شہباز رشید بہورو
آجکل سوشل میڈیا پر وادی میں بڑی دھوم دھام سے منائی جانے والی مناظری بازی کی مجالس کو شیئر کیا جارہا ہے۔ان مجالس میں چند سند یافتہ علماء اپنی اپنی رائے کو دین کے معاملے میں حرفِ آخر سمجھتے ہیں، دوسرے فریق کو غلط ثابت کرنے میں اپنی علمی رعب داب کے سکے ناواقف عوام کے سامنے بکھیرتے ہیں اور اس مجروح ملت کو اندر ہی اندر سے مزید زخمی کرنے لگے ہیں۔اعتدال کے نام پر یہ لوگ ایک دوسرے کی نفرت دلوں میں بھرتے چلے جارہے ہیں اور دوسری طرف یہ حضرات اپنے آپ کو اسلام کے بہت بڑے خادم سمجھتے ہیں۔ان کے بیانات سے صرف افتراق کی بو آتی ہے۔ان کی مجالس ملت کے اتحاد واتفاق کو پارہ پارہ کردینے والی مجالس مشاورت ہوتی ہیں جس کی سربراہی بالواسطہ طور اخلاق مخالف عناصر کر رہے ہیں۔ان حضرات کا انداز بیان ہی ان کے ناقص دینی فہم و فراست کو سامنے رکھتا ہے۔ان کا مساجد میں زور زور سے چیخنا چلانا یہاں تک کہ ان کا لڑائی پر اترنا ان کی نام نہاد عاجزی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔بھلے ہی یہ بھولی بھالی دینی طور پر ناخواندہ عوام انہیں علامہ اور نہ جانے کون کون سے القاب سے پکارتے ہیں جن کو سن کر شاید امام غزالی، امام رازی، علامہ اقبال وغیرہ سب کی روحیں شرماتی ہوں۔ان حضرات نے دین کو صرف مناظرہ بازی تک محدود رکھا ہے اور اخلاقیات کو سرے سے نظر انداز کیا ہے۔
کیا مناظرہ بازی سے کوئی بھی ملی مسئلہ حل ہو سکتاہے سوائے اس کے کہ ملت پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گی۔کیا کوئی بیماری کبھی کسی دوسری بیماری کا علاج بن سکی ہے؟ یقیناً جواب اس کا نفی میں ہے۔مناظرہ بازی سے دین و ملت کی کوئی بھی خدمت نہیں ہو سکتی۔کیونکہ مناظرہ بازی ایک بیماری کی طرح معاشرے میں پھیل رہی ہے جس سے علماء کی وقعت و وقار، علم وحلم،اخلاق و آداب اور عزت و عظمت پر بڑے بڑے سوال پیدا ہو رہے ہیں۔جس سے ہمارے معاشرے میں نفرت و افتراق کا ایک نا ختم ہو نے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جس سے ملت کے اہداف و مقاصد اس کی نگاہ سے اوجھل ہوتے جارہے ہیں اور اس کے بدلے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی تحریک زور پکڑی ہوئی ہے۔
یہ حضرات ایک دوسرے پر لعن و طعن کی بھڑاس نکالنے کے لئے دم دار لوڈ سپیکرس کے ساتھ دینی طور ناخواندہ عوام کی جاہلیت کا بھر پور فائدہ اٹھا کر اپنے آپ کو وقت کا عالم و فاضل ظاہر کرتے ہیں۔ان کے بیانات سن کر علم میں اضافہ تو دور کی بات ہے وقت کٹائی بھی مشکل سے ہوتی ہے۔کشمیر کی اس وادی میں یہ ایک نیا ٹرینڈ کسی زہر سے کم نہیں، جو آنے والی نسل میں نفرت کے بیج بو رہاہے۔سٹیج پر آکر چاپلوسی کے رنگ ظاہر کرنا،مذاق بازی کے دورے کرنا اور چٹھکارے لینا آخر کون سی خدمت دین ہے جس کا جواز یہ لوگ علوم شریعہ سے پیش کر رہے ہیں۔یہ دراصل سب خواہشات کے اسیر اور ناموری کے مریض ہیں۔
وادی میں یہ عالمانہ چلن کوئی ٹھیک علامت نہیں ہے۔کیونکہ اس سے عوام الناس میں افتراق پیدا تو ہوگا ہی لیکن ان میں دین کے تئیں سنجیدگی کی کمی بھی تیزی کے ساتھ ہو گی۔لوگ دین کو بس ایک مذاق کے طور پر لے رہے ہیں جبکہ وہ دیکھ رہے ہیں برسر منبر عزت مآب مولوی صاحب مسخرہ پن اختیار کر رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ہاں اختلاف ضمنی اور چھوٹے چھوٹے مسائل میں ہوتا ہے اور ہر جماعت اپنی بات ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے حالانکہ گناہ کبیرہ کا کھلم کھلا ارتکاب ہورہا ہے لیکن ہم نے کبھی بھی ان مسائل پر بات نہیں کی۔ہم نے کبھی فکر نہیں کی کہ لوگ بے نمازی کیوں ہیں،چوریاں ہورہی ہیں تو کیوں،زنا عام ہورہا ہے تو کیوں،بے حیائی کا رجحان دن بہ دن بڑھ رہا ہے تو کیوں ؟ہم ہیں کہ بس طوطے کی رٹ لگائے ہوئے اپنا اپنا تشخص برقرار رکھ رہے ہیں! ہم ہیں کہ دین کی نمائندگی کرنے کے برعکس یا تو ہم اپنی نمائندگی کررہے ہیں یا اپنے اپنے دھڑوں کی۔میرا مدعا کسی کی دل آزاری قطعاً نہیں مگر دل بیقرار سے نہ ہوپایا تو قلم کا سہارا لیا تاکہ الفاظ کے خاموش نقاط میں اپنا پیغام ارسال کر سکوں۔
منبر پر واویلا کرنا،جھومنا اور چیخنا چلانا یہ کون سی روایات اور اقدار ہیں جنہیں ہم فروغ دینا چاہتے ہیں۔کیا یہ اسلامی آداب ہیں جن کو ہم اختیار کئے ہوئے ہیں، کیا یہی پیغام ہے جو ہم دنیا والوں کو دینا چاہتے ہیں، کیا یہی پیام ہے جو دنیا کو ہم سنانا چاہتے ہیں؟ عوام الناس سے بھی میری گذارش ہے خدارا مساجد میں احترام و تقدس کا خاص خیال رکھیں ،ان خطیبوں کے چیخنے اور چلانے پر شور و غل سے ان کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔یہ سب کچھ غیر شرعی اورناجائز ہے۔سیرت کی کسی بھی کتاب میں ایسا کوئی واقعہ موجود نہیں جو یہ اپنے رویے کے اثبات کے لئے جواز کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔کئی ایک ویڈیوز سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھنے کو ملے جن میں نام نہاد پیر فقیر لوگوں کو ایسی غلیظ حرکات کرواکے بہکا رہے ہیں کہ شرم کے مارے سر جھک جاتا ہے،خواتین کی سادہ لوحی کا فائدہ اٹھا کر دولت اور شہرت کما رہے ہیں۔
قرآن پڑھیں، سیکھیں اور اعتدال کی روش اختیار کریں۔آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے پیچھے نہ چلیں۔مستند ،معتبر اور سنجیدہ علمائے دین سے رابطہ رکھ کر فسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون کی تفسیر پیش کریں۔آپ کے پاس اگر کوئی حافظ، عالم یا کوئی مفتی بھی آتا ہے ،پہلے اس کی اہلیت اور صلاحیت جانچیں اور پرکھیں ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ عبا قبا علماء کا ہو اور علم و عمل جہلا سا۔میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے جو میں قارئین کے ساتھ شیئر کررہا ہو کہ ایک بستی سے چند لوگوں نے کہا کہ ہماری بستی میں ایک پیر مفتی صاحب ہیں جن کا کردار کچھ صحیح محسوس نہیں ہو رہا ہے، اس لئے ہماری مدد فرمائیں۔ جب ہم نے براہ راست مفتی صاحب سے گفتگو کی تو معلوم ہوا کہ نہ وہ مفتی ہیں نہ وہ حافظ ہیں بلکہ اسے چھوٹی سورتیں تک یاد نہ تھیں۔لیکن جہالت ہمارے معاشرے میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ایک کثیر تعداد میں مرد و خواتین اس کے گرویدہ ہو چکے تھے۔
یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کو قطعی ملت کیلئے کوئی خوش آئند قرار نہیں دیاجاسکتا ہے بلکہ اس میں عبرت کا پہلو پنہاں ہے ۔مناظرہ بازی سے اجتناب ناگزیر ہے اور ہمیں چاہئے کہ ہم ملت کو ایسی بیہو دہ سرگرمیوں سے مزید انتشار سے دوچار نہ کریں کیونکہ ہم پہلے ہی بہت سے خانوں میں بٹ چکے ہیں اور مزید تقسیم سم قاتل ثابت ہوسکتی ہے جس سے بچنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔امید ہے کہ علمائے کرام اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے اقدامات بروئے کار لائیں گے اور مسلکی انتشار کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں گے ۔
ای میل۔[email protected]