سرینگر//اپنے بیٹے کی رہائی کا پروانہ نہ لیکر جیل حکام کی جانب سے دوسرا سیفٹی ایکٹ ہاتھ میں تھما دینے کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے شوپیان کا بزرگ شہری ہمیشہ کے لئے بیٹے کی رہائی کا غم لئے اس دنیا سے رخصت ہوگیاہے۔واقعہ یوں ہے کہ وادی میں شروع ہوئی ایجی ٹیشن کے ابتدائی ایام میں منظور احمد بٹ ساکن ہرمین شوپیان پر سیفٹی ایکٹ عاید کر کے اسے کٹھوعہ جیل بھیج دیا گیا۔اسکے بعد منظور احمد کے والد غلام حسن نے اپنے اکلوتے بیٹے کی رہائی کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسکی رہائی کے احکامات حاصل کئے۔اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے چند روز بعد ہی منظور احمد رسوئی گیس لانے گھر سے بازار کی طرف نکلا تھا کہ اس دوران وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا ۔چند روز تک مقامی پولیس تھانے میں رہنے کے بعد اسے سیفٹی ایکٹ کے تحت کٹھوعہ جیل پہنچایا گیا ۔اس دوران والدین کی طرف سے شوپیان ضلع مجسٹریٹ کے سیفٹی ایکٹ آرڈر کو عدالت عالیہ میں چیلینج کیا گیا ۔افراد خانہ کے مطابق ان کی قانونی رہنمائی ایڈوکیٹ ناصر قادری نے کی تاہم وکلاء کی ہڑتال کے باعث منظور احمد کے بزرگ والد نے ہی ذاتی طور کیس کی پیروی کی ۔البتہ وہ عدالت سے اپنے بیٹے کی رہائی کے احکامات حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔چار کمسن بچیوں کا باپ اور اپنے بزرگ والدین کا اکلوتا بیٹا منظور احمد بٹ کی رہائی کا پروانہ لیکر غلام حسن بٹ کھٹوعہ جیل پہنچ گیا لیکن وہ اپنے بیٹے کی رہائی حاصل نہیں کرسکا۔بجائے اسکے جیل حکام نے منظور احمد پر دوسرا سیفٹی ایکٹ کا پروانہ والد کے ہاتھ میں تھما گئے۔وہ کافی دلبرداشہ ہوا اور واپسی کی راہ لی، لیکن گھر پہنچتے ہی وہ برین ہمریج کا شکار ہوا اور اسے انتہائی نازک حالت میں صدر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں وہ کچھ دن تک داخل ہونے کے بعد سنیچر کی صبح آخری ہچکی لیکر چل بسا۔وہ قریب ایک ہفتے تک موت و زندگی کی کشمکش میں رہا اور بالآخر زندگی کی جنگ ہار گیا۔