عاقب شاہین ،پلوامہ
۔18دسمبر مہاجرین کا عالمی دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے ۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2000 میں اس دن کا اعلان کیا ،جس میں تارکین وطن کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی کنونشن منظور کیا گیا۔غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر مہاجرین نے بہتر زندگی کی تلاش میں اپنے ممالک چھوڑے ۔ ہر مہاجر کے پاس اپنے گھر اور خاندان سے دور جانے کی وجوہات ہوتی ہیں اور ہر مہاجرکے پاس دورانِ سفر کے منفرد تجربات ہوتے ہیں۔ہم سالہاسال سے دیکھ رہے ہیں کہ ایک مقصد، خواب، محبت، یا بہتر زندگی کی تلاش میں لوگ ہجرت کرتے ہیں۔یہ ہجرت تعلیم، کام یا کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں ہوتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگوں اور ثقافتوں کے درمیان ایک پل بن جاتا ہے۔ وہ اپنے پرانے اور نئے گھروں میں ایک دوسرے کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن وہ جتنا عرصہ بھی کسی دوسرے ملک رہیں ،ان کو اس ملک کا باشندہ قبول نہیں کیا جاتا۔ ان کو احساس دلایا جاتا رہتا ہے کہ وہ اس ملک پر بوجھ ہی ہیں، ایسی باتوں اور رویوں کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس اور اعدادوشمار کے مطابق تارکین وطن کی تعداد میں روزانہ بڑھتی جارہی ہے جو کہ 2000 میں 175 ملین سے بڑھ کر 232 ملین تک جاپہنچی ہے۔
اقوام متحدہ کی گزشتہ رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں خانہ جنگیوں کی وجہ سے مہاجرین کی تعداد گذشتہ سال 8 ملین 2 لاکھ سے بڑھ کر 33 ملین تک پہنچ گئی ہے۔تارکین وطن ان گروہوں میں شامل ہیں ،جو بڑے پیمانے پر حقوق کی عدم دستیابی کے شکار ہیں اور دنیا کے بہت سے حصوں میں عدم برداشت اور نفرت میں گھرے ہوئے ہیں۔
تارکین وطن کے مسائل اور ان کے حقوق کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانے کے لیے اقوام متحدہ نے اس دن کا انتخاب کیا۔اس کے علاوہ اس دن کو منانے کا مقصد ہجرت کے مثبت پہلوؤں کو اُجاگر کرنا بھی ہے۔ نقل مکانی کسی ملک کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
اگر ہم اس پہلو کو اسلام کی نظر سے دیکھتے ہیں تو قرآن میں بہت سے انبیاء کی ہجرت کا ذکر آیا ہے، جیسے آدمؑ، ابراہیمؑ، لوطؑ، یونس، یعقوبؑ اور موسیٰؑ۔چوں کہ انسانیت کے باپ آدم نے آسمان سے زمین کی طرف ہجرت کی تھی، اس لیے اسلام کی روایت تمام انسانوں کو مہاجر مانتی ہے۔ لہٰذا انسانوں کا ابتدائی آبائی وطن جنت ہے، جب کہ زمین عارضی منتقلی کی جگہ۔ یہ قول نبی کریم ؐ کے اقوال میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔آپؐ، اپنے آپ کو ایک مسافر سے تشبیہ دیتے ہیں جو درخت کے سائے میں تھوڑی دیر آرام کرتا ہے اور پھر اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے۔
ہجرت کئی وجوہات کی بناء پر کی جاتی ہے ۔اقتصادی، مذہبی، یا محض نقل مکانی کے لیے۔ اسلام نے ہجرت کی مختلف لہریں دیکھی ہیں۔ قرآن مجید میں زمین پر مظلوم اور کمزور لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے مظلوم مقامات سے خدا کی کسی دوسری سرزمین کی طرف ہجرت کر سکتے ہیں۔اللہ قرآن میں فرماتے ہیں:’’فرشتوں نے کہا تھا کہ کیا خدا کی زمین وسیع نہیں تھی تم اس میں ہجرت کرتے ۔‘‘(نساء آیات 97.)کیونکہ یہ زمین کے مالک کے طور پر خدا کی بات کرتی ہے۔ اس لیے دنیا کے مالکوں اور حکام کو چاہیے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ قربت اور محبت سے پیش آئیںاور مظلوموں کے لئے اپنی سرحدوں کے دروازے کھول دیں، یہی وقت ہے کہ ہم لوگوں کو اپنی برادریوں میں خوش آمدید کہیں اور اپنے اجتماعی مستقبل کا دوبارہ تصور کریں، بجائے اس کے کہ خوف اور اخراج کے بارے میں نقصان دہ بیان بازی کو دہرائیں۔
اسلام کی ابتدائی تاریخ میں تارکین وطن کے حوالے سے نبی کریمؐ کے عمل کو ہجرت اور تارکین وطن کے بارے میں ہمارے جدید دور کے نقطہ نظر کے لیے ایک مثال کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ اسلام کی تعلیم تارکین وطن اور شہریوں کے درمیان باہمی مدد فراہم کرنے کے لیے بہت اہم بنیادیں رکھتی ہے۔ قرآن اور پیغمبر ؐکے ارشادات میں پُرامن معاشروں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جو تارکین وطن کے ساتھ ساتھ باقاعدہ شہریوں سے بنی ہیں۔
[email protected]