر مکمل کر کے پولیس رپورٹ متعلقہ عدالت میں پیش کی جائے جس کے بعد قانون کے ساتھ معاملے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد 6 سال تک پولیس تھانہ بانہال میں کلوزر رپورٹ رکھی گئی، کیونکہ کلوزر رپورٹ سال 2016 میں تیار کی گئی تھی، لیکن سال 2021 میں عدالت میں پیش کی گئی۔
بانہال: فوجی اہلکار کے 17 سال پرانے قتل معاملے کی دوبارہ جانچ کا حکم