جموں//ضلع جموں میں حکام نے بدھ کے روزانتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی سمری رویژن کے دوران ان لوگوں کو بھی انتخابی فہرستوں میں شامل کرنے کی ہدایت دی ہے جو سرمائی دارالحکومت جموں میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے مقیم ہیں، اور تحصیلداروں (ریونیو اہلکاروں(کو ایسے افراد کو رہائشی اسناد جاری کرنے کا اختیار دیاہے۔
ضلع الیکشن آفیسر اور ڈپٹی کمشنر جموں، اونی لواسہ نے کچھ اہل ووٹروں کو مطلوبہ دستاویزات کی عدم دستیابی کی وجہ سے بطور ووٹر رجسٹریشن میں مشکلات کا سامنا کرنے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی ہے۔
بتادیں کہ حکومت کی جانب سے نئے ووٹروں کے اندراج، حذف، تصحیح، مہاجروں، انتقال کر جانے والے ووٹرز کی منتقلی کے لیے 15 ستمبر سے انتخابی فہرستوں کی خصوصی سمری نظرثانی شروع کی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر جموں کی جانب سے جاری ایک حکم نامہ کے مطابق،”اس معاملے میں شامل عجلت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ ضلع جموں میں سپیسل سمری رویژن 2022 کے دوران اندراج کا کوئی اہل ووٹر باقی نہ رہے، تمام تحصیلداروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضروری اسناد کی دستیابی اور زمینی تصدیق کے بعد ضلع جموں میں ایک سال سے زیادہ عرصے سے مقیم افرادکو رہائش کا سرٹیفکیٹ جاری کریں”۔
اہل ووٹروں کے اندراج کے لیے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے رہنما خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ مذکورہ دستاویزات میں سے کوئی بھی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں، زمینی تصدیق ضروری ہے۔
حکم نامہ کے مطابق،”مثال کے طور پر، ایسے زمرے جیسے بے گھر بھارتی شہری،ووٹر بننے کے اہل ہیں لیکن ان کے پاس عام رہائش کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہو، انتخابی رجسٹریشن افسران زمینی تصدیق کے لیے ایک افسر کو نامزد کریں گے”۔
انتخابی رجسٹریشن افسران اور اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران سمیت فیلڈ کے عہدیداروں کے ساتھ کی گئی جائزہ میٹنگوں کے دوران، یہ دیکھا جائے گا کہ کچھ اہل ووٹروں کو دستاویزات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ووٹر کے طور پر اندراج میں کن مشکلات کا سامنا ہے۔
حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، نیشنل کانفرنس نے ٹویٹ کیا، “حکومت جموں و کشمیر میں 25 لاکھ غیر مقامی ووٹرز کو شامل کرنے کے اپنے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور ہم اس اقدام کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ بی جے پی انتخابات سے خوفزدہ ہے اور جانتی ہے کہ وہ بری طرح ہارے گی۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو بیلٹ باکس میں ان سازشوں کو شکست دینا ہوگی۔ بی جے پی کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے غیر مقامی لوگوں کو بطور ووٹر شامل کرنے کی سخت مخالفت کی ہے©”۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا،” جب اگست میں اس وقت کے چیف الیکٹورل آفیسر ہردیش کمار نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پہلی بار انتخابی فہرستوں کی خصوصی سمری نظرثانی کے دوران تقریباً 25 لاکھ اضافی ووٹر آنے کا امکان ہے، جن میں باہر کے لوگ بھی شامل ہوں گے”۔
سیاسی جماعتوں کی تنقید اور مذمت کے بعد، یونین ٹیریٹری انتظامیہ نے بعد میں واضح کیا ، ”انتخابی فہرستوں کی یہ نظرثانی مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے موجودہ رہائشیوں کا احاطہ کرے گی اور تعداد میں اضافہ ان ووٹروں کی ہو گا جو اکتوبر 2022 تک یا اس سے قبل 18 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں”۔
وہیں غیر مقامی افراد کو بطور ووٹر شامل کرنے پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی سربراہی میں پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے ہفتے کے روز ایک 14 رکنی کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جو کہ کسی بھی طرح کی ”ہیرا پھیری اور غیر مقامی افراد کی شمولیت“ کی کوشش کے معاملے پر حکمت عملی تیار کرے گی۔
پینل میں پی اے جی ڈی کے پانچ حلقوں اور کئی دیگر سیاسی جماعتوں جیسے کانگریس، شیو سینا، ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن پارٹی (DSSP) اور ڈوگرہ صدر سبھا (DSS) کے ارکان ہیں۔
جموں میں 1سال سے زائد عرصے سے مقیم لوگوں کو رہائشی اسنادجاری کرنے کے احکامات