سبزار احمد بانڈے
آج حکومتی نظامِ تعلیم کےبنیادی مسائل کا سامنا کرکے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیےاگرچہ بہت کچھ کیا گیا ہے۔ اسکولوں کی نئی عمارتیں، بیت الخلا کی سہولیات، پینے کا پانی وغیرہ، لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سرکاری اسکول والدین کی توجہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں، اس لیے بڑی تعداد میں بچوں کے داخلے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ ریاست کے شہری اور نیم شہری علاقوں میں یہ مسئلہ سنگین بن چکا ہے اور دیہی علاقوںمیں اس کا اثر کم ہوتا جا رہا ہے۔ معیاری اسکول کی عمارت کا فقدان اور اسکولوں میں کھیل کے میدانوں کی کمی، ان اسکولوں میں داخلے کے لیے آنے والے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ اس کا جواز اس بات کو مدنظر رکھ کر لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری محکموں میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کو بھی اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانے میں مشکل پیش آتی ہے اور ان کی پہلی ترجیح ہمیشہ پرائیویٹ سکول ہوتے ہیں، وہ بھی اپنے بچوں کے لیے بہتر تعلیم کے خواہش مند ہیں،اس لئے سرکاری اسکولوں کی ابتدائی سطح پر ناسازگار حالت کو ظاہر کرتی ہے۔ جدید دور کی تعلیم انفارمیشن ٹکنالوجی سے چلتی ہے ۔ سرکاری اسکولوں میں ہم شاید ہی کوئی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے دیکھ رہےہیں، چاہے وہ کمپیوٹر ہو یا انٹرنیٹ کنکشن۔ جبکہ نجی اسکولوں میں بچے دونوں کے فائدے اٹھاتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بجلی کے کنکشن کی کمی، کلاس رومز میں آڈیو ویژول میڈیم کی نا یابی وغیرہ بھی سرکاری اسکولوں میں کم داخلے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔
جہاں تک معلم اور اسکے مسائل کا تعلق ہے لفظ ‘’’معلم ‘‘کہنے کو تو یہ چارحروف کامجموعہ ہے۔لیکن اپنے اندر پورے معاشرے کی بھاگ دوڑسنبھالے ہوئے ہیں۔یہ جوحیرت انگیز ایجادات اور نت نئی دنیا میں آپ کوتبدیلیاں نظر آرہی ہیں،اس ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی ہیں۔کسی قوم پر زوال آنے کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ کی تکریم سے انحراف ہے ۔ ہمارے ملک میں استاد کی مجموعی صورتحال ، معاشرے اور حکومت کے رویے پر نظر ڈالی جائے تو اساتذہ سب سے مظلوم اور پسماندہ طبقہ معلوم ہوتے ہیں ۔ اپنے بنیادی حقوق سے محروم معمار شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں ۔ اساتذہ کے مسائل نشاندہی کے باوجود کم ہونے کی بجائے مسلسل بڑھتے ہی جارہے ہیں مگر اس کے باوجود وہ قوم کے مستقبل کو سنوارنے اور نکھارنے کے لیے اپنے آپکو وقف کئے ہوئے ہیں ۔اساتذہ کے مسائل کیا ہیں ، انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس موضوع پر چیخنا چلانا تو کئی دہائیوں سے جاری ہے، تاہم یہ بات دہرانا لازمی ہے کہ وسائل کی عدم دستیابی اور معاشی طور پر مضبوط نہ ہونا اساتذہ کے اہم ترین بنیادی مسائل ہیں ۔ جس شخص نے نسلِ نو کی تربیت کرنی اور ایک سلجھا ہوا معاشرہ پیدا کرنا ہے، وہ حکومت کی طرف سے بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کے اساتذہ میں ماضی کے اساتذہ جیسی خوبیاں تو نہیں ، لیکن اگر ان کے مسائل کے حل پر توجہ دی جائے اور مرکزی ،صوبائی اور ضلعی سطح پر ان کا اعتراف کرتے ہوئے استاد کی خدمات کی مکمل حوصلہ افزائی کی جائے تو مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ 5 ستمبر کا دن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں سیمینارز ،مشاعرے،کلچرل پروگرامز اور ایسی دیگر سرگرمیوں کے ذریعے حکام بالا تک اساتذہ کی آواز پہنچائی جاتی ہے اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ’’ استاد کے مسائل کا حل جلسوں ،مظاہروں ،قراردادوں ، سیمینارز اور کانفرنسوں میں ہونے والے مطالبات ، دعووں اور وعدوں میں نہیں بلکہ اب انہیں عملی جامہ پہنانے میں پوشیدہ ہے۔‘‘ایک بہترین قوم کی تشکیل کے لئے اساتذہ کے مسائل کو سمجھنااور ان کے ازالے کو اولیت دینا ضروری ہے ۔
یوم اساتذہ جہاں اساتذہ کی تکریم کا احساس دلانے کا دن ہے وہیں یہ اس عزم کے اعادے کا بھی دن ہے کہ اگر ایک بہترین قوم کی تشکیل درکار ہے تو اساتذہ کے مسائل اور مشکلات کو سمجھتے ہوئے ان کے ازالے کو اولیت اور اس امر پر توجہ دی جائے کہ کنٹریکٹ سسٹم کو ختم کرتے ہوئے اساتذہ کو روزِ اول سے ہی مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا جائے۔ایک ایسا کمیشن تشکیل دیا جائے جو اساتذہ کی ملازمتوں کو محفوظ اور پرکشش بنانے ، ان کی تنخواہوں ، ترقیوں اور دیگر مراعات کے تعین کے لیے پالیسی سازی کرے ۔ اساتذہ کے لئے وسیع پیمانے پر پیشہ ورانہ تربیتی کورسز کا اہتمام کیا جائے کیونکہ ہمارا Human Development Index اس وقت ١٣١ویں نمبر پر ہے۔ لہٰذا اساتذہ کی فکری و پیشہ ورانہ ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی موثر تربیت کا ایک بڑا اور قابلِ عمل منصوبہ ترتیب دیا جائے ۔ شرح خواندگی میں اضافے کے لیے تشکیل دیئے جانے والے منصوبوں میں اساتذہ کو مدد اور معاونت میں شامل کیا جائے۔ ہر ڈویژن میں ٹیچر ٹریننگ اکیڈمی قائم کی جائے جو جدید تقاضوں کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت کی منصوبہ بندی کرے ، کورسز ڈیزائن کرے اور ماسٹر ٹرینرز تیار کرنے میں معاون ہو ۔تمام (سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے ) اساتذہ کو یکساں بنیادوں پر تحصیل اور ضلع کی سطح پر ریفریشر کورسز کی سہولیات مہیا کی جائیں ۔ ابلاغ کے جدید آلات کو اساتذہ کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے ۔ اساتذہ کو تعلیم اور تربیت کے مطابق بہتر گریڈ دیئے جائیں ۔مرد اساتذہ کو فنی تعلیم اور خواتین اساتذہ کو دستکاری کی خصوصی مہارات دلائی جائیں تاکہ نسلِ نو کی تربیت بھی ہنر مند ہاتھوں میں ہوسکے اور وہ تدریس کے ساتھ ساتھ قومی معاشی ترقی میں بھی کردار ادا کرسکیں ۔ہمارے دین نے بھی اساتذہ کی تکریم کو خصوصی اہمیت دی ہے ،لہٰذا اساتذہ کی تکریم میں اضافے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں ، انہیں وہ عزت و توقیر دی جائے جس کے وہ مستحق ہیں۔ اساتذہ کو وسائل کی فراہمی یقینی بناتے ہوئے سرکاری طور پر رہائش گاہیں فراہم کی جائیں اور ان کے بچوں کی تعلیم اور میڈیکل کے اخراجات کا بیڑہ حکومت اٹھائے ۔ ارباب اختیار اگر اساتذہ کی اُلجھنیں دور کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داری پر توجہ دے سکیںگے ۔ کیونکہ باتیں ، دعوے اور وعدے تو بہت ہوچکے،ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ،مگر یومِ تکریم اساتذہ منانے کا مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک اساتذہ کے مذکورہ مطالبات پورے نہ کئے جائیں ۔ اگر حکام بالا قوم کے معماروں کے ساتھ اپنے رویے درست کرلیں اور انہیں ان کا حق دیں تو یقینا ًوہ نہ صرف اِک نئی صبح کی تحریر لکھ پائیں گے ،جو وطن عزیز کی ترقی اور عروج کی صبح ہوگی بلکہ طلباءکے کردار کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دیں گے ۔ یہی ایک راستہ ہے جس سے ہم اپنے معیار تعلیم کی گرتی ہوئی ساکھ کو بھی بحال کرسکتے ہیںاور اپنے تباہ شدہ نظام تعلیم کو درست خطوط پر استوار کرکے ایک معیاری اور مثالی ڈھانچے کی جانب واپس لوٹ سکتے ہیں۔
(ماندوجن شوپیان کشمیر) [email protected]>