ڈاکٹر آزاد احمد شاہ
اسلام نے انسان کو پاکیزہ زندگی گزارنے کی تعلیم دی اور صالح معاشرہ کو تشکیل دینے اور تعمیر کرنے کی ترغیب دی۔ حلال وحرام کی تمیز سکھائی، جائز وناجائز کے حدود بتائے، مفید ومضر کے فرق کو واضح کیا، اشیائے خورد ونوش میں اچھے برے، طیب وخبیث کو الگ الگ کرکے دکھایا۔جو چیزیں انسان کی صحت ِ ظاہری و باطنی کے لئے خطرناک ہے ان کی حقیقتوں کو اجاگر کیا، اور جن چیزوں سے صرف ایک فرد تباہی کے دہانے پرنہیں بلکہ پورا معاشرہ بربادی کے گڑھے میں چلا جاتا ہے، ان کو بھی بیان کیا۔کھانے پینے کی کن چیزوں کا اثر اس کے جسم کے ساتھ روح پر پڑتا ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت کے خسارہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس کو بھی بڑے اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے۔اسلام نے انسانوں کو دین و دنیا کی زندگی کے بہت بہترین اصول و آداب سے نوازا ہے۔ اور کسی بھی موقع پر بے لگام نہیں چھوڑا بلکہ پاکیزہ وپیاری تعلیمات کا ایک حسین گلدستہ عنایت کیا اور رہنمائی سے روشن راستہ دکھایا۔ایک مسلمان بلکہ ایک عام انسان بھی کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں اسلامی ہدایات اور نبویؐ تعلیمات پر عمل پیرا ہوگا تو یقینا ًاس کی دنیا وآخرت سنور جائے گی۔اسلام نے بڑی تاکید کے ساتھ منشیات اور شراب نوشی سے روکا اور اس کے استعمال سے سختی سے منع کیا ہے۔ شراب نوشی یا منشیات کا استعمال انسان کے لئے دین ودنیا دونوں اعتبار سے بہت ہی نقصان دہ اور ہلاکت خیز ہے۔ اسلام نے پاکیزہ معاشرہ کا جو تصور پیش کیا ہے اگر اس کو روبہ عمل لانا ہوتو پھر منشیات سے معاشرہ کو پاک کرنا ہوگا، ظلم وجور، بغض وعداوت، قتل وغارت گری، لوٹ کھسوٹ، چوری وڈکیتی، زناکاری وفحاشی، بے غیرتی وبدتہذیبی کا اگرخاتمہ کرنا ہے تو یقینا ًشراب نوشی ومنشیات سے افراد کو بچانااور علاقوں کو محفوظ کرنا لازمی ہوگا۔چوں کہ شراب ہی سارے فساد کی جڑ اور تمام تر گناہوں کی بنیاد ہے۔نشہ کی وجہ سے بندہ بہت سار ی خرابیوں میں مبتلا ہوتا ہے اور غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔تو آئیے ایک مختصرنظر شراب ومنشیات کے استعمال کے نقصانات پر ڈالتے ہیں، تاکہ مقدور بھر اس کی کوشش کی جاسکے کہ ہمارا معاشرہ اور ہمارے افراد اس لعنت سے محفوظ رہ سکیں۔
نشہ آور چیزوں میں سب سے پہلا درجہ شراب کا ہے جس کی حرمت کو اللہ تعالی نے بیان فرمایا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمایا کہ شراب کے ساتھ ہر وہ چیز اور مشروب بھی حرام ہے جو نشہ لانے والا ہے۔ چناں چہ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے:حرم اللہ الخمر، وکل مسکر حرام۔( نسائی:5633)’’اللہ نے شراب کو حرام قراردیا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘اسی طرح آپؐ کا ایک ارشاد ہے:کل شراب اسکر، فھوحرام۔(بخاری:۲۳۷)’’ہر پینے والی چیز جو نشہ لائے تو وہ حرام ہے۔‘‘ایک ارشاد میں فرمایا:کل مسکر خمر، وکل خمر حرام۔( مسند احمد:4506)’’ہر نشہ والی چیزشراب ہے اور ہر شراب حرام ہے۔‘‘نشہ آور چیز چاہے کم ہو یا زیادہ ہر صورت میں اس کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ارشاد مبارک ہے:مااسکر کثیرہ فقلیلہ حرام ۔( ترمذی:1784)’جوچیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرے تو اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔‘‘اس سلسلہ میں اور بھی احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہیں، جس میں آپؐ نے صاف فرمایا کہ نشہ آور چیز تھوڑی ہو یا زیادہ بہر صورت اس کااستعمال کرنا ناجائز اور حرام ہوگا۔
شراب نوشی اور منشیا ت کے استعمال کی وجہ سے بندہ دینی اعتبار سے توبہت بڑا خسارہ اٹھانے والا ہوتاہی ہے، اس کے اعمال قابل ِ قبول نہیں ہوتے، اور وہ بہت سارے گناہوں میں اس کی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے۔اسی کے ساتھ شراب ومنشیات کے اثرات خود انسان کی زندگی اور اس کے ظاہر پر بھی بہت برُے پڑتے ہیں، اور رفتہ رفتہ اس کی وجہ سے انسان قبر اور جہنم کے قریب ہوتا چلاجاتا ہے۔ شراب کو عربی میں خمر کہتے ہیں ، خمر کے معنی عقل کو ڈھانپ لینے کے ہے، شراب نوشی کی وجہ سے انسان کی عقل پر غفلتوں کے پردے پڑجاتے ہیں، اچھے برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے اور انسان نہ اپنے حواس اور اعضا ء پر قابو رکھ پاتا ہے اور نہ ہی زبان وجسم کنٹرول میں ہوتا ہے۔جو چاہے بکتا ہے اور جیسا چاہے کرتا ہے۔نہ زبان پاک رہتی ہے اور نہ ہی خیالات میں طہارت ہوتی ہے، نہ عادات و اطوارٹھیک ہوتے ہیں اور نہ ہی فکر وعمل میں درستگی ہوتی ہے، اوررشتوں کے تقدس کو بھی شرابی بھول جاتا ہے، اسی وجہ سے معاشرہ میں شراب نوش کو عزت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا اور کوئی اس سے تعلق رکھنے کو پسند نہیں کرتے، شراب نوش نہ اچھا باپ بن سکتا ہے، نہ اچھا بیٹا بن سکتا ہے، نہ اچھا شوہر بن سکتا ہے، نہ اچھا دوست بن سکتا ہے، نہ معاشرہ کا اچھا فرد بن سکتا ہے اور نہ ہی اپنے پیداکرنے والے رب کا اچھا بندہ بن سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:لا تشربوا مایسفہ احلامکم، ومایذھب اموالکم۔(مصنف ابن ابی شیبہ :23288)’’کہ تم ایسی چیز نہ پیوجو تمہاری عقلوں میں فتور پیداکردے اور تمہارے مال کو ضائع کردے۔‘‘شراب نوشی و منشیات کے استعمال کی وجہ سے انسان قدر واحترام کے قابل بھی نہیں رہتا اور جسمانی اعتبار سے بیماریوں میں لت پت ہوجاتا ہے، اعضائے انسانی صحیح کام کرنا چھوڑدیتے ہیں اور ایک ڈھانچہ بن کر عبرت کا نشان بن جاتا ہے۔ڈاکٹر برنٹ اپنی کتاب ’’علاج ومعالجہ کے چند مقامات‘‘جو 1971ء میں لندن کے کنگ کالج سے شائع ہوئی ہے، میں لکھتے ہیں :’’وقتی طورپر سرور پیداکرنے والی شراب جیسی کسی اور چیز کو انسان دریافت نہیں کرسکا، لیکن صحت کو تباہ کرنے کی جو تاثیر شراب میں ہے کسی اور میں نہیں ہے۔خطرناک زہر اور بدترین سماجی شر ہونے میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔‘‘دماغی اور نفسیاتی شفاخانوں کی رپوٹیں بتاتی ہیں کہ۵۰ فیصدسے زیادہ امراض ایسے ہیں، جن کی توانائی وتندرستی اور صحت وقوت کو منشیات نے غارت کردیا ہے۔
اس لئے ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے معاشرہ کو منشیا ت کی لعنت سے پاک کریں، اس کے نقصانات کو لوگوں کے سامنے صاف اندازمیں پیش کریں، نوجوانوں کو بچائیں اور تباہی کے دلدل میں پھنسنے سے ان کو روکیں، بچوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی صحبت اور دوستی کا جائزہ لیتے رہیں، منشیات کی قبیل کی تمام چیزوں سے سختی کے ساتھ روکیں اوردینی ودنیوی، ظاہری وباطنی، روحانی وجسمانی نقصانات اور خطرات سے آگاہ کرتے رہیں۔
(موصوف ایک معروف اسلامی اسکالر ہے)
[email protected]>
�����������������������