منتظر مومن وانی
اگرچہ اس سال تعلیمی اداروں اور دیگر شعبوں نے مشترکہ طور پروگرام منعقد کئے جو کسی بھی اعتبار سے ثمر آور ثابت نہیں ہوئے۔وہیں پر سال کے ان آخری دنوں میں بھی اور کئی ناموں سے یہ عمل جاری ہے۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوم سال کے آخر میں اپنے ترقی کا محاسبہ کرتے ہیں کہ کس شعبے میں ہمارا مقام کہاں ہے۔لیکن وطن عزیز کی گنگا ہمیشہ الٹی بہتی تھی اور اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ان دنوں جشن چلہ کلان اور فرن ڈے کا فضول تماشہ کرکے ہمارے بچوں کے وقت کو تباہ کیا جاتا ہے۔کلچر کا نام دے کر والدین کو گمراہ کرنے کی یہ عمل بند ہونی چاہیے، ورنہ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنا مستقبل تباہ کررہے ہیں۔ اگر تحقیقی نگاہ سے دیکھا جائے تو تعلیمی شوق کا مزاج اب رفتہ رفتہ ہمارے بچوں سے ختم ہورہا ہے اور یہ اب ٹیلینٹ کے نام پر ہر کوئی بداخلاقی سیکھنے کامتلاشی ہے۔آپ نے کتنے سائنسی سیمنار منعقد کئے جہاں پرفزیکس ،ریاضی ،کیمسٹری ،بیالوجی یا دیگر شعبوں میں ہمارا تحقیقی مقام اور بچوں میں سائنسی صلاحیت کے حوالے سے بات کی ۔کب تک آپ ہمارے بچوں کا وقت ضائع کرکے قوم کو دھوکے میں رکھو گے۔ہمارے بچوں کو اخلاقی اور سائنسی آسمان کو چھو کر کامیاب منزل کی اور بڑھنا ہے۔کلچر اور دیگر بیہودہ باتوں کو اپنی ذات کے لیے استعمال کرکے آپ نے ہمارے بچوں کے مستقبل کو قتل کیا۔ہمیں ایسے سیمنار منعقد کرنے کی ضرورت ہے جن سے ہمارے بچوں کے اندر اسلامی ،اخلاقی اور سائنسی شعور بیدار ہوجائے۔والدین اور قوم کے باحس لوگوں کو آگے آکر اس مسلے پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے، اس سے پہلے سارا فصل اس خطرناک آندھی کا شکار نا بنے۔اخلاقی زمین دن بہ دن آپ کے ان بے مطلب پروگراموں کے سبب بنجر ہورہی ہے ۔اس قوم کو ترقی کا حقیقی مطلب سمجھاکر یہاں بچوں میں کچھ کرنے کی صلاحیت پیدا کرو۔تعلیم کے نام پر کاروبار کرنے کے اس فن سے آپ ہمارے بچوں کی زندگی کے ساتھ مت کھیلو۔قوم جب بیدار ہوجائے گا آپ سے ایک ایک منٹ کا حساب لیں گے۔تمہاری یہ منافقت عجیب ہے۔اسلامی ناموں پر سکول چلا کر لوگوں کو مذہبی انداز سے لوٹتے ہو اور بعد میں اندر مغربی پروگراموں کا اہتمام ۔اب رفتہ رفتہ آپ اپنے من پسند سیاس چہروں کو بھی اس سٹیجوں کی زینت بنا کر تعلیمی شعبے کو اور داغ دار بناتے ہے۔ان شگوفوں کو شاہین کی اڑان سکھاو تاکہ کل اس یتیم قوم کا سہارا بنیں گے۔ان کے اندر سائنسی اور اخلاقی روح بیدار کرو تاکہ ترقی میں ہم بھی دو قدم آگے بڑھیں گے ۔اللہ ہمارے بچوں کو سلامت رکھے اور اس قوم کے والدین کے اندر جرت کا روح جاگ جائے تاکہ یہ کاروباری ڈرامہ مقفل ہوجائے۔آمین
(بہرام پورہ کنزر۔رابط:9797217232)
<[email protected]>