مینڈھر//مینڈھر میں گوجر بکروال یوتھ ایسو سی ایشن نے ایک اجلاس منعقد کیاجس کی صدارت یوتھ ضلع جنرل سیکریٹری بشارت عظیم نے کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے حکومت سے اپیل کی کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے حال ہی میں نکالے گئے سرکولر میں ترمیم کی جائے اور گوجری ، پہاڑی و پنجابی زبانوں کو بھی نصاب میں شامل کیاجائے ۔بشارت عظیم نے کہا کہ کشمیری،ڈوگری اور بودھی زبان کو اسکولی نصاب میں شامل کیا گیا ہے جبکہ گوجری ،پہاڑی اور پنجابی زبانوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان زبانوں کو بھی نصاب میں شامل کرے۔بشارت عظیم نے کہا کہ یہ گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن کی جانب سے اٹھائے گئے اس معاملہ کی وہ بھرپور تائید کرتے ہیں اور اسد نعمانی نے جو مانگ رکھی ہے وہ جائز ہے جسے پورا کیاجاناچاہئے ۔انہوں نے کہا کہ50فیصد آبادی کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتااور اس معاملہ پر لیڈران کو آواز بلند کرنی چاہئے اور حکومت کو مجبور کیاجاناچاہئے کہ وہ ان زبانوں کے ساتھ بھی انصاف کرے ۔یوتھ صدر مینڈھر سکندر چوہدری نے حکومت اور محکمہ تعلیم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان زبانوں کو نظر انداز کیا جانا ایک سازش ہے جسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر وہ خاموش نہیں بیٹھیںگے اور وقت آنے پر آواز بلند کی جائے گی ۔انہوں نے ریاست کے گوجر ،پہاڑی اور پنجابی زبان بولنے والوں سے اپیل کی کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائیں اور مشترکہ جدوجہد کریں۔اس موقعہ پر مقصود احمد کالس،اجمل چوہدری ،الیاس چوہدری،رفعت چوہدری،فرید چوہدری،انعام الحق،ذوالفقار احمد،محمد جمیل ،آفتاب پسوال وغیرہ نے بھی اپنے اپنے خیالات کااظہار کیا ۔