ڈاکٹر عریف جامعی
انسانی شخصیت کی جہات سہ گانہ یعنی عقل، جمالیات اور اخلاق انسان کی انفرادیت اور شرف کو برقرار بھی رکھتی ہیں اور نمایاں بھی کرتی ہیں۔ عقل کے ذریعے انسان انفس (باطنی) اور آفاق (خارجی) حقائق کو سمجھ کر ایک طرف علمی بنیادوں پر اپنے تفوق کو ثابت کرتا ہے اور دوسری طرف دنیا میں اپنے قیام کو آسان بناتا ہے۔ حس جمالیات انسان کو دنیا میں اپنی حیثیت خوب سے خوب تر بنانے میں مدد کرتی ہے۔ جہاں تک اخلاق کا تعلق ہے تو اس کے ذریعے انسان اپنے حقیقی جوہر کو سامنے لاتا ہے۔ اسی سے عقل اور جمالیات سے حاصل شدہ علم اور ثقافت کا انسانی معاشرت پر سلیقے، ڈھنگ اور اعتدال کے ساتھ اطلاق ہوتا ہے۔ اسی اعتدال اور اقتصاد کا یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ انسانی معاشرہ شقاوت سے بچتا اور سعادت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ یعنی دنیا میں انسان کو صلاح نصیب ہوتی ہے اور آخرت سے فلاح سے شادکام ہوتا ہے۔
تاہم انسانی شخصیت کی کسی بھی جہت کا اسی وقت اندازہ لگایا جاسکتا ہے جب وہ ایک رویہ بن کرسامنے آجائے۔ انفرادی سطح پر سامنے آنے والا یہی رویہ جب معاشرے کا ایک معتدبہ طبقہ اپناتا ہے، اس وقت یہ ایک معاشرتی روایت یا قدر کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اب جہاں تک اس روایت کے بننے، پنپنے اور ایک ٹھوس یا ناقابل انکار حقیقت کے طور پر سامنے آنے کا تعلق ہے تو اس کے لئے زمان کی خاص مدت کے ساتھ ساتھ مکان کی ایک حد اور وسعت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ روایت زمان و مکان کے انہی ابعاد (ڈائمینشنز) میں نشوونما پاتی ہے جن سے ہم واقف ہیں۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ یہ روایت خلا میں بنتی ہے اور نہ ہی کوئی فوق البشر وجود کسی مابعدالطبعیاتی مقام سے درآمد کرکے اسے انسانی دنیا میں متعارف کراتا ہے۔ یعنی انسانی معاشرے میں روایت کو اسی صورت میں استحکام کے ساتھ دوام حاصل ہوتا ہے جب معاشرہ اس پر تسلسل اور تدریج کے ساتھ عمل پیرا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک روایت کو روایت بننے میں ایک تاریخی عمل کی حاجت ہوتی ہے، جبکہ اسی روایت کو لمحات میں نیست و نابود کیا جاسکتا ہے۔
اخلاقی رویوں میں قناعت شعاری کو ایک اعلی مقام حاصل ہے۔ یہ رویہ فرد میں پیدا ہو تو اسے نہ صرف سکون و اطمینان سے سرشار کرتا ہےبلکہ ایسا شخص تمکین و توقیر اور عزت و وقار کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ رویہ جب گھرانوں اور خاندانوں میں راہ پاتا ہے تو یہ خوشحالی اور آسودگی کی آپ مثال بن جاتے ہیں اور یہی رویہ جب معاشرے میں ایک روایت کے طور پر پھلنے پھولنے لگتا ہے تو معاشرہ سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ یہاں پر اس بات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ اس رویے (یعنی قناعت) کا تعلق فقط روپے پیسے یا مادی اشیاء کی بچت یا حسن استعمال سے نہیں ہے۔ اصل میں یہ رویہ انسانی قوی کو اس طرح مجتمع کرتا ہے کہ انسان جذبات، نفسیات اور احساسات کی سطح پر عزت نفس، جرأت اور تمکنت کا ایک شاہکار بن جاتا ہے۔ ایسا شخص “ہمت مرداں مدد خدا” کے اصول پر کارفرما ہوکر اپنے اندر ہر کام خود انجام دینے کا حوصلہ پیدا کرلیتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ قناعت شعار انسان اسباب سے کنارہ کش یا لاتعلق ہوتا ہے۔ اصل میں ایسا شخص مسبب الاسباب (خدا) سے لو لگاکر اپنی استعداد (میرٹ) اس قدر بلند کرتا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اس کے لئے آسانی اور ترقی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ اس طرح قانع کی نہ صرف عزت نفس بنی رہتی ہے بلکہ اس کی خودی پر بھی کوئی آنچ نہیں آتی:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خو پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
عزت نفس کو محفوظ رکھنے کا یہی جذبہ سیدنا عمر ؓ کو اپنے انصاری بھائی کے ساتھ دکانداری کرنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ قناعت شعاری کا یہی رویہ سیدنا علیؓ کو اپنی راتوں کا آرام چھوڑ کر یہودی کے باغ کو چند سیر کھجوروں کے عوض سیراب کرنے پر تیار کرتا ہے۔ خودداری کی یہی صفت سیدنا عبدالرحمن ابن عوف ؓ کو مدینہ منورہ کا صف اول کا تاجر بناتا ہے، جو یہودی تاجروں کے برسوں کے استحصال کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ایسے ہی قناعت شعار معاشرے میں رشوت خوری کا بھی خاتمہ ہوتا ہے اور ساتھ ساتھ خلق خدا مایوسی کے گرداب سے بھی نکلتی ہے۔ ایسے ہی معاشرے میں بھوک اور بیماری کے ساتھ ساتھ خود سوزی کا بھی نام و نشان مٹتا ہے۔
واضح رہے کہ ایسے معاشرے میں مال و دولت کے انبار ہوتے ہیں اور نہ ہی سونے چاندی کے ڈھیر۔ البتہ جو چیز یہاں پر وافر مقدار میں موجود ہوتی ہے، وہ ہے ہمت، حوصلے، جرأت، عزت نفس اور خودداری کی فراوانی۔ اس معاشرے کے لوگ کاہل ہوتے ہیں اور نہ کسل مند۔ یہ لوگ طفولیت (پیراسائٹزم) یعنی دوسروں پر مکمل انحصار کرنے کے بھی قائل نہیں ہوتے۔ یہ لوگ “الید العلیا خیر من ید السفلی” (دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے) جیسے آفاقی اصول پر یقین رکھنے والے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ رسالتمآبؐ اس سلسلے میں اپنے صحابہ ؓ کی خوب تربیت فرماتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاشرے کے آزاد کردہ غلام بھی اس شاہراہ قناعت کے شہسوار بن جاتے تھے۔ ثوبانؓ ، جو آپؐ کے آزاد کردہ غلام تھے، نے جب نبی ؐکی زبان مبارک سے یہ سنا کہ “جو شخص مجھے اس بات کی ضمانت دے گا کہ وہ لوگوں کے سامنے کسی چیز کے لئے دست سوال دراز نہیں کرے گا، میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں،” (سنن ابی داؤد) تو ثوبانؓ نے جونہی اس بات کی ضمانت دی تو ان کا رویہ اس قدر تبدیل ہوگیا کہ اگر سواری سے ان کا کوڑا (تازیانہ) گر جاتا، تو وہ اس کے لئے بھی کسی سے سوال نہیں کرتے تھےبلکہ خود سواری سے اتر کر کوڑا اٹھا لیتے تھے۔
واضح ہوا کہ عزت نفس اور خودداری کو بنائے رکھنے کے لئے سوال کرنے والی نفسیات کو مکمل قابو کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے پوری شخصیت کی تشکیل نو ہوتی ہے، جب ہی زبان رسالتؐ سے اس شخص کے لئے جنت (فلاح) کا مژدہ سنایا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ جنت کا راستہ دنیا سے ہی ہوکر گزرتا ہے، اس لئے ایسا شخص خود اعتمادی اور خود انحصاری کی ایک نادر مثال بن جاتا ہے۔ ایسے ہی لوگ معاشرے کے گلہائے سرسبد بن جاتے ہیں، جو نہ صرف اپنی اٹھان بلکہ معاشرے کی خوشحالی کا ذریعہ بھی بن جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ اٹھان اور خوشحالی صرف مالی اور معاشی نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمہ جہت ہوتی ہے۔ ایسا شخص، بقول علامہ اقبال “خلاق” اور “مشتاق” بن جاتا ہے۔ ایسے افراد سے تشکیل پانے والے خاندان پرسکون، محنت کش اور خوشحال ہوجاتے ہیں اور ایسے گھرانوں سے تخلیق پانے والا معاشرہ ظلم، استحصال اور افراط و تفریط سے خالی ہوجاتا ہے۔ اس معاشرے سے چوری اور ڈاکہ زنی کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ ایسے معاشرے سے بھیک بھی ناپید ہوجاتی ہے اور کسی کی خود سوزی مسجد انتظامیہ، امام مسجد یا ناظم بیت المال کے کھاتے میں نہیں جاتی۔ اس معاشرے کے افراد خود پر اتنا اعتماد (ٹرسٹ) کرتے ہیں کہ انہیں ضرورت سے زیادہ “ٹرسٹوں” کی حاجت نہیں رہتی۔ اس معاشرے کے معلمین (اساتذہ) اور متعلمین (شاگردوں) میں اس قسم کا انہماک، سنجیدگی، مستقل مزاجی اور آفاقیت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ منظم کلیات اور جامعات کو گلی گلی میں قائم ہونے والے اداروں کی بھینٹ نہیں چڑھاتے۔ یعنی بقول علامہ اقبال ان میں “آفاق گیری” کی صفت عالیہ پیدا ہوجاتی ہے:
اس کی امیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دلفریب، اس کی نگہ دلنواز
یہاں ہماری غرض و غایت قطعاً یہ باور کرانا نہیں ہے کہ جب معاشرے میں قناعت شعاری پروان چڑھے گی تو مفلسی اور لاچاری کا راتوں رات خاتمہ ہوجائے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن ہے اور نہ اس کی توقع کی جاسکتی ہے۔ نتیجتاً بیت المال بھی قائم رہیں گے اور لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے والے ادارے بھی موجود رہیں گے۔ تاہم ان اداروں سے تعاون کرنے والوں اور ان سے معاشی مدد حاصل کرنے والوں، دونوں کی نفسیات اور رویے میں قناعت شعاری پیدا ہونے کی وجہ سے یہ ادارے بھیک کو فروغ دینے والے مراکز میں تبدیل نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ دینے والے صاحب ثروت لوگ جب افراط (فضول خرچی) اور تفریط (بخل) سے بچتے ہوئے میانہ روی (قناعت) کے اس قرآنی اصول پر ان اداروں کی مدد کریں گے کہ “اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے کہ پھر ملامت کیا ہوا اور ماندہ بیٹھ جائے،” (بنی اسرائیل، ۲۹) تو امداد حاصل کرنے کے لئے ان اداروں کی طرف رجوع کرنے والے ضرورت مند بھی اس قرآنی ہدایت کی پاسداری کریں گے کہ “نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مال دار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافے سے انہیں پہچان لیں گے۔ وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے۔” (البقرہ، ۲۷۳) قناعت شعاری کا یہ رویہ دونوں طبقوں کو اس قابل بنائے گا کہ وہ “آسانی اور سختی، دونوں موقعوں پر اللہ کے راستے میں خرچ” کر پائیں گے۔ (آل عمران، ۱۳۴) جس طرح ایک کامیاب اور مثالی ریاست میں مجلس عاملہ (ایگز ِکیوٹیو) کی مختلف اکائیاں بالفعل غائب ہوجاتی ہیں، بالکل اسی طرح ایک قناعت شعار معاشرے میں دینے والے اور لینے والے، دونوں پس منظر میں ہوتے ہیں اور معاشرہ ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہی وہ سبیل ہے کہ جس میں دینے والا شیخی خور بنتا ہے اور نہ ہی لینے والا کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔چونکہ اعلی اخلاق ہی زندگی کو انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطحوں پر حسن بخشتا ہے، اس لئے قناعت شعاری خوشحال شخص کو احسان جتاکر زیادہ حاصل کرنے اور ایذا رسانی (المدثر، ۶) کی نفسیات سے پاک رکھتی ہے اور یہی رویہ مستحقین کو اپنے معاشرے سے امداد اپنے حق (الذریت، ۱۹) کی صورت میں وصول کرنے کے لئے اعتماد بخشتی ہے۔ اس تناظر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مسنون دعاؤں میں سے وہ دعا میانہ روی اور قناعت شعاری کی تلقین کے لئے کافی ہے جس میں اور حاجات کے ساتھ ساتھ صاحب ثروت بخل سے اور مفلس قرض کے بوجھ سے، جبکہ دونوں کسل مندی (کاہلی، سستی) سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں: “اے اللہ! بے شک میں فکر و غم، عاجزی و سستی، بزدلی و بخل، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔” (صحیح بخاری) ظاہر ہے کہ قناعت شعار جو رب ِکائنات پر ہی توکل کرتا ہے، چاہے وہ خوشحال ہو یا تنگ حال، یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ “انسان جہاں اپنی دولت رکھے، وہیں انسان کا دل ہوگا۔” (انجیل متی، باب ۶، آیت ۲۱) اور بقول استاد شیخ محمد ابراہیم ذوق:
نہیں ہے قانع کو خواہش زر، وہ مفلسی میں بھی ہے توانگر
جہاں میں مانند کیمیا گر ہمیشہ محتاج دل غنی ہے
(مصنف محکمہ اعلی تعلیم میں اسلامک اسٹڈیز کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ9858471965
[email protected]