محمد ریاض ملک،منڈی
کہتے ہیں جان ہے تو جہان ہے، یہ کہاوت نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ دنیاکی ساری نعمتیں ہونے کے باوجود اگر صحت بگڑ جائے تو تمام تر نعمتیں بے کار نظر آتی ہیں۔صحت کی اس بے مثال دولت کی خاطر عالمی سطح پر شعبہ صحت پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔اس دوڑ میں ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ ہندوستان میں موجودہ حکومت نے اس شعبہ کو بڑی اہمیت دی ہے اور ملک کے ہر فرد تک علاج معالجہ کی سہولیات کی خاطر اہم قدم اٹھایاہے۔ اس کے لئے ہر شخص گولڈن کارڈ کےذریعہ پانچ لاکھ تک کا سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج کرواسکتاہے۔ جموں وکشمیر میں اس سکیم کے تحت محکمہ صحت کارکنان شدومد سے عوام تک رسائی کرکے ان کے صحت کارڈ بنوانے میں اپناکردار اداکررہے ہیں۔ سرحدی ضلع پونچھ کے تمام دیہی علاقوں میں اس سکیم کی گھونج دیکھی جارہی ہے،یہاں تک کہ لوگ استفادہ بھی کررہے ہیں۔
لیکن یہ ایک شعبہ ہے،اس کے علاوہ اور بھی متعدد شعبوں میں نمایاں ترقی کے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی میں ایک لاکھ سے زاید آبادی کے لئے قایم سرکاری شفاء خانہ غلام احمد میموریل سب ضلع ہسپتال منڈی کی بہترین عمارت اور قدر سہولیات کے باجود بھی بے شمار مردوزَن،بچے اور بزرگ مریضوںکو راحت پہنچانے سے قاصر ہے۔ تحصیل منڈی کے اس مرکزی صحت مرکز کی حالت بگڑنے سے ہزاروں لوگ پریشانیوں سے دوچارہیں۔ اجوٹؔ پونچھ سے لیکر لورن ساؔجیاں تک کا یہ طبی مرکز ان دنوں سخت علیل ہےاور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔نہ معلوم کیوں، سب خبر گیری تو کرتے رہتے ہیں لیکن کچھ کرگزرنے سےدور رہتے ہیں۔بلاک لورن سے تعلق رکھنے والے نوجوان محمد اشرف جو اپنی اہلیہ کو یہاں ہسپتال میں چیک اَپ کروانے لائے ہیں، ان کا کہنا ہےکہ ڈاکٹروں نے سرسری دیکھ بھال کے بعداسے پونچھ ریفر کیا ،کیونکہ نہ ہی یہاں کوئی لیڈی ڈاکٹر ہے اور نہ ہی الٹراساونڈ کرنے کا بندوبست۔ ایک غریب شخص کی سرسری چیک اَپ کے بعد الٹرا ساونڈ کے لئے پونچھ تک جانےاور واپس آنے کا خرچہنا قابل برداشت ہے۔جبکہ ہسپتال انتظامیہ کی خاموشی بھی افسوس ناک ہے۔
چنڈکؔ سے لیکر لورن ساوؔجیاں تک کے مریض اسی ہسپتال میں علاج معالجے کے لئے آتے ہیں۔لیکن اس تیز ترین دور میں یہاں الٹرا ساؤنڈ کرنے والا نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے وہ عام مریض اور خواتین پریشان حال ہیں، جنہیں الٹرا ساونڈ کروانے کے لئے پونچھ جاناپڑتاہے۔ اس حوالے سے ارشاد احمدنامی شخص نے تشویش ظاہر کرتے ہوے کہاکہ اس طبی مرکزکی اتنی بہترین عمارت میںعلاج و معالجہ کے بہت گھٹیا انتظامات ہیں۔ یہاں الٹرا ساونڈ مشین ودیگر لوازمات ہوتے ہوئے بھی الٹرا ساونڈ کرنے والاکوئی نہیں ہے۔ دوردراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کوایک الٹرا ساؤنڈ کروانےکے لئے دو تین ہزار روپیہ کے اخراج پر پونچھ جانا پڑتا ہے اور وہاں بھی ایک یا دو دن انتظار کرناپڑتاہے۔خاص کر جب حاملہ خواتین کو الٹراساونڈ کروانے کے لئےکہا جاتاہے، تب مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔اگرچہ خواتین کے حقوق کی باتیںکرنے والے لمبے چوڑے دعوے کرتے رہتےہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ڈھکوسلے ثابت ہوتے ہیں۔ جبکہ منڈی کی پچاس ہزار سے زائد خواتین کی صحت اور زندگی دائو پر لگی ہوئی ہے کیونکہ یہاں ایک خاتون ماہر ڈاکٹر بھی میسر نہیں ہے۔
محکمہ صحت کے اعلی افیسران متعدد بار یہاں دورے بھی کرچکے ہیںاور یہاںکے انتظامات کو تسلی بخش بتاچکے ہیں۔ لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہاں نہ ہی الٹرا ساونڈ کرنے والاکوئی فرد ہے، نہ ہی کوئی ماہرخاتون ڈاکٹر موجود ہے۔ نتیجتاًیہاں کی حاملہ خواتین کو علاج و معالجہ کے لئےمجبوراً پونچھ جاناپڑتاہے۔ چنانچہ جب ہسپتال کے دیگر عملہ اور بلاک میڈیکل آفیسر نصرت النساء سے بات کی گئی تو ان کا صاف کہناہے کہ یہاں بڑا اچھا نظام چل رہاتھا، مریضوں کا الٹرا ساونڈ بھی کیا جاتا تھااور حاملہ خواتین کا علاج و معالجہ بھی ہوتا تھا ، لیکن کچھ مفاد پرستوں کی وجہ سے اس طبی مرکز کا نظام درہم برہم ہواہے۔ ہم یہاں کے دیہی عوام کی مالی پریشانیوںکو دیکھتے ہوئے کام کررہے ہیں، البتہ جو لوازمات ہمارے پاس ہیں ،اُن کو بروے کارلا رہے ہیں۔ اورجو لوازمات یہاں میسر نہیں، اُن کو پوراکرناہمارے بس میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب ضلع ہسپتال منڈی میں کل 65 آسامیاں ہیں،جن میں 39تعینات ہیں اور 26 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ڈاکٹر اسپشلیسٹ کی 5 پوسٹیں ہیں، ان میں 4خالی ہیں۔میڈیکل آفیسر کی 7پوسٹیں ہیں جن میں 2خالی جبکہ یہاں دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ دانتوں کا کوئی ڈاکٹر نہیں ہے،جن کی پوسٹ خالی پڑی ہے۔
غرض بہت سارے عملے کی قلت کے باوجود ہم اپناکام انجام دے رہے ہیں اور جو کمیاں ہیں، اُن کو بھی اپنے اعلیٰ آفیسران کے نوٹس میں لاتے رہتے ہیں۔ اب یہ کمیاں کب پوری ہونگی،یہ ہمیں پتہ نہیں۔سچ تو یہی ہے یہاں اسٹاف کی کمی کی بدولت ہمیں اور مریضوں کو پریشانیوں سے دوچار ہوناپڑ رہاہے،یہاں تک کہ ہم آیشہ ورکروں کی بھی مدد طلب کرکے کام چلارہے ہیں۔ عام لوگوں کو درپیش اس مسئلےپر تمام سیاسی سماجی جماعتوں کی خاموشی پر بھی یہاں کے عوامی حلقےاظہارِ افسوس کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کرتے ہیں کہ یہاں غلام احمد میموریل سب ضلع ہسپتال منڈی میں الٹراساونڈ ٹیکنیشن کو جلد از جلد تعینات کریں، یہاں کی خواتین مریضوں کو درپیش مشکلات کو دور کرنے کے لئے ماہرخاتون ڈاکٹر کو تعینات کیاجائے۔(چرخہ فیچر)