جموں// آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار نے ہفتہ کو ملک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چین اور پاکستان کے “غیر قانونی قبضے” سے کیلاش مانسروور اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کی واپسی کے لیے ہر صبح خصوصی دعاوں کا اہتمام کریں۔
انہوں نے علاقائی مرکزی دھارے کی جماعتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جنہوں نے گزشتہ 70 سالوں میں جموں و کشمیر پر حکومت کی انہیں موت اور تباہی کا جوابدہ ہونا ہوگا۔ کیلاش مانسروور بھارت کا حصہ تھا جو اب غیر قانونی قبضے میں ہے۔ اسے بھارت کے ساتھ دوبارہ شامل کیاجانا چاہئے اور ملک کے لوگوں کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ یہ مستقبل میں کسی وقت ہونے والا ہے “۔
اندریش کمار نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے، کہا،” انہوں نے جموں و کشمیر اور پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) کی صورتحال پر ایک مختصر بات چیت کی۔ پی او جے کے جموں و کشمیر کا حصہ ہے جو ملک کا اٹوٹ انگ ہے۔ ہم ہم وطنوں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہر صبح کیلاش مانسروور اور پاکِ زیر قبضہ کی واپسی کے لیے دعا کریں… دعاوں میں طاقت ہے اور ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہیے کہ کیلاش مانسروور اور پی او جے کے دوبارہ ہندوستان کا حصہ بن جائیں“۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو نریندر مودی کی قیادت والی حکومت پر اعتماد کرنے اور اس کی پالیسیوں اور اقدامات کی مکمل حمایت کرنے کی ضرورت ہے جن کا مقصد چین کو روکنا ہے۔ “چین انتہا پسندی کی پالیسی پر گامزن ہے، جب کہ ہماری پالیسی انتہا پسندی کے رجحانات رکھنے والوں کو روکنا ہے”۔
آر ایس ایس کے رہنما نے کہاکہ چین کے جارحانہ انداز نے بنی نوع انسان کو نقصان پہنچایا ہے کیونکہ اس نے عالمی معیشت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، زمینوں پر قبضہ کرنے کیلئے کویڈ-19 وبائی مرض کے پھیلایا۔
اندریش کمار نے کہا کہ پاکستان میں کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ کشمیر کے بغیر ملک ادھورا ہے۔ بھارت میں عام آدمی کا خیال ہے کہ بھارت کراچی، ننکانہ صاحب اور شاردا پیٹھ کے بغیر نامکمل ہے۔ انہوں نے پاکستان پر اقلیتوں کے خلاف ظلم کا الزام لگایا اور متاثرین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی تعریف کی۔ کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ پر انہوں نے کہا کہ اس قسم کی کارروائیوں کا مقصد امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، ”کشمیر کی صورتحال نے ایک تبدیلی کی نشاندہی کی ہے اور دشمن کے تمام مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا“۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور بازآبادکاری یقینی ہے کیونکہ حالیہ ماضی میں اٹھائے گئے حکومتی اقدامات سے امن بحال ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین سابق وزرائے اعلیٰ – نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی – ان اقدامات کے بارے میں ملک کے سامنے جوابدہ ہیں جو ان کی حکومتوں نے جموں و کشمیر میں بے گناہوں کی ہلاکتوں کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے ہیں۔
انہوں نے کہا ، ”احتساب ہونا چاہیے کیونکہ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں“۔
انہوں نے مزید کہا ، ”جو لوگ عوام کو گمراہ کررہے ہیں انہیں منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت ہے“۔
پاک زیرِ انتظام کشمیر اور مانسروور کی واپسی کیلئے خصوصی دعاﺅں کا اہتمام کریں: آر ایس ایس لیڈر کی لوگوں سے اپیل