حق و صداقت
ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
قرآن مجید۔خالق ِ کائنات اور ربّ العالمین کی جانب سے انسانوں کو عطا کردہ ایک عظیم ترین نعمت ہے۔ تاریخ کے کسی بھی دور میں گروہِ انسانی نے جب قرآن کریم کی قدر و قیمت کو جانتے ہوئے اس کی تعلیمات کو اپنے لئے مشعلِ ہدایت بنایاتو دنیا کی امامت و قیادت ان کے ہاتھوں میں آئی۔یہ وہ زندہ کتاب ہے جس نے اپنے نزول کے ساتھ ہی انسانی سماج کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ اس کتاب کا نزول ایک ایسے معاشرہ میںہوا جہاں علوم و فنون یا تہذیب و تمدن کا کوئی تصور نہیں تھا۔ لیکن ۲۳ سال کے مختصر عر صے میں ایک ایسا انقلاب اس معاشرہ میں برپا ہوا کہ ہر طرف انسانی برادری کے درمیان اخوت اور ایثار و قربانی کے منظر دیکھے جانے لگے۔ قرآن مجید کی تعلیمات سے ایسا سازگار ماحول پیدا ہوا کہ غلام و آقا کی نہ صرف تمیز ختم ہو گئی بلکہ غلاموں کو آقا کی مسند پر فائز کیا گیا۔ عدل و انصاف کے وہ پیمانے قائم کئے گئے کہ اس میں امیر و غریب، طاقتور اور کمزور کا کوئی فرق باقی نہ رہا۔ یہ دنیا کی وہ واحد کتاب ہے جس میں زندگی کی ٹھوس حقیقتوں پر بحث کر تے ہوئے اس کا حل پیش کیا گیا۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہی دیتی ہے کہ اس کتاب کا پڑھنے والا اگر دل کے دروازے بند نہ کرکے اس کی تلاوت کرے تو وہ اس کی حقانیت اور صداقت کو بسر و چشم قبول کرنے میں کوئی عذر سے کام نہ لے گا۔ قرآن مجید ایک انقلابی انداز کی وحی یعنی (Revolutionary Revelation)ہے۔ قرآن مجید ان معنوں میں مسلمانوں کی صرف ایک مذہبی کتاب نہیں ہے جیسے عیسائیوں، یہودیوں ، ہندوؤں اور دوسرے مذہبی گروہوں کی کتابیں ہیں ۔ قرآن حقیقت میں ایک مکمل دین پیش کرتا ہے۔ اس میں انسانی زندگی سے متعلق ہرمسئلہ کو زیرِ بحث لا تے ہوئے اس کا حل بھی پیش کر دیا گیا۔ انسانی زندگی کی مجموعی فلاح کے اصول پوری وضاحت کے ساتھ قرآن میں بیان کر دئے گئے۔ قرآن مجیدکی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ کوئی خاص جزوی علم کی کتاب نہیں ہے، بلکہ اس میں تمام علوم کاخزانہ رکھ دیا گیا۔ یہ محض قانون کی یا معاشیات کی کتاب نہیں ہے اور نہ محض فلسفہ یا تاریخ کو بیان کرنے والی کتاب ہے۔ قرآن میں قوانین بھی بیان کئے گئے ، معیشت کے اصول بھی قرآن بیان کر تا ہے اور تاریخی واقعات کا بھی تذکرہ قرآن میں کیا گیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت حاصل کریں۔ لیکن قرآن کا مرکزی عنوان “انسان “ہے اور وہ اس کی ہدایت کے لئے رہنمائی کرتا ہے۔ قرآن کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ انسان اپنے خالق کی بندگی اختیار کرے ،اس میں کسی اور کو شریک نہ کرے ۔ قرآن جا بجا اسی بات کی تاکید کرتا ہے کہ بندگی صرف رب کی جائے اور اُسی کے حکم پر سر تسلیم خم کیا جائے۔ یہی وہ قرآن کا پیغام تھا جس نے چودہ صدیاں پہلے دنیا میں ایک ہلچل پیدا کردی لیکن لاکھ مخالفتوں کے باوجود قرآن کی صداقت کو جھٹلایا نہ جاسکا اور وحدہ لا شریک کے عقیدہ کی بنیاد پر ایک ہمہ گیر انقلاب رونما ہوا ۔ اس کے نتیجہ میں دنیا سے ظلم و نا انصافی کا خاتمہ ہوا اور پوری انسانی سوسائٹی میں عدل و قسط کا نظام قائم ہوا۔ یہ قرآن کا معجزہ تھا کہ اونٹوں کے چرانے والے انسانیت کے امام و قائد بن گئے اور تہذیب و تمدن کی وہ اعلیٰ قدریں قائم کیں کہ بغض وعداوت کی جگہ محبت و دوستی کے جھرنے پھوٹنے لگے۔ قرآن نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جہاں رائج الوقت فکری، اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو ختم کر کے بھلائیوں اور نیکیوں کا وہ سازگار ماحول پیدا کیا گیا جہاں ہر انسان نیک اور اچھے کاموں میں دوسروں سے سبقت لیجانا چاہتا تھا۔
دور حاضر کا یہ المیہ ہے کہ انسان خدائی ہدایات سے بے نیاز ہو کر بے لگام زندگی گزارنے کا عادی ہو تا جا رہا ہے۔ جدید مغربی تہذیب مذہب سے انحراف کرکے جس تباہی و بربادی کا شکار ہوئی، اب مشرقی اقوام اس زلف گرہ گیر کے اسیر ہو تے جا رہے ہیں۔ مذہب سے ترک تعلق کرنے سے انسان جن اخلاقی برائیوںکے دلدل میں پھنس جا تا ہے ،اس کا بدترین مشاہدہ اب بہت عام ہو گیا ہے۔ اس پر کسی تحقیق کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ چودہ سو سال پہلے علوم و فنون کے دریا نہیں بہہ رہے تھے، انسانی سماج تہذیب و تمدن سے بھی نا آشنا تھا۔ لیکن عصر حاضر میں انسان جہاں ایک طرف چاند اور مریخ پر کمندیں ڈال رہا ہے ، دوسری جانب اس کی بے بصیرتی اور بے علمی کا یہ عالم ہے کہ وہ زندگی کے حقائق سے بے بہرہ ہو گیا ہے۔ مقصدِ زندگی کا کوئی جامع تصور باقی نہیں رہا۔ اس بحران کا شکار اس وقت مسلمان بھی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ فرسودہ اور مشرکانہ نظام تعلیم نے مسلم نوجوانوں کو اسلامی تعلیمات سے اس قدر دور کردیا کہ وہ بھی دین کو ایک رسمی عبادات کا مجموعہ سمجھنے لگے۔ قرآن کے پیغام سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے ان میں دین کا محدود تصور اس قدر جڑ پکڑ لیا کہ وہ قرآن کے مقصدِ نزول کو بھی سمجھنے میں ناکام ہو گئے۔ جس کے نتیجہ میں وہ شاہراہِ حیات سے بھی بھٹک گئے۔ قرآن سے سرد مہری اور اس پر تفکر و تدبر نہ کرنے سے امت جن نازک حالات سے گز ررہی، اس سے ہر دردمند مسلمان واقف ہے۔ قرآن سے بے اعتنائی کا رویہ جب بھی امت میں پروان چڑھا ، اس کو دور کرنے کے لئے مختلف کوششیں کی گئیں۔ خاص طور پر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی ِ رجوع الی القرآن و السنّہ کی تحریک بڑی کامیاب رہی۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے اپنے زمانے کے مسلمانوں کی مذہبی، سماجی ، معاشی اور سیاسی زندگی کا بغور جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس کیا کہ امت میں جو انفرادی اور اجتماعی خرابیاں پیدا ہوئیں ہیں، اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ مسلمانوں نے قرآن و حدیث سے اپنے تعلق کو کمزور کرلیا ہے۔ عوام ہی نہیں بلکہ خواص میں بھی قرآن و حدیث سے بے توجہی عام ہو گئی تھی۔ مسلم معاشرہ کی دگرگوں حالت کو دیکھتے ہوئے وہ خاموش نہیں رہ سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے قرآن کے پیغام کو ہر گھرتک پہنچانے کی سعی کی۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی مسلم گھر قرآن کے ذکر سے خالی نہ رہے۔ وہ اس یقین تک پہنچ گئے تھے کہ اس کتاب ہدایت سے مسلمانوں کا فکری و عملی تعلق استوار ہوئے بغیر ان کاکوئی مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی اس منفرد تحریک کا بہت ہی مثبت اثر ہوا۔ پھر ایک مرتبہ امت میں قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ لوگوں کے دلوں میں قرآن کی عظمت اور اس کا مقام و مرتبہ کا احساس جاگزیں ہوا۔ اس نسخہ کیمیاء سے فیض یابی کے بعد اس وقت کے مسلمانوں میں رائج بہت ساری خرافات ختم ہوئیں۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے اٹھارہوٰیں صدی عیسوی میں مسلمانوں میں قرآن و سنت سے مضبوط تعلق پیدا کرنے جو تحریک چلائی تھی ،اب ایکسویں صدی میں بھی اسی نوعیت کی تحریک چلانے کی شدید ضرورت ہے۔ قرآن فہمی کے بار ے میں جو کچھ حالات اس وقت ہیں ، اٹھارہویں صدی سے مختلف نہیں ہیں۔ قرآن سے بے توجہی اور غفلت موجودہ دور کا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اُ س دور میں کم علمی اور معلومات کی کمی تھی لیکن آج کا دور انفجارِ علم کا دور ہے۔ معلومات کا اتھاہ سمندر ہمارے سامنے ہے۔ لیکن دنیا کے مشغلوں نے اتنا مصروف کردیا ہے کہ اللہ کی کتاب کی طرف ہماری نظر عام دنوں میں خال خال ہی اُٹھتی ہے۔ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی طرح مسلمانوں نے بھی اسے محض ایک کتابِ ثواب بناکر رکھ دیا۔ ناگہانی حالات میں یا کسی کے انتقال کے وقت یا انتقال کے بعد صرف ایصال ثواب کی نیت سے قرآن مجید کی تلاوت کر لینا مسلمانوں کا ایک عام مزاج بن چکا ہے ۔
موجودہ دور میں قرآنی تعلیمات کی روشنی میں انسانی اقدار کی بحالی کا فریضہ انجام دینا مسلمانوں کی اہم ترین ذ مہ داری ہے۔ موجودہ دور میں انسانی حقوق کی بازیابی کا بڑا غلغلہ ہے۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے بڑی بڑی تنظیمیں کام کر رہی ہیں لیکن کیا واقعی دنیا میں انسانی حقوق کی پاسداری کی جا رہی ہے۔ علوم و فنون کی ترقی کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں انسانوں کے حقوق سلب کرلئے جا رہے ہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں کئی طبقے ایسے ہیں جن کے ساتھ سماجی مساوات کا رویہ اختیار نہیں کیاجاتا۔ عورتوں اور بچوں کے حقوق کے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن ان کی زبوں حالی کو دنیا سَر کی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔ قرآن نے چودہ سو سال پہلے انسانی حقوق کا جو تصور پیش کیا تھا ، اسے دنیا کو بتانے کی ضرورت ہے۔ قرآن میں جہاں عبادات پر زور دیا گیا اور حقوق اللہ پر عمل پیرا ہونے کی تاکید کی گئی وہیں حقوق العباد کے بارے میں جا بجا تلقین کی گئی۔ قرآن نے واضح کر دیا کہ ہر انسان، بحیثیتِ انسان عزت و تکریم کا مستحق ہے۔ مذہب، ذات، رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی فرد کے ساتھ ناانصافی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ باطل طاقتیں اسلام پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ یہ دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کے تصور جہاد کو مسخ کر کے پیش کیا جا تا ہے۔ امت کا کام ہے کہ وہ اس پرو پیگنڈا کو غلط ثابت کرنے کے لئے قرآن سے دلیل دیں۔ قرآن نے صاف لفظوں میں کسی بے گناہ انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ اسلام خونریزی کی تعلیم دیتا ہے ، باطل قوتوں کے تعصب کی دلیل ہے۔ قرآن نے جس فلسفہ جہاد کو بیان کیا ہے اس کا مقصد دنیا سے فتنہ و فساد کو ختم کرنا ہے۔ عورتوں کے بارے میں خاص طور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ایک زمانے دراز سے ہوتی رہی ہے۔ یہ الزام لگایا جا تاہے کہ اسلام میں عورتوں کو کوئی آزادی نہیں دی گئی۔ جب کہ قرآن میں بڑی وضاحت کے ساتھ عورتوں کے حقوق کو بیان کیا گیا۔ عورت کی عزت کے ساتھ اس کے میراث کے حق کو بھی تسلیم کیا گیا۔ جو طاقتیں خواتین کی آزادی کے نعرے بلند کرتی ہیں انہوں نے ہی عورت کی عزت کو پامال کیا۔ آج عورت ایک جنسِ بازار بن کر رہ گئی۔ مغربی تہذہب کی نقالی کرنے سے مشرقی دنیا میں بھی خاندان بکھرتے جا رہے ہیں۔ مقدس رشتوں کا پاس و لحاظ ختم ہو گیا ہے۔ ان خباثتوں کو دور کرنے کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ معاشرہ کو قرآنی تعلیمات کی روشنی میں استوار کیا جائے۔ اُسی وقت امید کی جا سکتی ہے کہ مسلمان عزت و وقار کی زندگی گزارسکیں گے۔ اس تناظر میں حالات کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان کا رشتہ قرآن سے مضبوط کیا جائے، ہر مسلمان آیات قرآنی کی صحیح تلاوت پر قادر ہو اور آیات قرآنی کو سمجھ کر پڑھنے، تعلیمات پر عمل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔ محلوں میں دروس قرآن کی محفلیں اور قرآن فہمی کے اسٹڈی سرکلس بھی قائم کرنے کوشش کی جائے ۔ امت کے تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ اس سلسلے میںبغیر کسی مسلکی مصلحت کے ایک دوسرے کو اپناتعاو ن پیش پیش رکھیں اور امت میں قرآن کا پیغام عام کریں،تاکہ امت ِ مسلمہ پر اس کے مفید اور دیرپا اثرات مرتب ہوسکیں۔ ہندوستانی سماج کے سیلم الفطرت افراد تک جب قرآن کا صحیح تعارف پیش کیا جائے گا تو ملک میں اس وقت مسلمانوں کے خلاف جو بادِ سموم چل رہی ہے ،اس کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ ضرورت ہے کہ مسلمان ایک خیرِ اُمت کی حیثیت سے اس فریضہ کو انجام دیں تاکہ قرآن کا پیغام ِرحمت عام ہو۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو جدّت کردار ( علامہ اقبالؒ )
(رابطہ۔9885210770)
[email protected]