پونچھ //ستمبر2014 کوآئے سیلاب کو لگ بھگ تین سال بیت گئے ہیں لیکن اس دوران متاثر ہونے والے لوگوں کی بازآبادکاری ابھی تک نہیں ہوپائی ہے اور نہ ہی سیلاب میں تباہ ہوئے پلوں کی مرمت کی گئی ہے۔پونچھ قصبہ میں اگر چہ دو سال کے طویل عرصہ کے بعد شیر کشمیر پل کی تعمیرمکمل کر کے اسے گاڑیوں کے لئے کو بحال کر دیا گیالیکن درنگلی نالہ، کلائی موٹر پل اور دلان جھولا پل کی تعمیرالتواء میں رکھی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو گوناگوں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوںکاکہناہے کہ ایک بہت بڑی آبادی ان پلوں کی تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے لیکن حکومت کوکوئی پرواہ ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ مالٹی دالان علاقوں میں تقریباً بیس ہزار آبادی پچھلے تین سال سے ایک جھولا پل کی تعمیر کا انتظار کر رہی ہے لیکن ان کو انصاف نہیں ملا۔انہوں نے کہاکہ تحصیل منڈی کے عوام پونچھ درنگلی نالہ پل کی تعمیرکا انتظار کر رہے ہیںجبکہ منڈی جموں رابطہ سڑک کا ایک اہم پل جو کہ کلائی میں تعمیر کیا جا رہا ہے،بھی تعمیر نہیں کیاجارہا ۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے جاوید اقبال ریشی نے الزام لگایا کہ پونچھ ضلع کے ساتھ ریاستی حکومت سوتیلی ماں جیسا رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔انہوں نے کہاکہ پونچھ کو ہر محاذ پر نظر انداز کیا جارہاہے اور ـ شائدمخلوط سرکار پونچھ کوہندوستان کا حصہ ہی مانتی ،یہی وجہ ہے کہ آزادی سے لیکر اب اس ضلع کی عوام کو انصاف نہیں ملا۔