کوٹرنکہ// گوجری اور پہاڑی زبانوں کوسکولی نصاب میں شامل نہ کرنے پر پیر پنچال کے دونوں طبقوں کے لوگوں میں سخت مایوسی اور غم وغصہ پایاجارہاہے ۔موجودہ حکومت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کوٹرنکہ یوتھ نے دو ٹوک الفاظ میں حکومت اورپہاڑی و گوجر لیڈروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد دونوں زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل کرایاجائے نہیں تو اس کا خمیازہ انہیں آنے والے وقت میں بھگتناپڑے گا۔کوٹرنکہ یوتھ نے ایک پریس کانفرنس منعقد کی جس دوران اسحق لون نے کہا کہ اگر حکومت اپنے حکمنا مے میں ترمیم کرکے گوجری اور پہاڑی زبانوں کو شامل نہیں کرے گی تودونوں طبقوں کے عوام ریاست گیر احتجاج شروع کردیںگے ۔وجاہت چوہدری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بہت بڑی آبادی پہاڑی اور گوجری زبان بولنے والوں کی ہے جن کو موجودہ حکومت نے نظرانداز کردیاہے ۔انہوںنے کہاکہ اس حوالے سے پہاڑی اور گوجر لیڈران کی خاموشی بھی پریشان کن ہے جنہوںنے اس معاملے پر ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں بولا ۔اس موقعہ پر انجینئر سجاد اقبال نے کہا سرکار کو چاہیے کہ وہ تمام طبقوں کو ایک نظر سے دیکھے اوراگر گوجری وپہاڑی زبانوں کو سکولی نصاب میں شامل نہیں کیا گیا تو دونوں طبقوں کے لوگ سڑکوں پر نکل کر سخت احتجاج کریں گے۔ کوٹرنکہ یوتھ نے دونوں طبقوں کے لیڈروں کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ گوجر اور پہاڑی لیڈروں کی زبان کو سانپ سونگ گیا ہے اورکسی بھی نمائندے نے یہ تک پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ گوجری وپہاڑی کو نصاب میں کیوں کر شامل نہیں کیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ لیڈران کو اپنی کرسی کی فکر ہے اور انہیں زبانوں و تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اس موقعہ پر بشارت راتھر ،عجاز راتھر، دلشاد دلبر ،عبدالرحمن چوہدری وغیرہ بھی موجود تھے ۔