ڈاکٹر محمد وسع ظفر
اب اس بات پر ایک سچا واقعہ ملاحظہ کیجئے جسے بیان کرنے والے علامہ عنایت اللہ مشرقی (۲۵؍ اگست ۱۸۸۸ء ۔ ۲۷؍ اگست ۱۹۶۳ء) ہیںاور جس کا تعلق انگلستان کے مشہور ماہر فلکیات پروفیسر سر جیمزجینس (۱۱؍ ستمبر ۱۸۷۷ء ۔ ۱۶ ؍ ستمبر ۱۹۴۶ء ) سے ہے۔ علامہ مشرقی فرماتے ہیں: ’’۱۹۰۹ء کا ذکر ہے، اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہورہی تھی۔ میں کسی کام کے لئے باہر نکلا تو جامعہ کیمبرج کے مشہور ماہر فلکیات سر جیمز جینس (Sir James Jeans) پرنظر پڑی جو بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جارہے تھے۔ میں نے قریب ہوکر سلام کیا۔ انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوبارہ سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، ’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘، میں نے کہا، دو باتیں ؛ اول یہ کہ زور کی بارش ہورہی ہے اور آپ نے چھاتا بغل میں داب رکھا ہے۔ اگر کوئی مصلحت مانع نہ ہوتو تان لیجئے۔ سر جیمز اپنی بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتا تان لیا۔
دوم یہ کہ آپ جیساشہرۂ آفاق (سائنس داں) چرچ میںعبادت کے لئے جارہا ہے، یہ کیا؟ بات یہ ہے کہ اس زمانے میں سائنس کے انکشافات اور نوبنو حقائق نے مذہب کو تعلیمی حلقوں سے باہر نکال دیا تھا اور تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کے نام سے بیزار ہوچکا تھا۔ میرے اس سوال پر پروفیسر جیمزلمحہ بھر کے لئے رک گئے اور میری طرف متوجہ ہوکر فرمانے لگے: ’’آج شام کو چائے میرے ساتھ پیئو۔‘‘ میں شام کے وقت ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ ٹھیک ۴؍بجے لیڈی جیمز باہر آکر کہنے لگیں ، ’’سر جیمز تمھارے منتظر ہیں‘‘۔اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ لیڈی جیمز نے چائے بناکر ایک پیالی مجھے اور ایک پروفیسر صاحب کو دی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے ’’تمھارا سوال کیا تھا؟‘‘ اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیر اجرام آسمانی کی تخلیق، ان کے حیرت انگیز نظام ، لرزہ فگن پنہائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں نیز باہمی کشش اور طوفان ہائے نور پر وہ ایمان افروز تفاصیل پیش کیں کہ میرا دل اللہ تعالیٰ کی اس داستان کبریا و جبروت سے دہلنے لگا اور ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے ، آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے: ’’عنایت اللہ خان! جب میں اللہ کے تخلیقی کارناموں پر ایک سرسری سی نظر ڈالتا ہوں تو میری تمام ہستی اللہ کے تصور و جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب کلیسا میں اللہ کے سامنے سرنگوں ہوکر کہتا ہوں ’’تو بہت عظیم ہے، تو بہت بڑا ہے‘‘ تو میری ہستی کا ہر ہر ذرہ میرا ہم نوا بن جاتا ہے، مجھے بے حد سکون و سرور نصیب ہوتا ہے اور ان سجدوں کے بعد میں کچھ ہلکا سا محسوس کرنے لگتا ہوں۔ عام لوگوں کی صرف زبان نماز پڑھتی ہے اور میری ہستی کا ہر ہر ذرہ محو تسبیح و تمجید ہوجاتا ہے۔مجھے دوسروں کی نسبت ہزار گنا زیادہ کیف نماز میں ملتا ہے۔ کہو عنایت اللہ خان ! تمھاری سمجھ میں آیا کہ میں گرجے میں کیوں جاتا ہوں؟‘‘
پروفیسر جیمز کی ان تفصیلات نے عجیب کہرام سا میرے دماغ میں پیدا کردیا۔ میری نگاہ تصور قرآن کریم کے طول و عرض کا جائزہ لینے لگی اور ایک دلچسپ آیت سامنے آگئی۔ میں نے کہا: ’’جناب والا ! میں آپ کی روح افروز تفاصیل سے بے حد متاثر ہوا ہوں ۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یاد آگئی ہے، اگر اجازت ہو تو پیش کروں ۔‘‘ فرمایا: ’’ضرور پیش کرو!‘‘ (چنانچہ میں نے آیت پڑھی) وہ آیت یہ تھی: {وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْضٌ وَحُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُہَا وَغَرَابِیْبُ سُودٌ ھ وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَآبِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُہُ کَذٰلِکَ، إِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا} (فاطر: ۲۷۔۲۸)۔ ‘‘
یہ وہی آیات ہیںجن کا مفہوم اس مضمون کے ابتدائی پیراگراف میں لکھا گیا ہے لیکن کلام میں تسلسل کے پیش نظر ایک بار پھر نقل کیا جارہا ہے: ’’پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ قطعات ہیں جن کے رنگ مختلف ہیںاور کچھ گہرے سیاہ ہیں۔اور اسی طرح انسانوں، جانوروں اور مویشیوں میں بھی مختلف رنگ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔‘‘ (فاطر: ۲۷۔۲۸)۔
یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمز بولے: ’’کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہل علم ہی ڈرتے ہیں۔ حیرت انگیز ! بہت عجیب! یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ و مشاہدہ کے بعد معلوم ہوئی، محمدؐ کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ آیت موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے۔ محمدؐ ان پڑھ تھا، اسے یہ عظیم حقیقت خود بخود کبھی معلوم نہیں ہوسکتی تھی، اسے یقینا اللہ نے بتائی تھی۔ بہت خوب! بہت عجیب! ‘‘ اور سر جیمز کئی منٹ تک اس آیت پہ سر دھنتے رہے اور محمد عربی علیہ السلام کی خدمت اقدس میںخراج عقیدت پیش کرتے رہے۔‘‘ (ماہنامہ نقوش، لاہور، شخصیات نمبر۲، اکتوبر ۱۹۵۶ء، صفحات ۱۲۰۸۔۱۲۰۹)۔
یہ واقعہ محض ایک مثال ہے اس بات کو سمجھنے کے لئے کہ اللہ تعالیٰ سے علم والے ہی ڈرتے ہیں اور سائنسی علوم بھی اللہ کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ پروفیسر جیمزنے اپنے علم (Knowledge) ، مشاہدے (Observation)، تجربات (Experiences) اور تفکرات (Thoughts)سے اللہ کو پہچان لیا یا اس کی معرفت حاصل کرلی۔ گویاوہ ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں!)کے قائل ہوچکے تھے ، علامہ مشرقی نے ان کے سامنے قرآن کریم کی صرف دو آیتیں پیش کی اور وہ ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ (محمد اللہ کے رسول ہیں)کے بھی قائل ہوئے بغیر نہیں رہے۔
اسی طرح مسلمانوں کی یہ ذمے داری تھی کہ سائنس کے ایسے عالموں کو حکمت کے ساتھ ان کے ہی سائنسی اسلوب میں دین کی دعوت دیتے اور انہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی پہچان کراتے، لیکن مسلمانوں نے اس کام پر توجہ نہیں دی بلکہ قرآن کی سائنسی علوم کی طرف اتنی واضح رہنمائی کے باوجود روایتی علماء نے ان کی مخالفت کی ( سوائے چند گنے چنے ناموں کے)اور سائنس پڑھنے والوں کو جاہل اور ملحد تک ٹھہرانے لگے جس کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس طرح علماء نے سائنس سے وابستہ ایک بڑے حلقے کے یہاں اپنے داخلے کا راستہ ہی بند کرالیا اور دعوت کے متوقع مواقع گنوا دئے۔ ظاہر ہے کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو اگر آپ جاہل کہیں گے یا سمجھیں گے تو وہ آپ کی بات سننا بھی کب پسند کرے گا بلکہ الٹا آپ کو جاہل اور دقیانوس گردانے گا۔ چنانچہ یہی ہوتا بھی رہا ۔ دونوں ہی طبقے ایک دوسرے سے کٹ گئے۔ مسلمانوں کی تمام تر توجہ روایتی علوم کی طرف ہی مرکوز رہی الا ماشاء اللہ اور سائنس کے میدان میں ہم کافی پیچھے رہ گئے۔ سائنس کی افادیت اب کھل کر سامنے آچکی ہے اور اس سے آنکھیں بند کرنا اب ممکن نہیں رہا۔ سائنس اور ٹیکنالوجی (Technology) اب دنیا کی طاقت ہیں اور ان میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہی آج مسلمان پوری دنیا میں مغلوب ہیں۔ ایمان اور اعمال کی خرابی بھی اپنے عروج پر ہے۔ اس طرح نہ اللہ تعالیٰ(مسبب الاسباب) سے ہی تعلق ہے اور نہ ہی اسباب قوت قابو میں ہیں جب کہ عزت اور سربلندی کے لئے یہ دونوں ہی مطلوب ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان بالخصوص روایتی علماء سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لائیں گو کہ پہلے کے مقابلے میں اس میںبہت نمایاں فرق واقع بھی ہوا ہے۔ کسی بھی علم کو حاصل کرنے میں اصل چیزحسن نیت ہے اور دوسری چیز اس علم کی افادیت ہے جسے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ مسلم ماہرین سائنس کو بھی چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث سے اپنا تعلق جوڑیں ، دعوتی فکر اختیار کریں اور اپنے اپنے شعبے کے علم کو اسلامائز کرکے دوسروں کے لئے مشعل راہ بنیں۔ اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ و ہدایت دے اور اپنی حقیقی معرفت نصیب فرمائے۔ آمین
(رابطہ: [email protected] )