جموں//پی ڈی پی صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا جموں صوبہ سے کوئی جموں وکشمیر کا لیفٹیننٹ گورنر بننے کا مستحق نہیں تھا؟۔
پی ڈی پی چیف نے آج کہا،”انہوں نے (بی جے پی) جموں کے لوگوں سے کہا کہ وہ جموں سے ایک وزیر اعلی بنائیں گے۔ بی جے پی جموں سے لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) بنا سکتی تھی لیکن اس کے بجائے انہوں نے یوپی سے جموں و کشمیر کا ایل جی بنایا۔ کیا جموں کا کوئی بھی ایل جی بننے کا مستحق نہیں تھا؟”۔
یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سال 2019میں جموں وکشمیر سے دفعہ 370کو منسوخ کرنے کے بعد سے جموں وکشمیر میں انتخابات کرانے اور پھر جموں صوبہ سے ہی وزیرِ اعلیٰ بنانے کا دعویٰ کرتی آ رہی ہے۔
قبل ازیں محبوبہ مفتی ہفتہ سے جموں کے دورے پر ہیں ۔
اتوار کو پارٹی ہیڈکوارٹر گاندھی نگر جموں میں ایک ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبہ جموں کے تمام اضلاع کے پی ڈی پی کارکنان اور ورکروں نے شرکت کی۔
کنونشن سے خطاب کے دوران ،پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے بی جے پی کو شدید نشانہ بنایا اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے حالیہ دورہ پر بھی تنقید کی۔
جموں کے گاندھی نگر میں منعقد ایک تقریب کے دوران محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر کے موجودہ سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
محبوبہ نے کہا کہ جموں وکشمیر میں بے روزگاری عروج پر ہے، جس کی طرف حکومت دھیان نہیں دے رہی ہے۔ ا±نہوں نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر جموں وکشمیر کے لوگوں کو پستی کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کیا جموں سے کوئی بھی لیفٹیننٹ گورنر بننے کا مستحق نہیں تھا؟محبوبہ مفتی کا مرکز سے سوال