سید مصطفیٰ احمد ، بڈگام
ہمارے یہاںہر گزرتے دن کے ساتھ ذہنی امراض کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشرے کے ایک بڑے حصے کونفسیاتی امراض نے گھیرلیا ہے۔ ہسپتالوں میں اندراج اعدادوشمار کے مطابق جموں و کشمیر میں لوگوں کی ایک خاصی تعداد اس مرض کی زد میں آچکی ہے،جس میں ہر مذہب اور ہر طبقےسے وابستہ کمسن،نوجوان اوربڑے بزرگ شامل ہیں۔ جبکہ خواتین ایک بڑی تعداد بھی اس میں موجود ہے۔حق تو یہی ہے کوئی بھی مرض ہو، مرض تو مرض ہے،جس کو ہرگز جُٹلایا نہیں جاسکتااور جس کے لئے ہر ممکن علاج و معالجہ کی اشدضرورت ہے۔مریض اور مرض میں فرق کرنا کسی بھی لحاظ سے ٹھیک قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیونکہ ہر مرض انسانی زندگی میں منفیات کا اثر چھوڑدیتا ہے۔جس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے کے بیشتر لوگ ،مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کواُن کے حال پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ذہنی اور نفسیاتی مریض بھی اسی زمرے میںڈال دیئے جاتے ہیں۔ ان مریضوں کوبیماروں کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا، انہیں نہ صرف لاعلاج اور پراگندہ سمجھ کربُری نظروںسے دیکھا جاتا ہے بلکہ ان کے متعلق بات کرنا تک گوار ا نہیں کیا جاتا۔یہاں تک کہ ان کے ساتھ کسی قسم کےتعلق کو لوگ اپنے لئے باعث شرمندگی سمجھتے ہیں۔
بغور جائزہ لیا جائے تو ان امراض کے پیچھے بہت سارے وجوہات کا عمل دخل ہوتا ہے۔اول تو سیاسی اور سماجی افراتفری ہوتی ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ سیاسی افراتفری ملک کے اندر ہو یا باہر۔ہر ملک میں کسی بھی افراتفری کاپہلا اور آخری شکار اُس ملک کا عوام ہی ہوتا ہے۔ ملک کی حالت خراب ہوجائےتو عام لوگ ہی مارے جاتے ہیں اور مجروح ہوتے رہتے ہیں۔ بستیاں مٹ جاتی ہیں،گھروں کے گھر تباہ ہوجاتے ہیں، مال اور جائداد کا نقصان ہوجاتا ہے یہاں تک کہ کھل کھلاتے کھیت بھی بنجر بن جاتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال سے بیشتر انسانوں کا ذہن مقابلہ نہیں کرپاتا ہے اوروہ دباؤ کا شکار ہو کر ذہنی مریض بن جاتے ہیں۔اسی طرح افراتفری کے عالم میںاپنے عزیزوں اور قریبی ساتھیوں کے کھونے یا جُدا ہونے کا غم اور محنت سے کمائی ہوئی دولت ،مال و جائیدادکی آنکھوں کے سامنے ہوتی ہوئی تباہی بھی بیشتر انسانی ذہنوں کے لئےناقابل ِ برداشت بن جاتی ہے اور وہ ذہنی اور نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں۔ دوم، معاشی پریشانیاں:اس دنیا میں جینے کے لئے پیسےکمانالازمی ہےاور کمانے کے لئے ذرائع درکار ہوتے ہیں۔ مطلب صاف ہے کہ ملازمت اور مزدوری جینے اور زندگی گذارنےکے لئے انتہائی اہم جُز ہیں۔ مگر پیچیدگیاں تب پیدا ہوتی ہیں جب ملازمت اور مزدوری دونوں کا فقدان ہوتا ہے۔موجودہ زمانے میں مہنگائی انتہائی عروج پر ہے۔ جس نے غرباء کوہی نہیں ،متوسط طبقےکی کمر توڑ کر رکھ د ی ہے، محنت کش ،مزدور طبقے کے لئےاب مشکل سے دن بھی کی کمائی پر دو وقت کی روٹی مل جاتی ہے۔ پریشانیوں کے انبار جینے اور زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے راستے کے پہاڑ بن چکے ہیں۔اسی طرح پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے سرکاری نوکریاں تو کُجا، پرائیویٹ ملازمت ڈھونڈنا بھی جوئے شیئر لانے کے مترادف ہوگیا ہے۔ سالانہ لاکھوں کی تعداد میں طلباء مختلف جامعات سے پاس ہو کر روزگار کے بازار میں قدم رکھتے ہیں، مگر ان بازاروں میں پہلے سے ہی اُن جیسے ڈھیروں لوگ سڑے پڑے ہوئے ہیں اور عمروں کی حد پار کرکے بوڑھے ہوچکے ہیں،یہی صورت حال نجی دفاتر میں کام حاصل کرنے بھی نظر آرہی ہے،جو تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو ذہنی مریض بنانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ستم بالائے ستم کہ ہمارے یہاں طعنے دینا اور مذاق اُڑانا بھی عام بات ہے۔ جو طلباء لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہوسکتے، ان کا مذاق اُڑایا جاتاہےاور طعنے دے د ے کر ذہنی کوفت کا شکار بنایاجاتا ہے،نہ صرف پرایے بلکہ اپنے بھی اُن پر جُملے کستے رہتے ہیںاور اس طرح اُن پرنفسیاتی تشدد کیا جاتا ہے۔ سیوم، ذاتی وجوہات۔ ہر انسان مختلف الرائے ہے۔ زندگی کے ہر میدان میں الگ الگ نفسیات کے لوگ رہتے ہیں، ہر کسی ذائقہ الگ الگ ہے، خیالات بھی الگ ہیںاور زندگی کو جینے کے طریقے بھی مختلف ہیں۔ جب سوچ کے ناموافق حالات ہوتے ہیں تبھی ذہن کی اُلجھن بڑھ جاتی ہیں ۔ مختلف زاویے سے دنیا کو دیکھنے والا انسان جب الگ الگ حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے بے بسی کا شکار ہوجاتا ہے، تو اُس میںذہنی انتشار پیدا ہونےکے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ چہارم ، پرانی سوچ وفرسودہ روایات۔ ہمارے معاشرے میں بیشتر لوگ ابھی تک پرانے طور طریقوں اور رسم ورواج کے تحت زندگیاں گزارنے پر تُلے ہوئےہیں۔ جن کی نوجوان نسل عصر حاضر کی ذہنیت کی حامل ہے،اُن میں پرانی روایتوں سے اوپر اُٹھ کر دیکھنے کی رغبت شامل ہوئی ہے۔ وہ پرانے اور نئے مسائل کاحل ڈھونڈنا چاہتا ہے، گویا ایک نئے طرز کا سماج بنانا چاہتا ہے۔ مگر بےجا رسموں اور رواجوں کی بدستورپیروی ہوتے دیکھ کراُن کے حساس ذہنوں پربُرا اثر پڑتا ہے۔ وہ اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتے ہیں کہ اب ترجیحات بدل گئی ہیںیا انسان بدل گیا ہے۔ جبکہ اب دنیا کافی حدتک بدل گئی ہے۔ ایسے میں پرانے دور کی باتیں کہاں زیب دیتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں غاروں کی باتیں اب کہاں شایان شان ہوسکتی ہیں؟ اس کے علاوہ بھی بہت سارے وجوہات ہیں،جو معاشرے کے افراد کو ذہنی امراض سے دوچار کررہے ہیں اورانہیں اندر ہی اندر جھلسا رہے ہیں۔ ان چھپے ہوئے امراض سے نکلنے کے لیے کئی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک، ہر کسی کو اس سے نمٹنے کے لئے آگے آنا ہوگا۔ گورنمنٹ کو بھی اس معاملے میں حساس ہونا چاہئے۔ یہ وہ آگ ہے جو بغیرِ دھواں اندر ہی اندر انسان کے ذہن میںجھُلستی رہتی ہے،جس میں تباہی کے بڑے عناصر موجود ہوتے ہیں، جو مختلف امراض کی شکل میںانسانی نسلوں کوخاک میں ملا دیتے ہیں۔ اکیلا پن،چڑچڑاہٹ اور ذہنی تناؤ سے نجات دلانے کے لیے تعلیمی اداروں سے لے کر مذہبی اداروں کو بہت محنت کرنی ہوگی۔ جس میںماہرین نفسیات اور تجربہ کار لوگوں کے خدمات کی از حدضرورت ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ذہنی امراض کی بڑھتی ہوئی وباانسانی زندگی کے لئے انتہائی تشویش ناک صورت حال کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ حالات حد سے زیادہ خراب ہوجائیں ،اس سے قبل ہم سب پر لازم ہے کہ مزید وقت ضائع کئے بغیرآگے بڑھیں اور انسان ہونے کے ناطے انسانیت کی خاطر ذہنی امراض کے شکار مریضوں کا سہارا بنیں۔
(رابطہ نمبر۔7006031540)
[email protected]