کوٹرنکہ//پہاڑی اور گوجری زبانوں کو نصاب میں شامل کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کوٹرنکہ کے کانگریس کارکنان نے کہاہے کہ ذات پات کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے والے اور بڑی بڑی باتیں کرنے والے اب کہاں چھپ گئے ہیں ۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر راج محمد ،یوتھ جنرل سیکریٹری بشارت راتھر، الطاف چوہدری اورعارف راتھر نے کہاکہ پیر پنچال خطے کی گوجر اور پہاڑی عوام نے مخلوط سرکارکو بھاری اکثریت دی تاہم نہ ہی حکومت ان دونوں طبقوں سے انصاف کرپائی اور نہ ہی منتخب نمائندوں نے لوگوں کے ووٹ کو یاد رکھا۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے ڈوگری ، کشمیری ، بدھی اور پنجابی زبانوں کو تونصاب میں شامل کرلیاہے لیکن نہ جانے پہاڑی اور گوجری زبانوں کو کس بنیاد پر نظرانداز کیاگیاہے ۔ان کاکہناتھاکہ وہ سرکارپر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اب ٹال مٹول اور خاموشی سے کام نہیں چلے گابلکہ ونوں طبقوں کی زبانوں کو نصاب میں شامل کرانے کیلئے جدوجہد کی جائے گی ۔انہوںنے کہاکہ حکومت اپنے فیصلے میں ترمیم کرے اور ان دونوں زبانوں کو بھی نصاب میں شامل کیاجائے نہیں تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گاجس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔