عمران بن رشید
مخلصؔ صاحب مرحوم کا قد اچھا خاصا تھا لیکن جسم بھاری بھرکم اور موٹاپے کی طرف مائل تھا جس کی وجہ سے اُن کی لمبائی دب سی گئی تھی یا یوں سمجھیئے کہ بھاری بھرکم جسم نے لمبائی کو اپنے احاطہ میں لیا تھا۔سرپر اکثر قراقلی اور بعض اوقات سفید سوزنی ٹوپی سجاتے تھے‘ناک آگے کی طرف ذرا سی مڑی ہوئی ‘چہرہ بھرا بھراگندمی رنگت کی طرف مائل ‘آنکھوں میں عجیب سی چمک اورخط کی شکل میں ہلکی سی سفید داڑھی دور سے ہی اپنے حسن کی تشہیر کرتے دکھائی دیتے تھے۔ اُن کی ایک عجیب سی عادت تھی کہ وہ ہمیشہ سفید رنگ کا ہی قمیض شلوارزیبِ تن کئے ملتے تھے بالخصوص موسمِ گرما میں‘کسی دوسرے رنگ کا لباس شائد ہی کبھی پہنا ہو۔لبا س کی صفائی سترائی کا اہتمام اس درجہ کرتے تھے کہ ایک ہی لباس دو تین روز بھی اگر پہنتے ‘ہر بار نیا لباس دکھائی پڑتا ۔اس سفید قمیص شلوار کے اوپر وہ ہمیشہ صدری (Sleeveless coat/Vasket) لگا یا کرتے تھے‘جو اُن کے دھان پان جسم پر اس قدر جچتی تھی کہ غضب ڈھاتے تھے ۔توند ذرا سی باہر نکل آئی تھی جو اُن کے حسن میں اضافہ کرتی تھی۔مطالعہ اور تصنیف و تالیف کے وقت عینک لگانے کی وجہ سے اُن کی آنکھوں کے نیچے ہلکے سے نیم دائرہ نما نشانات پڑگئے تھے جو قریب سے اور غور سے دیکھنے پر ہی نظر آتے تھے۔
سال 2009سے 2014 اُن کے انتقال کے سال تک میں اُن کے پا س آتا جاتا رہا ۔ہر اتوار کو دن کے دو بجے سے قریب چار بجے تک میں اُن کے پا س بیٹھتا تھا ۔اتوار کو ہی اُن کے کالم ’’عکس حیات‘‘ اور ’’رنگِ حیات‘‘ روزنامہ چٹان اور روز نامہ کشمیر عظمیٰ میں بالترتیب چھپتے تھے۔میں جب ظہر کی نماز کے بعد اُن کے پاس جاتا تو انہیں اپنے کالموں کو پڑھتے یا کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے پاتاتھا ۔وہ اُس وقت اکثر مکان کے باہر برآمدے (Varandah) میںکتابوں سے سجی میز کے قریب کرسی پر براجماں ہوتے تھے۔جب مجھے آتے دیکھتے تو اُن کے چہرے پر ایک عجیب قسم کا احساس نمودار ہوتا ‘ میں قریب پہنچ کر جب سلام کرتا تو وہ سر ہلاتے ہوئے دھیمی آواز میں میرے سلام کا جواب دے دیتے اور اپنی سیدھ میں رکھی دوسری کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے تھے ۔کچھ لمحوں بعد جب وہ اپنا مطالعہ کسی انجام کو پہنچاتے تو میری طرف متوجہ ہوتے اور گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے تھے ۔مخلصؔ صاحب ادبی محفلوں اور مجلسوں میں شرکت نہیں کرتے تھے۔ ایک روز دورانِ گفتگو راقم الحروف نے اس ضمن میں جب سوال کیا تو مرحوم نے اس قدر متاثر کُن جواب دیا کہ میں ورطہ حیرت میں پڑگیا۔فرمایا کہ دیکھئے انسان عملی ہونا چاہیئے ‘تقریبات‘تقاریر اور تحاریر محض تفننِ طبع کے لئے نہیں ہوتیں ‘بلکہ انسان عمل کے میدان میں بھی کھڑا اترنا چاہیئے ‘میں اکثر ادباء اور شعرا کو دیکھتا ہوں کہ دم دار تقریروں اور تحریروں سے عوام الناس کو نہ صرف یہ کہ محظوظ کرتے ہیں بلکہ اپنی سحرانگیزیوں سے لوگوں کو مسحور بھی کرتے ہیں ‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمینی سطح (Ground Level)پروہ ادباء حقیقی زندگی میں اکثر بے عمل اور شہرت کے پجاری نظر آتے ہیں ۔رہے شعرا ء حضرات تو ان کا تو پوچھیئے ہی مت ‘یہاں ہمارے کشمیر میں دو گھروں کو چھوڑ کر ہر تیسرے گھر میں ایک غیر معیاری شاعر رہتا ہے ۔اگر چہ ان ادباء اور شعراء میں سبھی لوگ شامل نہیں ہیں الا ماشاء اللہ ایسے قدآور ادب نوازبھی ہیںکہ جن کی خدمات کوہِ طور کی سی اونچائی اور تقدیس کی حامل ہیں تاہم ان حضرات کی موجود گی بے تال ادباء اور شعرا ء کی ہاہا کار میں دب چکی ہے۔ایسا پُرتاثیر جواب سن کر میں نے کبھی بھی پھر مخلصؔصاحب سے ادبی محفلوں میں شرکت نہ کرنے پر سوال نہیں کیا۔
مخلصؔ صاحب کم گو تھے اور زیادہ باتونی لوگوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔سنجیدگی اور متانت کے ساتھ ساتھ اُن میں ہلکا مزاحیہ انداز بھی تھا ۔وہ باضمیر ‘باہمت ‘حوصلہ مند اور نہایت غیرت مند شخصیت کے مالک تھے اور حاضر جواب بھی۔وہ دھبے قدموں چلتے تھے کسی عذر یا کسی بیماری کے سبب نہیں دراصل وہ نہایت سنجیدہ اور بردبار تھے۔اردو اور فارسی پر قدرت نے غضب کی پکڑ عطا کی تھی‘ان کی تحریروں کی چاشنی اور مٹھاس کے آگے بڑے بڑوں کے رشحاتِ قلم ہیچ نظر آتے ہیں۔کثرتِ مطالعہ کی وجہ سے اُن کی آنکھیں کسی قدر متاثر ہوئی تھیں اور کثرتِ تحریر کے سبب ان کے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں بل پڑگئے تھے۔تصنیف و تالیف کے تئین اس قدر سنجیدہ اور حساس رہنا میںنے ایک اُن ہی کو دیکھا ہے ‘اُن کا کوئی بھی انشائیہ اُٹھا کر پڑھیئے الفاظ کی تراش خراش اور جملوں کی ترکیب میں ایسا حسن ہے کہ قاری پڑھتے ہی موصوف کا معتقد ہوجاتا ہے۔کشمیر کی سر زمین سے چند ہی انشائیہ نگار اُٹھے ہیں جن میں مخلصؔ مرحوم کا نام سورج کی مانند تاباں و درخشاں ہے ۔ بے شک یہ سورج سن2014 میں غروب تو ہوگیا لیکن اس کی ضَوفِشانی ہمیشہ باقی رہے گی اور آئندہ نسل کے لئے مشعلِ راہ کا کام کرے گی۔
���
سیر جاگیر سوپور،موبائل نمبر؛8825090545