واشنگٹن// امریکی ریاست میری لینڈ اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جسے انہوں نے ایک بڑا مقدمہ قرار دیا۔ اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کا دراز ہوتا ہوا کاروباری سلسلہ مفادات کے تصادم کے ضمرے میں آتا ہے اور وہ امریکی آئین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔خواہ وہ فلک بوس عمارات اور گولف کے میدان ہوں یا وائن، اسٹیکس اورپرفیوم، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ کسی امریکی صدر کا نام اتنی بہت سی مصنوعات پر ہو۔ اگرچہ اس سلسلے نے ٹرمپ کو ایک بہت کامیاب کاروباری شخص بنانے میں مدد کی ہے تاہم اس نے انہیں ایک صدر کے طور پر مزید کمزور بھی بنا دیا ہے۔اس کا اظہار پیر کو اس وقت ہوا جب ریاست میری لینڈ اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیانے یہ دعویٰ کرتے ہوئے مسٹر ٹرمپ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا کہ وہ صدارت کو اپنی کاروباری سلسلے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ریاست میری لینڈ کے اٹارنی جنرل برائن فراش نے کہا کہ اس سے پہلے ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ امریکی لوگوں کو ہر روز یہ سوال کرنا پڑے کہ آیا فیصلے یا اقدامات امریکہ کے فائدے کے لیے کیے جا رہے ہیں یا صدر ٹرمپ کے فائدے کے لیے۔