مشتاق تعظیم کشمیری
اللہ تبارک تعلیٰ نے انسان کوکائنات میں اشرف المخلوقات بناکر بھیجاہے،اور والدین کو ا نسان کے دنیا میں آنے کاذریعہ بنایاہے۔ قران شریف میں اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر اس بات کا واضح طو ر پرذکر کیا ہے اور حُکم دیاکہ اپنے ولدین کے ساتھ حُسن سلوک کیا کرو۔ اولاد کے لئے والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے ۔اللہ تبارک تعالیٰ قران شریف میں (سورہ بنی اسرائیل) میں ارشاد فرماتا ہے: ’’تیرا پرورد گار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا،اگرتیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو اُن کے آگےاُف بھی نہیں کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات کرنا ۔‘‘ حضرت ابو درداؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’باپ جنت کے دروازوں میں میں سے بہترین دروازہ ہے، چنانچہ تمہیں اختیار ہے (خواہ اس کی نافرمانی کرکے اور دل دُ کھاکے)اس دروازہ کو ضائع کردو یا اس کی فر مانبرداری اور اس کو راضی رکھ کر اس دروزہ کی حفاظت کرو۔‘‘ (ترمذی,رقم:1900)۔ ترمذی شریف کا ایک اور حدیث ہے کہ رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا:’’رب کریم کی رضا باپ کی رضا مندی ہے اور رب کریم کی نارضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔‘‘ الغرض جب ماں جنت ہے اور باپ جنت کا دروزہ ۔ تواولاد کے لئے یہ لازمی ہے کہ دونوں کو حاصل کرے۔ خدا نخواستہ اگر دو میں سے ایک چھوٹ جائے ،پھراس کی کو شش نامکمل ہےکیونکہ جنت میں جانے کے لئےجنت کادروزا ہ بہت ضرورہے، جس سے انسان جنت میں داخل ہوجائے اور اس کے لئے ضروری ہے اپنے باپ پراحسان کرنا ،اُس سے حُسن سلوک کرنا اور اس کی اطاعت کرناہے۔ایک اولا د کو چاہئے کی وہ اپنے والد کی قدر کریں، کیونکہ باپ ہی وہ عظیم شخص ہےجو ساری زندگی اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہے اوراپنےاولاد کا سب سے بڑا خیرخواہ اور سچا دوست ہے۔ ماں بھی ایک عظیم ہستی ہے مگر صرف ماں کے ساتھ شفت پیار خدمت کرکے باپ کو نظر انداز نہیں کرناچاہئے۔ ہمارے لئے والدین یکسان ہے، دونوں کا رُتبہ برابر ہے۔ ماں کی طرح باپ بھی بچوں سے بہت پیار کرتا ہے، فرق صرف اتناہے کہ باپ کو ماں کی طرح اظہار کر نا نہیں آتا۔ یہ سچ ہے اسلامی تعلیمات میں زیادہ ماں کی خدمت پر زور دیا ہے لیکن قران شریف میں اللہ تعلیٰ ارشاد فرماتاہے کہ اللہ کےسوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو ،اگر ان دونوں میں سے ایک یا دونوں بڑھاپےکو پہنچ جائیںتو ان کو اُف تک نہ کہو، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آیا کرو اور ان کے لئے یو ں دعا کرو۔ اے میرے ربّ! تو ان پر اسطرح رحم فرما، جسطرح ان دونوں نے بچپن میں مجھ پررحمت اور شفقت کی۔ تو یہاں پر جاللہ تعالیٰ کاجو حُکم ہے، وہ دونوں پر لازم ہوا ہے کیونکہ اسلام میں والد کے حقوق واحترام پربہت زور دیا گیاہے ۔اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ماںکوایک اولادپر باپ سے زیادہ حق ہے کیونکہ باپ نے اپنے بچوں کو مال سے پالا اور ماں نے اپنے خون سے۔ علما کرام بھی فرماتے ہیں کہ ماں کی خدمت کرنے کا حق باپ سے زیادہ ہے، مگر حقِ اطاعت حکم بجا لانا باپ کا زیاد ہ ہے۔ اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فر مایاکہ جنت تمہاری ماں کےقدموں کے نیچے ہے اور فر مایا تو اور تیرا مال باپ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفيق عطا فرمائے اپنے والدین کی خدمت کر نے کی اور اسکو اپنی بارگاہ الٰہی میں قبولیت فرمائے۔ آمین
������������������