جموں// ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے چیئرپرسن غلام نبی آزاد نے اتوار کو اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاستی درجہ کی بحالی کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔
کانگریس کے سابق راجیہ سبھا ایم پی اور ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے چیئرپرسن غلام نبی آزاد نے کٹھوعہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کیا اور اپنی پارٹی کے تین اہم ایجنڈوں کو واضح کیا۔
آزاد نے ایک عوامی ریلی میں کہا، “ہمارے پاس تین اہم ایجنڈے ہیں، پہلا ریاستی درجہ کی بحالی، دوسرا اراضی حقوق جموں وکشمیر کے لوگوں کیلئے مختص رکھنا، اور تیسرا صرف مقامی نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے حقوق محفوظ رکھنا”شامل ہیں”۔ اُنہوں نے ایک عوامی ریلی میں کہا کہ جب تک ان ایجنڈے کی تکمیل نہیں ہو جاتی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یا درہے کہ غلام نبی آزاد نے 52 سال تک تنظیم کا حصہ رہنے کے بعد 26 اگست کو کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔
سونیا گاندھی کو اپنے استعفیٰ کے خط میں، انہوں نے پارٹی قیادت بالخصوص راہول گاندھی کو نشانہ بنایا تھا، جس طرح گزشتہ تقریباً نو سالوں میں پارٹی کو چلایا گیا ہے۔
پانچ صفحات پر مشتمل خط میں، آزاد نے دعویٰ کیا تھا کہ پارٹی کو ایک گروہ چلاتا ہے جب کہ سونیا گاندھی محض “ایک برائے نام سربراہ” ہیں اور تمام بڑے فیصلے “راہل گاندھی یا اس سے بھی بدتر ان کے سیکورٹی گارڈز اور پی اے” نے کیے تھے۔
آزاد اس سے قبل راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے۔ کانگریس کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے آزاد نے کہا تھا کہ پارٹی کی صورتحال اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ ”واپس نہیں آسکتی“۔
جہاں آزاد نے خط میں سونیا گاندھی پر طنز کیا، وہیں ان کا سب سے تیز حملہ راہول گاندھی پر تھا اور انہوں نے راہول کو ایک “غیر سنجیدہ فرد” اور “نادان” قرار دیا تھا۔
غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ دہرایا