سید مصطفیٰ احمد ،بڈگام
انسان اکثر چیزوں کی باہری ساخت کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہےاور وہ اندرون کو دیکھنے کی زحمت گوارانہیں کرتا ہے کیونکہ باہری شکل و صورت اتنی شاندار ہوتی ہے کہ اندر جھانکنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ مگر بارہا انسان اس طرز عمل سے دھوکہ کھاتا ہے۔ ایک دریا اوپر سے صاف و شفاف دکھائی دیتا ہے مگر جب اس کی گہرائی میں جاتے ہیں تو نیچے گندگی کے ڈھیر پائے جاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ انسان کے ساتھ بھی ہوتا ہے، وہ کسی انسان کی باہری بناوٹ کو دیکھ کر، دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ اس کا لباس،اس کا طرزِ عمل،بولنے کا انداز، نرم روی، چال ڈھال وغیرہ اتنی پُرکشش ہوتی ہے کہ دوسرے انسان کو لگتا ہے کہ سارے انسانی خصائل اِسی انسان میں موجودہیں۔ لیکن کچھ مدت کےبعد جب اُس انسان کی یہ اوپری تہیں اُترنے لگتی ہیں، تب یہ عیاں ہوجاتا ہے کہ یہ تو بہروپیا ہےاور انسانی شکل میں بھیڑیا ہے۔اس کی فطرت خونخوار جانور کی طرح ہے۔ اس کی حسین آنکھوں میں درندگی بسی ہوئی ہے۔دل میں حرص ولالچ ہے اور ذہن خودغرضی و حسد سے بھرا پڑا ہے۔گویا اس کو تو مادیت نے سر سے پاؤں تک اپنی لپیٹ میں لےلیا ہے۔ اس وقت انسان پریہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ جو بظاہر دکھائی دیتا ہے، وہ ہر ہمیشہ صحیح و دُرست نہیں ہوتا ہے بلکہ اوپری پرتوں نے تو گندگی کے ڈھیر کو چھپا کے رکھا ہے۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ایک انسان، دوسرے انسان کو اس کی اصلی شکل میں پہچانے؟ کیسے یہ ممکن ہوسکے کہ باہر سے خوبصورت دکھائی دینے والی چیز اصل میں بوسیدہ اوربدصورت ہے؟ وہ کون سے اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر انسان کی اصل شناخت ہوسکے؟ وہ کونسے لوگ ہیں، جن سے مشورہ کرکے باہری اور اندرونی ساختوں میں فرق کیا جائے؟ تو اس کا جواب ہے کہ محنت سے زیادہ مشاہدہ کیا جائے۔ مشاہدہ کے علاوہ یہ کام تجربات بھی مانگتا ہے۔ جتنے تجربات سے انسان گزرتا جائے گا، اتنا ہی وہ اس معاملے میں آگہی حاصل کرتا جائے گا۔ اس کے سامنے انسانوں کے اصلی روپ عیاں ہوجائیں گے۔
اب انسان کو خود سوچنا چاہئے کہ کیسے وہ لوگوں کو ان کی اصل شکل میں پہچان سکے، کیونکہ باہری اور اندرونی تضاد کی وجہ سے صرف انسان کا نقصان ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ قوموں کے قومیں تباہی کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس کے علاوہ قوم کی لگام بھی درندہ صفت لوگوں کے ہاتھوں میں آتی ہے، جس سے تباہی اس قوم کا مقدر بن جاتی ہے۔ اگر دین کے معاملات میں ایسا ہوتا ہے، تو دین کی اصلی حِس ہی پردے کے پیچھے چلی جاتی ہے۔ لوگ دین کے اصل معاملات کو چھوڑ کر کچھ فروعی یا غیر ضروری باتوں کو ہی اصل دین مان لیتے ہیں۔ اسلئے اب ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم بھی حساس بنیںاور بظاہر چمکتی ہوئی اشیاء کو اصل نہ سمجھیں۔ اس ضمن میں اللہ کی مدد کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ آیئے کوشش کریں کہ چیزوں اور لوگوں کو ان کی اصلی ساخت میں دیکھنے کی تدبیر کریں۔ امید رکھیں کہ اللہ اس کام میں ہمارا معاون رہے گا۔
(رابطہ نمبر۔7006031540)
[email protected]