عمر خان۔ شراکوارہ
سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جوموجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہائو انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہاررائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔سوشل میڈیا مکڑی کے جال کی طرح پھیل چکاہے،جس سے دنیا کی سرحدوں کا مطلب بالکل ختم ہو کر رہ گیا ہے،کوئی دیوار باقی نہیں رہ گئی ہے ،ساری سرحدیں اور بندھن ٹوٹ چکے ہیں گویا ان کے خوابوں کی پرواز کو ٹیکنالوجی نے پَر لگا دیئے ہیں۔ بلاگنگ کے ذریعے جہاں نوجوان نسل اپنی فہم و فراست اور عقل و دانش کو بانٹنے کا کام کر رہی ہے، وہیں سوشل میڈیا سائٹس کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی طرح کی ذہنیت والے لوگوں کو جوڑ کر سماجی معاشرہ کی ذمہ داری کوبطرز ِاحسن نبھا رہی ہے ۔اور اس طرح کے کاموں میں دونوں قسم کے افردا شامل ہیں یعنی مثبت طرز فکر والے اور منفی سوچ والے،سماج کی اصلاح کرنے والے اور سماج کو بگاڑنے والے بھی،معاشرے کے لئے بھلا سوچنے والے یا پھر انھیں قعر مذلت میں دھکیل دینے والے بھی۔ لیکن یہاں پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ نوجوان طبقہ دانستہ یا نادانستہ سوشل میڈیا کی چمک کے مایا جال میں پھنستا چلاجا رہا ہے۔ اگر یہ بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ نوجوان پود میں تیزی سے اس کے سبب ،انحطاط اور علمی و فکری زوال بھی آرہا ہے ، اس میں ان کی گمراہی اورضلالت کو بھی جوڑ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید اور اس کے پیچھے چلنے کی خواہش اور ہوڑ انہیں جدیدیت کا متبادل لگنے لگی ہے۔ ان نوجوانوں کی زندگی اور رہن سہن ان سے متاثر ہوتی نظر آرہی ہے۔ جس میں کھانے پینے،چلنے پھرنے، رہنے سہنے یہاں تک کہ بول چال کے طور طریقےتک مجموعی طور پر شامل ہے۔آج کے نوجوانوں کو نشہ آور اشیا کا استعمال فیشن کے انداز لگنے لگے ہیں۔انہیں شراب پیتے،گٹکا کھاتے اور اسی طرح سے گانجہ ،سگار ،ہیروئن جیسے مضر صحت اشیا کا استعمال کرنے میں کسی قسم کا خوف و کھٹا محسوس نہیں ہوتا ، ذہنی پستی اوراخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کی بنیادی وجہ بھی مغرب کی اندھی تقلید ہے۔ باہمی رشتے ناطوں میں بڑھتی ہوئی دوریاں اور خاندانوں میں انتشار کی صورتحال اسی کا نتیجہ ہے۔گویا جہاں نوجوان اسےاپنے لئے نعمت سمجھ رہے ہیں،وہاںیہ ایک لعنت کے طور پر نوجوانوں کی بے سمتی اور بے راہ روی کو بڑھا رہا ہے۔
ا گر اعداد و شمار کو دیکھیں توہندوستان دنیا کا چوتھا سب سے زیادہ فیس بک استعمال کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ڈیجیٹل(برقی) انقلاب نے نوجوانوں کی پرائیویسی کو متاثر کیا ہے اور نوجوان اپنی سوچ سے اپنے معاشرے کو متاثر کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ہم اس دورمیں رہتے ہیں جہاں بہت سے لوگ حسد، ندامت، اور پسند کیے جانے اور ایک سیکنڈ فیم بننے کے عزم کے ساتھ دوسروں کی ٹائم لائن پر آن لائن ٹہلنے میں دن ورات کے بیشتر گھنٹے گزارتے ہیں۔ یہ جدید دور کی ایک عام بیماری ہے،جس کا کوئی علاج نہیں۔ جیسے جیسے دنیا ترقی کر رہی ہے، لوگوں میں یہ بیماری وبا کی طرح دن بدن پھیلتی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ غم کا اثر تھوڑی دیر تک رہتا ہی ہے۔لیکن جب غم کا اثر لمبے عرصے تک رہتا ہے ،اوراس کا اثر زندگی کے معاملات پر پڑتا ہے تو اسے ڈپریشن کہتے ہیں۔ اس مرض میں انسان ذہنی اور جسمانی کمزوری محسوس کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اُس کے ذہن میں منفی خیالات پنپتے رہتے ہیں، خودکشی کے خیالات آتے ہیں اورپھر ذہنی دباؤ کا شکار ہوکر مستقبل سے مایوس ہو جاتا ہے۔ مردوں کے مقابلے خواتین میں ڈپریشن کا زیادہ امکان ہوتا ہے کیونکہ خواتین اپنی چیزوں سے زیادہ دوسری عورتوں کی چیزوں میں دلچسپی لیتی ہیں اور محرومی محسوس کرتی ہیں اور ہر وقت ناشکری کی باتیں کرتی رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بغور جائزہ لیا جائے توآج نوجوانوں میں ڈپریشن عام ہے۔ بہت سے طلباء ذہنی دباؤ کی وجہ سے خودکشی کر لیتے ہیں۔ ڈپریشن کئی وجوہات ہوسکتے ہیں، جن میں طلاق، نوکری، پڑھائی، غربت، بے روزگاری، آمدنی کے کم ذرائع اور بہت سی دوسری وجوہات شامل ہیں۔ خوراک کی کمی اور سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ تناؤ اُن لوگوں میں بھی پیدا ہوجاتا ہے جو اپنے صاحب حیثیت افسروں اور دوسرے امیر لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان کی طرز زندگی یا ذرائع آمدن دیکھ کر وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں اور منفی خیالات کے عالم میں کھو کے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لیکن جو کوئی بھی شخص توحید پر یقین رکھتا ہے ، وہ کبھی پریشان نہیں ہوجاتا اور نہ کسی ناکامی کا خیال کرتا ہے۔ظاہر ہےجو انسان یہ یقین رکھتا ہو کہ ہر چیز عطا کرنے والا اور کامیابی دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، وہ ڈپریشن کا شکار نہیں ہوسکتا۔ ڈپریشن سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے نچلے طبقے پر نظر رکھنی چاہئے،اُن میں بیٹھ کر ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے تاکہ ہمیں احساس ہو کہ ہم کتنے خوش قسمت ہیں اور اللہ تعالی نے ہمیں اُن سے کتنا زیادہ عطا کیا ہے۔ سوشل میڈیا کی بات کریں تو چھوٹی چھوٹی خبریں بڑے انداز میں پیش کی جاتی ہیں جو بچوں، بڑوں حتیٰ کہ بوڑھوں کے ذہنوں پر اثر انداز ہو کرانہیں ڈپریشن میں ڈال دیتی ہیں۔ ڈپریشن کو روکنے کے بہت سے طریقے ہیں۔اول یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ تمام نمازیں وقت پرادا کریں، کھانا وقت پر کھائیں اور وقت پر سوجائیں، ہر چیز کو مثبت انداز میں لیں، کسی بھی چیز کے بارے میں منفی زاویے اختیار نہ کریں۔اور یقین رکھیں کہ جو کچھ بھی ہوگا، اللہ کی مرضی سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو صبر عطا کرتا ہے، وہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ تعالی معاف کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان کو اپنے ذہن میں کسی مایوسی کو جگہ نہیں دینا چاہیے اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ مقابلہ آرائی کی کوشش کرنی چاہئے۔بلکہ ایسے لوگوں سے دور رہنا چاہئے جو مایوسی کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔یاد رہے ، اگر کوئی شخص زیادہ دیر تک ڈپریشن کا شکار رہے تو اُس کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔اس لئے اپنے آپ کی خود حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ،جوکہ ڈپریشن سے لڑنے کا ایک اچھا اور موثر طریقہ ہے۔ ہمیشہ ایک بامقصد زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔ بامقصد زندگی انسان کو اُمید بخشتی ہے۔ بڑے اورمثبت خواب ڈپریشن سے لڑنے کے لئےتوانائی فراہم کرتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں کی نشاندہی کرکے زندگی کے اہداف طے کریں۔ہاں! اگر آپ کو طویل عرصے سے عام زندگی میں دلچسپی نہیں ہے تو آپ کو فوری طور پر ڈاکٹر سے ملنا چاہیے تاکہ اس کا جلد از جلد علاج ہو سکے اور آپ اپنی زندگی خوشی سے گزار سکیں۔ یہ بات ہم بھی مانتے ہیں کہ سوشل میڈیا ذرائع نے گلوبل ولیج یعنی عالمگیریت کے تصور کو جنم دیا ہے۔جس کے تحت آنے والے ذرائع برقی خطوط، ٹی وی، ریڈیو، موبائل، انٹرنیٹ جیسےان تمام ذرائع نے نوجوان طبقے پر اپنے گہرے نقوش ثبت کئے ہیں،بلکہ اس کا اثرتو اتنا طاقتور اور موثّرہے کہ آج کے نوجوان کاان ذرائع کے بغیر اپنے دن کا آغاز ہی نہیں ہوتا۔ادبی اور تعمیری میگزین خریدنے کے بجائے جنسی اور فحش،رسالے خریدتے اور پڑھتے ہیں اور اپنے کردار کواخلاقی زوال میں لا کر اپنے مستقبل کو اندھیرے میں ڈالتے ہیں۔ اسی طرح ٹی وی جیسے سب سے زیادہ متاثر کن ذریعے کا بھی نوجوانوں پر اچھا اوربُرا دونوں طرح کا اثر پڑا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا نے انسان کی ترقی کے منازل آسان بنا دئیے ہیں وہیں انسان کی منفی سوچ، انداز فکر اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے معاشرہ تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کا سبب بذاتِ خود انسان ہی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال بُرا نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی نقصان ہوگا بشرطیکہ ہم خود اِسےبُرا نہ بنائیں۔ ضروری امر یہ ہے کہ والدین اور سرپرست اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی صلاحیتوں اور ان کے اندازِ تفکر کو دیکھتے ہوئے اُن تک سوشل میڈیا کی رسائی کو آسان یا مشکل بنائیں۔ ہمیں اس پھیلتی بُرائی اور سوشل میڈیا کے غلط اور بے جا استعمال کا سد باب کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کی نسلوں کو برائیوں اور خرابیوں سے پاک ایک خالص اور ستھرا معاشرہ مہیا کیا جاسکے۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہمارے دلوں میں خوف ِ خدا ہوگا اور یہ بات ہمیں ذہن نشین ہونی چاہئے کہ ایک دن ہمیں اﷲ تعالی کے حضور پیش ہونا ہے اور ہر عمل کا جواب دینا ہے۔
رابطہ۔9622902000
[email protected]