پونچھ//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں امرناتھ یاتریوں پر حملے کے خلاف ہندو جماعتوں کی طرف سے دی گئی بند کی کال کا پونچھ قصبہ میں معمولی اثر دیکھاگیا۔اس دوران صبح سویرے پرانی پونچھ کی عوام کی جانب سے پرانی پونچھ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں لوگوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر اور مختلف قسم کی رکاوٹیں کھڑی کر کے ہر قسم کی گاڑیوں کے چلنے پر قدغن لگایا۔ مظاہرین نے پاکستان مردہ باد، دہشت گردی کو ختم کرو اورریاست جموں و کشمیر میںگورنر راج قائم کرو جیسے نعرے بلندکئے۔بس اڈہ پونچھ پر بجرنگ دل، ویشو ہندو پریشد،آر ایس ایس اور سناتن دھرم سبھا پونچھ کی جانب سے احتجاج کیا گیا جہاں بھی لوگوں نے ٹائر جلا کر اور گاڑیوں کو بند کر کے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا۔واضح رہے کہ پونچھ میں بیوپار منڈل کی جانب سے بند کال کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس دوران تمام دوکانداروں نے دکانیں بند نہیں کیں ۔ بس اڈہ پونچھ اور پرانی پونچھ میں احتجاج کایہ سلسلہ تقریبا ًبارہ بجے تک جاری رہا جس کے بعد تمام تنظیموں کی جانب سے گیتا بھون پونچھ میں پر امن احتجاج کیا گیا ۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ مخلوط سرکار کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر پارہی۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ جموں و کشمیر میں گورنر راج لاگو کیاجائے۔احتجاج کے دوران ہندورہنمائوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قتل عام ہونے پر بھی کچھ لوگوں نے بند کال پر لبیک نہیں کہا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں کڑے اقدام اٹھاکر حملہ کرنے والے دہشت گروں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ پونچھ کے ادبی، سماجی، سیاسی حلقوں نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے ۔دریں اثناء جموں پونچھ اور مغل شاہراہ پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت بند کئے جانے کی وجہ سے مسافروں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ خصوصی طور پر ان مریضوں کو جنہیں اپنے علاج معالجہ کے لئے جموں یا کشمیرجانا تھا ،کو کئی طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس سلسلہ میں پونچھ کے ایک شہری نے کہا کہ کشمیر میں ہوئے سانحہ کی مذمت کرنا اوراس اقدام میں شامل لوگوں کے خلاف برہمی کا اظہار کرنا ہر ایک کا فرض ہے لیکن ان مظاہروں کے دوران مریضو ںاور دیگر مسافروں کا بھی خیال رکھاناچاہئے جن کا سفر کرنا ضروری ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بند کال کی وجہ سے کئی مریض جن کا جموں پہنچنا بہت ضروری تھا ،آگے نہیں جاسکے ۔