شازیہ چودھری ،راجوروی
گجر بکروال قوم کی قیادت کے موجودہ منظرنامے پرجن شخصیات کواپنی قومی، سماجی اور تعلیمی خدمات کی بدولت گجر بکروال طبقے کے ساتھ ساتھ دوسرے طبقوں کا اعتبار بھی حاصل ہے،ان میں سر سید گجر بکروال قوم مسعود احمد چودھری کا نام نمایاں ہے۔ان کی خدمات کا سلسلہ ہر اس طبقے سے جڑاہواتھا جو معاشی،تعلیمی اور سماجی طور پر پچھڑا ہوا ہے۔ انھوں نے ان طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیاجوسماج میں حاشیائی حیثیت کے حامل ہیں۔ حضرت نے بڑی خاموشی کے ساتھ ان طبقات کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے اورانھیں زیورِعلم سے آراستہ کرنے کی کوشش کی۔خاص طور پر انھوں نے گجر بکروال طبقے کے ان علاقوں کواپنامیدانِ عمل بنایا، جہاں علم اورتہذیب و دانش کی روشنی آزادی کے پچاس سال بعدبھی نہیں پہنچ سکی تھی۔روشن اورتاب ناک علاقوں کوسجانا سنوارنا اتنا مشکل نہیں ہوتاجتناکہ تاریک اور اندھیرے علاقوں کوروشن کرنا۔ مسعود چودھری نے اس سمت میں سوچ کر یقیناً ایک ایسا کارنامہ انجام دیا، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس طبقے کے عوام انھیں بھول سکتے ہیں۔جن کے نصیب میںمحرومیاں،تاریکیاں ہی لکھی ہوئی تھیں۔یہی وجہ ہے کہ مسعود چودھری کو اپنے طبقے میں ہی نہیں بلکہ پورے بر صغیر میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل تھی اورلوگ انھیں ’’مسعود چودھری‘‘ کہنے کے بجائے ’’بابائے گجر قوم‘‘ ہی کہتے تھے۔
مسعود صاحب کی شخصیت بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف ہے اور ان کی فعال قیادت کوصرف برصغیر نہیں، بلکہ دوسرے ممالک میں آباد گجر بکروال لوگ بھی تسلیم کرتے اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت کسی ایک دائرے میں قید نہیں تھی بلکہ انھوں نے مختلف محاذپراپنی فعالیت کاثبوت دیااوراپنی شخصیت کے تحرک سے گجر بکروال قیادت کا بھی ایک مثالی نمونہ پیش کیا۔
چودھری صاحب کو شروع دن سے ہی گجر بکروال قوم کی تعلیمی پسماندگی کا اندازہ ہوگیا تھا۔اسی لیے نامساعدحالات کے باوجودبھی انھوں نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد ڈالی،جس نے موجودہ دور میں ایک تحریک اور مشن کی شکل اختیار کرلی ہے۔گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ ڈاکٹر مسعود چودھری صاحب کے خوابوں کی وہ تعبیر ہے،جس نے بہت سے پژمردہ آنکھوں میں مستقبل کے خواب روشن کردیے اوراسی ادارے کی وجہ سے بہت سے وہ افراد بھی تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کر رہے ہیں جومعمولی تعلیم کا بھی تصور نہیں کر سکتے تھے۔ایڈیشنل ڈائیرکٹر جنرل آف پولیس کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد موصوف سیاست میں سرگرم ہو سکتے تھے کیونکہ ان کے برادر اصغر جاوید رانا صاحب بھی اسی میدان میں سر گرم تھے اور ایک کامیاب سیاستدان کی حیثیت سے قوم کی خدمت سر انجام دے رہے تھے، چودھری صاحب کا مستقبل بھی سیاست میں روشن تھا وہ سیاست کو اپنا کر قوم کی سیاسی قیادت کے ذریعے بھی خدمت کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اپنے تعلیمی مشن کو ترک نہیں کیابلکہ اس کے دائرے کو اور وسعت دینے کی بھر پور کوشش کی اورسرحدی ضلع راجوری میں ایک ایسے ادارے کا قیام کروایا جو کہ آج بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سیاست کو درکنار کر کے انہوں نے اس نو زائیدہ جامعہ کا وائیس چانسلر بننے کو ترجیح دی، اللہ کا فضل ہے کہ ان کے اس تعلیمی مشن کی وجہ سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور طالبات عصری علوم سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
قوم کے عظیم رہنما و محسن ڈاکٹر مسعود احمد چودھری جموں کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل مہینڈرکےایک دور دراز گاؤں کالا بن کے رہنے والے بابو فیض محمد جو کہ محکمہ تعلیم میں ایک معلم تھے، کے گھر 10 اپریل 1944 میں پیدا ہوئے اور تعلیمی سفر بھی مہینڈر سے ہی شروع کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے ڈگری کالج پونچھ اور ایم،اے،ایم کالج جموں کا رخ کیا، بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے 1966 میں قانون کی ڈگری پاس کی اور واپس آ کر ضلع عدالت پونچھ میں وکالت شروع کی اور پھر 1967 میں محکمہ پولیس میں بحیثیت ڈی ایس پی بھرتی ہو گئے۔ جموں کشمیر پولیس محکمے میں ڈاکٹر مسعود چودھری پہلے شخص تھے جو گجر بکروال قوم سے گزیٹڈ پوسٹ پہ تعینات ہوئے تھے اور پھر 37 سال کی شاندار کارکردگی کے بعد 2004 میں بحیثیت ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ADGP سبکدوش ہوئے، گجر بکروال قوم کے وہ پہلے ADGP بھی ہیں۔ 2004 میں انہوں نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں پہلے سی ای او اور پھر وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا، انھیں یونیورسٹی کے بنیادی وائس چانسلر ہونے کے ساتھ ساتھ گجر بکروال قوم کے پہلے وائس چانسلر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے اور 2010 میں اس عہدے سے بھی سبکدوش ہونے کے بعد اپنے مشن میں اور تندہی سے جٹ گئے اور ایک بار پھر سے سیاست کو بالائے طاق رکھکر تعلیمی،ادبی، لسانی،سماجی اور ثقافتی خدمات کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
سر سید گجر بکروال قوم ڈاکٹر مسعود احمد چودھری نے گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ جیسے ادارے کی تعمیر کر کے پسماندہ طبقوں کے لئے تعلیم کی ایک نئی راہ ہموار کی، اس ادارے کا قیام انہوں نے 1992 میں عمل میں لایا تھا اور تب سے اس ادارے نے گجر بکروال قوم میں تعلیمی، ثقافتی،سماجی، ادبی اور سیاسی بیداری لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پہ آباد گجر بکروال قبیلے کے لوگ اس ادارے کو اپنا ثقافتی مرکز مانتے ہیں اور علمی،ادبی، ثقافتی، سماجی کانفرنسوں کا انعقاد کرنے کے لئے اسی ادارے پر انحصار کرتے ہیں ۔
گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کے زیر سایہ کئی اور ادارے بھی قائم ہوئے جن میں :۔
۱۔گوجری ریسرچ انسٹیٹیوٹ :جیسا ادارہ جہاں پہ گوجری کتابوں کی اشاعت و ترویج کا کام کیا جا رہا ہے
۲۔’مادر مہربان ریسرچ لائیبریری : ایک ایسا ادارہ جس میں گجر بکروال قوم پر لکھی گئی تمام کتابیں موجود ہیں اور دنیا کی مختلف زبانوں کی کتابیں بھی اس لائیبریری میں پاء جاتی ہیں جہاں پورے ملک سے آنے والے محققین استفادہ حاصل کرتے ہیں
۳۔مسعود چودھری میوزیم: جو کہ کچھ عرصے پہلے ہی گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کی طرف سے قیام میں لایا گیا ہے اس میوزم میں گجربکروال قوم کی قدیم وراثت کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی،پہناوے،رہن سہن،طعام و قیام، زیورات اور دوسری کئی قسم کی اشیاء جن کا تعلق گجر بکروال قبیلے سے ہے کی نمائیش کی جا رہی ہے۔
۴۔ساحر لدھیانوی کلچرل ہال: یہ ہال گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کی مرکزی عمارت میں قائم کیا گیا ہے یہ ہال اسلئے بھی قابل ذکر ہے کیونکہ یہاں پہ بڑی اور اہم تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے
۵۔’بابا فیض احمد اسٹڈی سینٹر : گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کی طرف سے اس سینٹر کے قیام کا مقصد تعلیمی میدان میں جموں کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروسز KAS انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز IAS اور دوسرے مقابلہ جاتی امتحانات میں شامل ہونے والے سینکڑوں بچوں کو تعلیم سے مستفید کیا جا رہا ہے
۶۔ برگیڈئیر خدا بخش پبلک اسکول :گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کے زیر سایہ قائم کردہ یہ اسکول جسے عام طور پہ کے۔بی پبلک اسکول کے نام سے مقبولیت حاصل ہے جموں شہر کے اہم ترین اسکولوں میں سے ایک اسکول ہے اس اسکول میں ہزاروں کی تعداد میں بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر گجر بکروال قبیلے اور دوسرے پسماندہ قبائیل سے ہیں، اس اسکول میں پسماندہ طبقہ جات کے بچوں کے لئے خاص رعایتیں رکھی گء ہیں کے۔ بی۔ پبلک اسکول جدید طرز پہ کام کرنے والا ایک ایسا ادارہ ہے جہاں پہ ہر طرح کی سہولیات بہم موجود ہیں۔
۷۔ ووکیشنل ٹریننگ سینٹر:گجر دیش چیرٹیبل کے زیر اہتمام اس ٹریننگ سینٹر میں نوجوانوں کو مختلف ہنر و فنون کی تربیت دی جا رہی ہے۔
۸۔ ‘مولا نا آزاد گرلز ہوسٹل :گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والے ہوسٹلوں میں مولانا آزاد گرلز ہوسٹل خاص طور پہ قابل ذکر ہے۔اس ہوسٹل میں دور دراز کے علاقوں سے آنے والی پسماندہ قبائلی لڑکیاں رہائیش پزیر ہیں تا کہ وہ اپنی تعلیم پوری کر سکیں۔
ڈاکٹر مسعود چودھری کی کاوشوں سے قائم ادارہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جس کا قیام 2002میں ہوا جبکہ اس کا کام 2010 میں تکمیل کو پہنچا ۔بقول خود ڈاکٹر مسعود احمد چودھری مرحوم و مغفور کے ’’بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کا اس جگہ پہ تعمیر ہونا ایک معجزہ ہے اور یہ معجزہ اسلئے ہے کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی، بجلی نہیں تھی،پانی نہیں تھا اور تو اور وہاں جنگل ہی جنگل اور جنگلی جانوروں کا راستہ تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ پیسہ نہیں تھا‘‘۔اس کے باوجود یونیورسٹی بنی اور بہت کم وقت میں بنی اور الحمد للّٰہ یہ جامعہ آج جموں وکشمیر کی بڑی جامعات میں سے ایک ہے اور مقابلے میں کھڑی ہے۔ مسعود چودھری صاحب نے اپنی کاوشوں سے اس یونیورسٹی کو ملک کی اہم جامعات کے ساتھ کھڑے ہونے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ڈاکٹر مسعود صاحب کی خدمات، کارناموں اور کار گردیوں سے متاثر ہو کر اسی یونیورسٹی نے سال 2012 میں انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا۔اسکے علاوہ انھیں ان کے کاموں کے لیے ‘فخرِ قوم و ملت’ جیسے ناموں سے بھی نوازا گیا۔ چوہدری صاحب نے اپنی پولیس سروس کے دوران کئی تمغے بھی حاصل کئے تھے۔ انہیں 1985 میں پولیس میڈل برائے خصوصی خدمت، 1994 میں صدر کے میڈل سے بھی نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ’’شیر کشمیر‘‘ پولیس میڈل سے بھی نوازا گیا۔
ڈاکٹر مسعود احمد چودھری کی حیات اور خدمات پر گوجری اور اردو کے معروف شاعر و ادیب عبدلغنی غیور اور بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں عربی زبان کے پروفیسر ڈاکٹر شمس کمال انجم نے سوانح عمری ’’ڈاکٹر مسعود احمد چودھری شخص شخصیت اور خدمات ‘‘بھی تحریر کی جس کا سال 2021 کو گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ میں ہی شاندار تقریب میں اجراء کیا گیا تھا اور اسی تقریب میں چودھری صاحب نے ٹرسٹ کے سر پرست اعلی کی ذمہ داری چودھری عبدالحمید کے سپرد کی تھی۔
ڈاکٹر مسعود احمد چودھری صاحب کو اپنی مادری زبان گوجری سے اشد لگاؤ تھا انہوں نے اپنی گجر بکروال قوم کے ہر فرد سے گوجری زبان میں ہی بات کی ہے چاہے وہ سرکاری دفاتر کے اندر ہی کیوں نہ ہوں، ان کے اس عمل نے بہت سارے لوگوں کو ذہنی غلامی سے باہر نکالا اور اپنے اسی بیباکانہ لہجے کی وجہ سے عوام میں خاصکر پورے بر صغیر میں مقبول رہے ہیں۔ مسعود چودھری صاحب نے اس دور میں گوجری کا دامن ہر محاذ پہ تھاما، جب پڑھے لکھے گجر بکروال گوجری بولنے سے شرماتے تھے اور احساس کمتری کا شکار تھے۔ دراصل گجر بکروال کی سب سے بڑی پہچان اس قوم کی زبان اور ثقافت ہے اور ان دونو چیزوں کو اکثر لوگ ظاہر کرنے سے کتراتے تھے لیکن مسعود چودھری صاحب نے اپنی اس پہچان کو سر عام گلی کوچوں، بازارو، تقریبات اور دفاتر میں فخریہ انداز میں ظاہر کیا کہ آج قوم کے تقریباً بزرگ، نو جوان اور بچے تک اپنی زبان گوجری کو ترجیح دے رہے ہیں اور فخریہ انداز میں خود کو گجر بکروال کی حیثیت سے متعارف کروا رہے ہیں۔
قوم کا یہ انمول اثاثہ، عظیم مفکر، دانش ور، محقق، ادیب، رہنما، تعلیم دان اور ہمدرد 16 دسمبر 2022کو 2 سال کی علالت کے بعد78 برس کی عمر میں اپنے گھر گاندھی نگر جموں میں اس فانی دنیا کو خیر باد کہہ گیا اور ہزاروں آنکھوں کو پر نم چھوڑ کر سپرد لحد ہو گیا۔ ان کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں سماج کی سر کردہ سماجی، سیاسی،ادبی اور تعلیمی شخصیات کے ساتھ ساتھ ہر طبقےکےافراد نے شرکت کی۔ مسعود صاحب کی آخری آرام گاہ گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ سے ملحقہ گجر کالونی بائی پاس کے قبرستان میں ان کی اہلیہ محترمہ کے بالکل بغل میں ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سر سید قوم کو ان کی خدمات کی جزا دے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام سے نوازے ۔آمین
[email protected]>